لکھنؤ: 21 مارچ (پریس رلیز) امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے دفتر میں جشن نوروز کے موقع پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں غریب کمزوروں کو ضرورریات کی چیزیں دیتے ہوئے محمد آفاق کے ساتھ مولانا علی حسین قمی نے کہا کہ آج اہل شیعہ کے یہاںنوروز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس موقع پر تمام اہل شیعہ اچھے کام کرنے اور اچھے الفاظ کہنے کے لیے اسے ایک اہم دن مانتے ہیں۔ لوگ اپنے گھر صاف کرتے ہیں۔ نئے کپڑے خریدتے ہیں اور اس تہوار پر اپنے خاندان اور دوستوں اور امن پسند لوگوں کے لیے متعدد انواع و اقسام کے کھانے پکاتے ہیں، اور ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔پوری دنیا میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ یہ تیوہار منایاجاتا ہے ۔اسی دن ایرانی نیا سال بھی منایا جاتا ہے۔ جو موسم بہار کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں مختلف پارسی برادریوں میں بڑے جوش و خروش اور اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لفظ ’نو‘ کا مطلب نیا اور ’روز‘ کا مطلب ہے دن، جس کا ترجمہ ’نیا دن‘ ہے۔ نوروز شمسی ہجری کیلنڈر کے پہلے مہینے فروردین (Farvardin) کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے اور عام طور پر عالمی سطح پر 20 یا 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔مولانا نے کہا کہ اس دن کو اچھے کام کرنے اور اچھے الفاظ کہنے کے لیے ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے۔ نوروز کے کچھ روایتی پکوانوں میں پترا نی مچی، اکوری، فلودہ، دھنسک، راوو، سالی بوٹی، زعفران پلاؤ شامل ہیں۔آخر میںمولانا قمی نے طلباء و طالبات کو انعامات سے نوازتے ہوئے کہا کہ شیعہ ؤں کو خاص طور سے شیعان علی کہا جاتا ہے اور علی کی محبت رسول کی محبت سے دیکھا جا سکتا ہے اس لئے ہم اہل بیت کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اہل بیت ؑ کا پیغام پوری دنیا میں پہونچائیں۔












