بلا شبہ، ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس اس وقت نہایت مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔ انتخاب در انتخاب اس کا دائرہ مسلسل سمٹتا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب انتخابی محاذ پر بھی کانگریس کے لیے گزرا ہوا سال مایوس کن ہی ثابت ہوا ہے ۔ دہلی اور بہار کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ حالانکہ پارٹی نے ‘ووٹ چوری’ کی مہم کو ایک بڑا انتخابی مسئلہ بنانے کی بھرپور کوشش کی، کئی سیٹوں پر ہوئی فرضی ووٹنگ کے ثبوت بھی پیش کئے ۔ اس سے قبل کانگریس نے ای وی ایم کے خلاف مہم چلائی تھی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے تھے ۔ الیکٹرانک مشینوں میں گڑ بڑی ممکن ہے لیکن اسے ثابت نہیں کیا جا سکا ۔ ووٹ چوری یا ایس آئی آر میں کاٹے گئے ووٹوں کے بارے میں الیکشن کمیشن ابھی تک کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا ۔ مگر جن لوگوں کے ووٹ کٹے وہ لوگ بھی سڑکوں پر نہیں آ سکے ۔ اس کے خلاف کوئی ملک گیر احتجاج نہیں ہوا، کم از کم ان ریاستوں میں تو آندولن ہونا ہی چاہئے تھا جہاں ایس آئی آر ہوا یا ہو رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ اس مدے کے ساتھ نہیں جڑ سکے ۔ بلکہ اس مسئلے پر انڈیا اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کو بھی کوئی مثبت ردِعمل حاصل نہ ہو سکا ۔
کانگریس کے لیے 2026ء نئے چیلنجز لے کر آیا ہے ۔ اس سال آسام، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ مہاراشٹر، یوپی اور کئی ریاستوں میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں ۔ ممبئی میں بی ایم سی کا الیکشن ہو رہا ہے ۔ اس صورتِ حال میں کانگریس پارٹی کے 140ویں یومِ تاسیس کے موقع پر سی ڈبلو سی میں پارٹی اعلیٰ قیادت کا اعتماد سے بھرپور رویہ فطری ہی کہا جائے گا ۔ اس موقع پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ‘کانگریس محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ بھارت کی روح کی آواز ہے، جو ہمیشہ ہر کمزور، محروم اور محنت کش فرد کے مفادات کے لیے کھڑی رہی ہے۔ اسی دوران کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے اعلان کیا کہ کانگریس ایک نظریے کا نام ہے اور نظریات کبھی مرتے نہیں۔ ہمارے سامنے مہاتما گاندھی اس کی زندہ مثال ہیں ۔ جنہیں ہر روز مارنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ان کے نظریات ہر روز زندہ ہوکر سامنے کھڑے دکھائی دیتے اور حالات کا مقابلہ کرنے میں رہنمائی کرتے ہیں ۔
راہل گاندھی کی سرگرم جدوجہد کے باوجود کانگریس کا بحران دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔ کیونکہ پارٹی میں اعلیٰ قیادت کے خیالات زمینی سطح تک پہنچانے کا یا تو نظام نہیں ہے یا پھر کمزور ہو چکا ہے ۔ پہلے تنظیمی ڈھانچہ اور سیوا دل مل کر یہ کام کرتے تھے ۔ اب تنظیمی اکائیاں غیر فعال اور سیوا دل براے نام ہے ۔ اس کی وجہ سے پارٹی میں عدم اطمینان کی آہٹیں صاف سنائی دے رہی ہیں ۔ جی 23 میں شامل کانگریس کے سینئر لیڈران نے بھی تنظیم کو مضبوط کرنے کا سوال اٹھایا تھا ۔ حالانکہ انہوں نے تنظیم کی مضبوطی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ سینئر لیڈر ششی تھرور رہ رہ کر عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہتے ہیں، حال میں کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے زمینی سطح پر کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنے کی ضرورت پرزور دیا ۔ اگر غور کیا جائے تو وقتاً فوقتاً کانگریس تنظیم سے اعلیٰ سطح پر گہرے طور پر وابستہ رہے قدآور رہنماؤں کے پارٹی لائن سے ہٹ کر دیے گئے بیانات پارٹی کے لیے غیر آرام دہ صورتِ حال پیدا کرتے رہے ہیں ۔ جب کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط تنظیمی حکمتِ عملی کی تعریف کرتے ہوئے ٹوئٹر پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک پرانی تصویر شیئر کی تو سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچ گئی ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی تنظیمی طاقت سے متعلق یہ حیران کن بیان عوامی بحث کا حصہ بنا، تو ان خیالات کے تئیں ششی تھرور کی محتاط تائید بھی سامنے آئی ۔ یقیناً اس کا عام کارکن پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا ہوگا ۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ چیلنجز کے درمیان کانگریس پارٹی کو تنظیمی قوت کی از سرِ نو تعمیر کے معاملے میں غور و خوص کی ضرورت ہے ۔ یہاں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تنظیم کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ مشترکہ کوششوں سے آگے بڑھتی اور مضبوط ہوتی ہے ۔
کانگریس اکثر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ تاریخ، اقدار اور نظریہ اس کا بنیادی سرمایہ ہے ۔ اس سرمائے کو انتخابی فائدے میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار بیان بازی سے کم اور پارٹی میں اصلاحات، تنظیم کی از سرِ نو تشکیل اور عوام سے مؤثر انداز میں دوبارہ جڑنے کی صلاحیت پر زیادہ ہے ۔ ایسے وقت میں جب سیاسی منظرنامے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی یک طرفہ بالادستی قائم ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ ہر میدان میں اس کا غلبہ ہے، بی جے پی نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کانگریس ‘چاپلوسوں کی فوج’ ہے اور اسے بھارتی جمہوریت کی ‘سب سے کمزور کڑی’ قرار دیا ہے۔ بلا شبہ یہ تنقید، جو بڑی حد تک حقیقت کے قریب ہے، کانگریس کو خود احتسابی اور موجودہ صورتِ حال میں تبدیلی لانے کی ترغیب دیتی ہے ۔ بلا شبہ راہل گاندھی بہت محنت کرتے ہیں، بی جے پی، آر ایس ایس پر جارحانہ حملے کرتے ہیں، سماج کے الگ الگ طبقات کسان، خواتین، ٹرک ڈرائیور، ماہی گیر، طلبہ، ریستوراں کے کارکنوں اور نوجوانوں سے ملتے ہیں لیکن اپنے کارکنوں سے ملنے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔ اسی طرح پارٹی کو جب سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کسی غیر ملکی سفر پر ہوتے ہیں ۔ راہل کے پیچھے ان کی کوششوں کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ سے ان پر سیاسی سیاحت کا الزام لگتا ہے ۔ راہل گاندھی کی شبیہ سیاسی رہنما کی تو بنی ہے لیکن وہ تمام کوششوں کے باوجود نریندرمودی کا نعم البدل نہیں بن پا رہے ہیں۔
بی جے پی جوڑی میں کام کرنے کے فارمولے پر چلتی ہے ۔ پہلے اٹل اڈوانی کی جوڑی تھی اب مودی شاہ کی جوڑی ہے ۔ راجناتھ سنگھ ان کے معاون ہیں ۔ کانگریس کے ایک سو چالیسویں یوم تاسیس پر پارٹی میں بدلاؤ کی سگ بگاوٹ سنائی دی ۔ مانا جا رہا ہے کہ پرینکا گاندھی کو پارٹی میں کوئی بڑی ذمہ داری مل سکتی ہے ۔ پرینکا گاندھی نے انتخابی میٹنگوں اور پارلیمنٹ میں اپنی گفتگو سے سب کو متاثر کیا ہے ۔ وہ پارٹی میں راہل کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں ۔ جانکاروں کا خیال ہے کہ پرینکا گاندھی کو ایگزیکٹو صدر بنایا جا سکتا ہے جیسے بی جے پی میں نتن نبین ہیں ۔ پرینکا کو اس کے ساتھ الیکشن مینجمنٹ اور پارٹی کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری مل سکتی ہے ۔ یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ کیرالہ انتخابات کے بعد تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال کی جگہ یہ ذمہ داری اشوک گہلوت کو مل سکتی ہے ۔ خبروں کی مانیں تو آنے والے دنوں میں مینکا اور ورون گاندھی اگر کانگریس کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اس سے کانگریس کے اور مضبوط ہونے کی امید ہے ۔ ورون اچھے مقرر ہیں اور اتر پردیش میں زمینی سطح پر ان کی پکڑ ہے ۔ ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے ایک ساتھ آنے سے گاندھی خاندان کے متحد ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنے ایک سو چالیس سالہ سفر میں کانگریس ایک نہایت چیلنجنگ موڑ پر کھڑی ہے ۔ ایسے میں اس پارٹی کا احیا بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن کے امکانات کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی نئے سال میں نئے انداز اور نئے حوصلے کے ساتھ عوام کی عدالت میں پیش ہوگی ۔ کانگریس میں تبدیلی کے جو امکانات پیدا ہو رہے ہیں اگر وہ ویسے ہی ہو گئے تو یہ نہ صرف اپوزیشن بلکہ ملک اور جمہوریت کے حق میں اچھی پہل ہوگی ۔












