نئی دہلی ، دہلی وقف بورڈ کی 123 پراپرٹیز اب اس کے ہاتھ سے پھسلتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہیں۔ دہلی میں سب سے بیش قیمتی اربوں اور کھربوں روپے کی ملکیت وقف بورڈ کے ہاتھ سے نکل جائے گی؟ وزارت برائے شہری ترقی کی طرف سے دہلی وقف بورڈ کو اس سلسلے میں آرڈر بھیج دیا گیا ہے۔اس معاملے میں مشہور وکیل علی مہدی نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دہلی وقف بورڈ نے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ویڈیو میں کہا جا رہا ہے کہ ”حکومت ہند نے ایک نوٹس (وقف بورڈ کی) 123 پراپرٹیز پر چپکایا ہے اور چیئرمین وقف بورڈ دہلی کے نام پر یہ نوٹس ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم نے دو ممبر کمیٹی ہائی کورٹ کے کہنے سے بنائی تھی، اور اس دو ممبر کمیٹی نے سب لوگوں کو اپنی بات رکھنے کے لیے بلایا تھا، لیکن دہلی وقف بورڈ نہیں پہنچا، اس نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور کوئی اعتراض بھی ظاہر نہیں کیا۔
“ویڈیو میں آگے کہا گیا ہے کہ ”کانگریس حکومت میں 2014 میں جو 123 پراپرٹیز وقف بورڈ کے حوالے کی گئی تھی، (تازہ نوٹس) پر کوئی اعتراض نہ کر کے ان کو پوری طرح سے دہلی وقف بورڈ نے واپس حکومت کو ہی دے دیا۔“ ویڈیو میں دہلی وقف بورڈ اور اس کے چیئرمین امانت اللہ خان کو کٹہرے میں بھی کھڑا کیا گیا ہے۔علی مہدی نے بتایا کہ اس معاملے پر ہمارے سینئر وکیل سلمان خورشید کی قیادت میں ہم سبھی عدالت جا ئیںگے تاکہ اسٹے آرڈر لیا جا سکے۔
دوسری جانب دہلی وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے کہا کہ وزارت برائے شہری ترقیات کو ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اس کے خلاف ہم کورٹ جائیں گے انہوںنے دعوی کیا کہ یہ محض ایک نوٹس ہے ۔سوالیہ لہجہ اپناتے ہوئے امانت اللہ خان نے کہا کہ کیا اس طرح کے نوٹس سے کسی مسجد کو منہدم کیا جاسکتا ہے یہ ممکن نہیں ہے ۔ کیوںکہ وقف کی گئی پراپرٹی پر حکومت کا قبضہ یا اختیار نہیں ہوسکتا ہے مرکزی حکومت کتنی بھی کوشش کرلے لیکن دہلی وقف بورڈ کی ایک انچ بھی جگہ اس کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ انہوںنے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کوآج بھی دہلی میں ہونے والے میئر اورڈپٹی میئر کے الیکشن میں شکست ہوئی ہے اور سپریم کورٹ نے پھٹکار لگائی ہے ۔مجھے امید ہے کہ وقف بورڈ کے معاملے پر عدالت انصاف کرے گی۔












