اسرائیل:اسرائیلی وزارت دفاع گیلنٹ نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر متفق ہیں لیکن چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے یہ بیان مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی سفیر بریٹ میک گرک سے ملاقات کے بعد دیا۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے منگل کی شام ہونے والی ملاقات کے بارے میں ایک بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے غزہ میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی واپسی پر ایک معاہدے تک پہنچنے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ گیلنٹ اور میک گرک نے ان چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا جو اس طرح کے معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اب بھی موجود ہیں۔ دونوں نے ان چیلنجز ان کا مقابلہ کرنے کے ممکنہ حل پر بھی بات چیت کی۔
وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ گیلنٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کھولنے کی حمایت کرتا ہے لیکن حماس کو خطے میں واپس آنے کی اجازت نہیں دے گا۔واضح رہے مصر اور قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان نو ماہ سے جاری جنگ میں ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ لڑائی کے خاتمے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے غزہ میں یرغمال اسرائیلیوں کو رہا کیا جا سکے۔ حماس نے گزشتہ ہفتے رعایتیں دی تھیں لیکن کہا تھا کہ پیر کو غزہ پر ایک نئے اسرائیلی حملے نے ایک اہم لمحے میں جنگ بندی کے مذاکرات کو پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ادھر مصری ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ السیسی نے مصری موقف کی توثیق کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کو مسترد کر دیا۔ السیسی نے منگل کو سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس کے ساتھ ملاقات میں غزہ کے تنازع کو وسیع علاقے تک پھیلنے سے روکنے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کے مشرق میں واقع قصبے شجاعیہ میں اپنا آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ فوج کے مطابق شجاعیہ میں دو ہفتے قبل تشدد پھوٹنے پر آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے اس جنگی مہم کے دوران شجاعیہ سے فوج نے آٹھ زیر زمین سرنگوں کو تباہ کیا ہے۔ جبکہ درجنوں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ نیز بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی تباہ کی ہیں۔
شجاعیہ میں اسرائیلی فوج کے ایلیٹ یونٹس کی مدد سے شروع کیا گیا تھا، پیر کے روز غزہ شہر کے مرکز تک پھیل گیا تھا۔ شہری دفاع کے لیے غزہ میں ترجمان محمود بسال نے کہا ہے ‘ اسرائیلی فوج شہری انفراسٹرکچر اور شہریوں کی رہائش گاہوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں سے ہونے والی تباہی کے نتیجے ایک بھوت شہر کا روپ دھار گیاہے۔
شہری دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے ‘ہم نے عالمی برادری کو لاکھوں بار کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر تباہی المناک ہے اور انسانی المیہ کا باعث ہے۔انسانی حقوق کے اداروں کواس کا لازماً نوٹس لینا چاہیے۔
خیال رہے اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز غزہ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں لیف لیٹ پھینکے جن میں فلسطینی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شہر سے نکل جائیں اور شہر خالی کر جائیں۔












