نئی دہلی13 مارچ
شعیب رضا فاطمی
ہندوستان مسلمانوں پر 2024سے پہلے ایک اور قہر ٹوٹنے والا ہے۔بہت سے مسلمانوں اور ملی تنظیموں کے سربراہوں کی یہ خوش فہمی دور ہونے والی ہے کہ بابری مسجد ،دفعہ 370 اور تین طلاق کا قانون لانے کے بعد اب مسلمانوں پر کوئی بڑا حملہ ہونے کی گنجائش نہیں ہے اور شاید اسی لئے ان زِخموں پر کھرنڈ جمتے ہی کچھ لوگ آر ایس ایس سربراہ سے گفت و شنید کرکے انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرنے میں لگ گئے کہ دیکھا ہماری گرفت مسلمانوں پر اتنی سخت ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو کبھی سڑکوں پر اترنے نہیں دیا ۔اور انہیں صبر کا کیپسول کھلاتے رہے۔لہذا ہمیں اپنے گڈ بک میں شامل کر لیں ۔اور حکومتی عہدوں سے نواز دیں۔انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس فاششٹ حکومت کی آستینوں میں ابھی لاتعدا بجلیاں پوشیدہ ہیں ۔خبر ہے کہ مرکزی حکومت نے وقف بورڈ کی جانب سے دعویٰ کیئے گئے 123 جائیدادوں پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت ہند کی ہیں، اس لیے انہیں ضبط کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ان کی ملکیت پہلے ہی سے حکومت ہند کے پاس ہے۔
ان جائدادوں میں سے 61 لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس اور 62 دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہیں۔
ان 123 جائیدادوں میں سے 61 مساجد ہیں، باقی میں قبرستان، درگاہیں اور مزارات شامل ہیں۔چشم کشا خبر یہ بھی ہے کہ ڈی نوٹیفائیڈ وقف املاک کے موضوع پر دو رکنی کمیٹی کے سامنے نہ تو دہلی وقف بورڈ کی طرف سے نہ تو کوئی نمائندہ پیش ہوا ہے اور نہ دہلی وقف بورڈ نے کمیٹی کے سامنے اپنا اعتراض درج کرایا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند زیر غور تمام 123 جائیدادیں حاصل کرے گی۔کیونکہ یہ سرکاری املاک ہیں۔
حالانکہ حکومت کے سامنے فی الحال ان جائیدادوں کو دوسرے مقاصد کے لیے مختص کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
واضح ہو کہ دہلی وقف بورڈ نے ان جائیدادوں کی ملکیت کو لے کر دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور ان کی سماعت 15 مارچ کو ہےلیکن سرکار کا موقف بالکل واضح ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 80 کی دہائی میں کانگریس کی حکومت کے دوران یہ جائیدادیں دہلی وقف بورڈ کو 1 روپے کی سالانہ شرح پر لیز پر دی گئی تھیں۔ اور اسی وقت وشو ہندو پریشد نے کورٹ سے ان جائدادوں پر اسٹے لے لیا تھا جو 30 سال تک جاری رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جائیدادیں اسی وقت مسلمانوں کو واپس کر دی جاتیں تو ایسا نہ ہوتا۔ یہ نوٹیفکیشن کانگریس حکومت کے عروج کے دور کا ہے جب مسز اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں جو جنتا پارٹی سرکار کو شکست دے کر سرکار میں آئی تھیں اور ملک کی سب سے بڑی تنظیم کے سربراہ اور مسز گاندھی کی گاڑھی چھنتی تھی ۔اور کانگریس اس تنظیم کی پسندیدہ پارٹی تھی ۔
دہلی وقف بورڈ بھی اس پورے معاملے پر ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ یہ جائیدادیں کہیں نہیں جا رہی ہیں۔ جب کہ وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار نے جو اس کیس کو دیکھ رہے ہیں نے کہا کہ تقریباً 40 سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد ہم نے تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کی 123 جائیدادوں کو دہلی وقف بورڈ کے غیر قانونی طور پر قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔یعنی بھینس گئی پانی میں۔
کیا آر ایس ایس اور مسلمانوں کے درمیان پل بنانے کا ٹھیکہ لینے والے نام نہاد مسلم دانشورجو مناقشے کی جگہ مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں اور موہن بھاگوت کو خدا نہیں تو اس کا نمائندہ ضرور تصور کرچکے ہیں اس معاملے میں بھی ان سے کوئی میٹنگ کرینگے ؟












