دیوبند، 23؍ مئی ،سماج نیوز سروس:اس وقت ملک میں تبدیلی کی ہوا چل رہی اور ماحول بی جے پی حکومت کے خلاف ہے، پانچ مراحل کی ووٹنگ سے صاف ظاہر ہورہاہے کہ بی جے پی کا اقتدار سے باہر ہونا طے ہے، پی ایم مودی بھلے ہی 400؍ پار کی بات کررہے ہوں لیکن درحقیقت اس مرتبہ این ڈی اے کو 250؍ سیٹیں بھی نہیں ملے گیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار آج یہاں دارالعلوم دیوبند کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے دیوبند پہنچے آسام کے ڈوبھری سے رکن پارلیمنٹ اور چوتھی مرتبہ اسی سیٹ سے الیکشن لڑرہے اے آئی یوڈی ایف کے قومی صدر مولانا بدرالدین اجمل نے عیدگاہ روڈ پرواقع اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کیا۔مولانا بدرالدین اجمل نے کہاکہ یقینی طورپر ملک کے باشعور اور سیکولر ذہن رکھنے والے عوام بی جے پی کی پالیسیوںکے خلاف ہیں ،یہی وجہ ہے کہ انڈیا اتحاد کو ملک میں حمایت مل رہی ہے ،انہوںنے آسام میں راہل گاندھی ،پرینکاگاندھی اور دیگر کانگریس لیڈران کے ذریعہ اپنے خلاف کی گئی بیان بازی پر افسوس ظاہر کیا اور کہاکہ وہ چوتھی مرتبہ بھی ڈوبھری سے کامیاب ہونگے انشاء اللہ ۔ مولانا اجمل نے کہاکہ وہ آسام میں صرف تین سیٹیوں پر الیکشن لڑرہے ہیں اور انہیںا مید ہے کہ وہ اپنی تین سیٹوں پر ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرینگے ،اگرچہ مولانا اجمل نے صاف کہاکہ اس مرتبہ ان کا مقابلہ سخت ہوگا ۔ انہوں نے آ سام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے حالیہ بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ دینی مدرسے قومی ورثہ ہیں،فضلاء مدارس نے مختلف میدانوں میں ملک کی خدمت کی ہے اور لگاتار کررہے ہیں۔ملک کی آزادی میں ان مدرسوں کی قربانیاں کسی طرح فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ اس لیے دینی مدرسوں کے بارے میں ایسی بے ہودہ اور دل آزار باتیں کرنا درحقیقت ملک کی توہین ہے۔انہوںنے کہاکہ وہ جمہوریت اور مدرسوں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں لیکن ہم مدارس بنانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
مولانا بدرالدین اجمل نے کہاکہ اس وقت ملک میں بی جے پی کے خلاف ماحول ہے، جس سے پی ایم مودی گھبرائے ہوئے ہیں اور وہ مسلمان اور منگل سوتر جیسے بیانوں کے سہارے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک کے سمجھدار اور سیکولر ذہن رکھنے والے لوگ حالات سے بہت اچھی طرح واقف ہیںاور اب انہیں مودی کی باتوں پر یقین نہیں رہا ،بھلے ہی وہ 400؍ پار کی باتیں کرتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ این ڈی اے کو اس مرتبہ 250؍کی تعداد تک پہنچنا بھی مشکل ہوجائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ یقینی طورپر ملک کے اقتدار میں یوپی کا بنیادی رول ہوتاہے اور پانچ مراحل کی ووٹنگ سے صاف ظاہر ہوچکاہے کہ حکومت کی تبدیلی میںایک مرتبہ پھر یوپی کا اہم رول ہوگا اور یہاں شروع ہونے والی تبدیلی کی ہوا پورے ملک میں اپنا اثر دکھائے گی اور بی جے پی اقتدار سے باہر ہو گی۔
انہوںنے کہاکہ ملک کے حالات تشویشناک ہیں ہر طبقے اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ پریشان ہیں جوبی جے پی کی ہار کی سب سے بڑی وجہ بنے گا ،اب عوام کسی طرح کے جھوٹے وعدوں اور جھانسوں میں آنے والے نہیں ہیں۔












