چھ ماہ قبل دو ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی۔ کرناٹک میں جیت کے ساتھ اب کانگریس کی چار ریاستوں میں حکومتیں ہیں۔ تین دیگر ریاستوں میں کانگریس کانگریس اتحاد کا حصہ ہے۔ پانچ ماہ قبل ہماچل پردیش میں کانگریس نے حکومت بنائی تھی۔ اس سے پہلے پنجاب میں اقتدار کھونے کے بعد چھتیس گڑھ اور راجستھان کی کرسی پارٹی کے پاس رہ گئی تھی۔ان چاروں سمیت کانگریس اب ملک کی سات ریاستوں میں برسراقتدار ہے۔ جھارکھنڈ، بہار اور تمل ناڈو میں بھی کانگریس اقتدار کا حصہ ہے ۔ان ریاستوں میں ملک کی مجموعی آبادی کے صرف 30۰94 فیصد لوگ رہتے ہیں ۔دوسری طرف اب ملک کی پندرہ ریاستوں میں بی جے پی برسر اقتدار ہے ۔جہاں 44۰35فیصد لو رہتے ہیں ۔گذشتہ برس دسمبر میں دو ریاستوں گجرات اور ہماچل میں اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے جس میں گجرات میں تو بی جے پی نے اپنی کرسی بچا لی لیکن ہماچل پردیش میں کانگریس نے بی جے پی سے اقتدار چھین لیا ۔اس کے پہلے بہار میں جے ڈی یو نے بی جے پی سے اتحاد توڑ کر راشٹریہ جنتا دل میں شمولیت اختیار کر لی تھی جس اتحاد میں بھی کانگریس شامل ہے ۔اور بی جے پی اقتدار سے باہر ہو گئی ۔یعنی ایک سال کے اندر بی جے پی کے ہاتھوں سے تین ریاستیں نکل گئیں ۔اس سال مارچ میں تین شمال مشرقی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ تینوں میں بی جے پی اتحاد اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہی ۔ ناگالینڈ میں اتحادی این ڈی پی پی اور میگھالیہ میں حکمراں این پی پی کے ساتھ۔
بی جے پی نے اپنے بل پر صرف تریپورہ میں اقتدار میں واپسی کی۔ مجموعی طور پر تینوں ریاستوں میں این ڈی اےاس سال مارچ میں تین شمال مشرقی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ تینوں میں بی جے پی اتحاد اپنی حکومت بچانے میں تو کامیاب رہی لیکن اتحادی کی طرح بی جے پی نے ناگالینڈ میں اتحادی این ڈی پی پی اور میگھالیہ میں حکمراں این پی پی کے ساتھ اتحاد میں ہے۔ اکیلے اس نے صرف تریپورہ میں اقتدار میں واپسی کی۔ ابھی بی جے پی کے سامنے چھتیس گڈھ ،مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت میزورم میں بھی اسمبلی کا انتخاب ہوناہے ۔ اور بی جے پی کو اس میں اپنی ساکھ بچانی ہے جبکہ کانگریس کو اپنی زمین حاصل کرنی ہے جو کبھی اسکی تھی ۔واضح ہو کہ 2024 میں لوک سبھا کا انتخاب بھی ہونا ہے اور سات ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہوں گے۔ ان میں سکم، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، اوڑیسہ، ہریانہ، مہاراشٹر، جھارکھنڈ شامل ہیں۔ اس وقت ہریانہ، اروناچل پردیش، سکم، مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ اوڑیسہ میں بی جے ڈی، آندھرا پردیش میں وائی ایس آر سی پی۔ ان انتخابات میں بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ جہاں حکومت میں ہے وہاں اسے برقرار رکھنا اور جہاں اپوزیشن میں ہے وہاں جیتنا ہے۔ کانگریس کے لیے کرناٹک جیتنا اس کی بقا کے لیے بہت ضروری تھا۔
کرناٹک میں اقتدار ملنے سے کانگریس کو 2024 کے عام انتخابات کے لیے حکمت عملی بنانے کے نقطہ نظر سے بھی فائدہ ہوگا۔ کرناٹک میں اس جیت کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کانگریس نے ایک بار پھر انتخابی میدان میں واپسی کی ہے۔لیکن اسے یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ اس نے کرناٹک انتخابی مرحلے میں وہاں کے لوگوں سے جو وعدے کئے ہیں اس کو عمل میں بھی لائے ۔کیونکہ آنے والے وقت میں اسے مختلف ریاستوں سمیت پورے ملک کو اپنی کارکردگی کا نمونہ دکھانا ہوگا ۔کرناٹک میں اگر لوگوں نے کانگریس پر اعتماد کیا ہے اور اسے ریکارڈ ووٹوں سے کامیاب بنایا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بی جے پی نے عوام کو صرف وعدوں کے کھلونے دئے اور پوری ریاست میں بد عنوانی کے شو روم کھول دئے ۔اور کانگریس کی نو منتخبہ سرکار کو عوامی ضروریات اور ان کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا ۔












