ٹونک، ’یونانی میڈیسن ڈے‘ کے سلسلے میں گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج (یونیورسٹی کالج آف یونانی- ٹونک) میں ایک نیشنل سمینار بعنوان ’طب یونانی کا مستقبل‘ منعقد ہوا۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس آر کے راجستھان آیوروید یونیورسٹی، جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر پردیپ کمار پرجاپتی نے کہا کہ بھارت میں آزادی کے بعد راجستھان کا یہ پہلا گورنمنٹ کالج ہے، ہم اس کو ماڈل کالج بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سال ہمارا پہلا اَنڈر گریجویٹ بیچ فارغ ہوا اور 2024-25 میں یہاں پوسٹ گریجویٹ (ایم ڈی یونانی) اور پی ایچ ڈی کا کورس شروع کردیں گے۔ ابھی اس کالج میں بہت سی ضرورتیں ہیں جس کو ہمیں پورا کرنا ہے لیکن موجودہ حکومت ہمیں بھرپور تعاون دے رہی ہے، ہم اُمید کرتے ہیں کہ جو کمیاں رہ گئی ہیں اسے ہم پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کالج میں ابھی زیادہ تر اساتذہ مستقل نہیں ہیں لیکن ہم نے مستقل اساتذہ کے تقرر کے لیے کوشش شروع کردی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کا یہ پروگرام ’یونانی میڈیسن ڈے‘ ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کی مناسبت سے مذکورہ یونیورسٹی کے تحت پہلی بار منعقد کیا گیا ہے اور حکیم اجمل خاں بھارت میں یونانی آیوروید کی تعلیم، ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے والی بے مثال شخصیت تھے، ہمیں ان پر فخر ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی پدم شری پروفیسر سیّد ظل الرحمن نے کہا کہ طب یونانی کی تاریخ علاج و معالجہ کے حوالے سے سب سے پرانی اور بہت روشن ہے۔ طب یونانی ایک سائنس اور کلچر ہے اور یہ فن اپنی امتیازی شان رکھتا ہے نیز یہ گلوبل سسٹم ہے کیونکہ جب ہم اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بہت پرانی اور پورے عالم میں پھیلا ہوا طریقہ علاج ہے۔ اس موقع پر پروفیسر محمد ادریس (سابق پرنسپل، اے اینڈ یو طبیہ کالج، نئی دہلی) نے طلبا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ طب یونانی کا مستقبل بہت روشن ہے۔ حکومت کی سطح پر آیوروید کی طرح ہمیں بھی تمام مراعات حاصل ہیں۔ سرکاری نوکریوں کے علاوہ اپنے کلینک قائم کرنے پر توجہ دی جائے اور اس میں بڑی ترقی کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخ کالج میں حکومت راجستھان نے بہت تیزی سے کام کیا لیکن ہربل گارڈن، اسپورٹس کمپلیکس اور فارمیسی کو ڈیولپ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بطور مہمان اعزازی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ طبیہ کالجز میں نئے داخلوں میں سیٹیں خالی رہنے کی وجہ، داخلہ میں NEET کی پابندی اور اس کی پیچیدگیاں ہیں۔لہٰذا NCISM کو چاہیے کہ وہ AYUSH NEET الگ سے کرائے جیسا کہ بھارت سرکار نے نومبر 2014 میں آیوروید، یونانی، یوگا، سدھا اور ہومیوپیتھی وغیرہ طریقہ علاج کے لیے الگ سے وزارت قائم کرکے اس کی اہمیت واضح کردی ہے اور NCISM کے تحت دیسی طبی تعلیم کو فروغ دینے کی ذمہ داری سونپی ہے جبکہ ڈاکٹر ایس آر کے راجستھان آیوروید یونیورسٹی، جودھپور کے ڈین فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر محمد شعیب اعظمی نے طبیہ کالج کے اساتذہ کے حوالے سے کہا کہ ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں لہٰذا انہیں UGC کے مطابق تنخواہیں دی جائیں۔












