نئی دہلی، قومی دار الحکو مت دہلی میں لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی حکومت کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جاری تنازعات پر آج فل اسٹاپ لگ گیا ۔ پانچ ججوں کی بنچ پر مشتمل سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے اہم فیصلہ سنایا اور دہلی حکومت کو کئی اختیارات بحال کر دئے ۔آج اپنے حکم نامے میں سپریم کورٹ نے دہلی میں افسران کی پوسٹنگ،ٹرانسفر کے معاملے جہاں کجریوال حکومت کو سونپے تو وہیں قانون،زمین اور پولس پر کنٹرول کے اختیارت مرکز کو سونپ دئے ۔ دہلی میں انتظامی خدمات پر کس کا کنٹرول ہوگا، اس معاملے میں سپریم کورٹ نے عام آدمی پارٹی کی حکومت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹس پر ریاستی حکومت کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے کہا کہ پولیس، زمین اور نظم و ضبط کا اختیار مرکز کے پاس ہوگا۔ دہلی حکومت کو انتظامی خدمات سے متعلق افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا حق حاصل ہوگا۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ وہ متفقہ فیصلہ دے دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ۔ پانچ رکنی آئنی بنچ نے سماعت کے بعد 18 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔اس سے قبل سالیسٹر جنرل نے مر

کز کی جانب سے اس معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی سفارش کی تھی۔آج کا فیصلہ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بنچ نے سنایاہے ۔ عدالت نے یہ فیصلہ اکثریت سے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دہلی اور مرکزی حکومت دونوں کے حقوق ہیں۔ گورنر کو حکومت کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔سی جے آئی نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مرکز کی مداخلت سے ریاستوں کے کام کاج متاثر نہ ہوں۔ چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اگر مرکز کا قانون نہ ہو تو دہلی حکومت قانون بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت عوام کی جوابدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہلی حکومت کو خدمات پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ اس سے قبل عام آدمی پارٹی حکومت نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) اس وقت تک ٹھیک سے کام نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے اختیار میں انتظامی خدمات کا شعبہ نہ ہو۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دہلی میں انتظامی خدمات سے متعلق افسران کی تعیناتی اور منتقلی معاملے پر مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان چل رہے تنازعے کا خاتمہ طے مانا جارہا ہے ۔ حالیہ فیصلے پر اپنے ردعمل میں سابق لیفٹیننٹ گورنرنجیب جنگ نے این ڈی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ ان کا کہناتھا کہ’’ امید ہے کہ دہلی حکومت اور مرکز دونوں اس فیصلے کو مانیں گے اور اس کا احترام کرینگے‘‘ ۔نجیب جنگ نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں جو چھوٹے چھوٹے تنازعات ہوئے وہ نہیں ہوں ۔ساتھ ہی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ کجریوال اپنا رویہ بھی ٹھیک کرلیں تو امید ہے تنازعات نہیں رہیں گے۔قابل ذکر ہے کہ 2014 میں جب سے عام آدمی پارٹی نے دہلی میں اقتدار سنبھالا ہے، مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان دونوں طرف سے سخت اقدامات کے ساتھ مسلسل اقتدار کی کشمکش اور تنازع جاری رہا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا عام آدمی پارٹ کی حکومت نے والہانہ انداز میں استقبال کیاہے۔دہلی حکومت نے اس تعلق سے آج ایک میٹنگ بھی بلائی ہے ۔سپریم کورٹ کے فیسلے کے مطابق اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دہلی حکومت اب حرکت میں آگئی ہے اورمستقبل قریب میں کئی بڑے بیوروکریٹس اور افسران پر بجلی گر سکتی ہے ۔ عدالت کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی پہلا قدم اٹھاتے ہوئے دہلی حکومت کے سکریٹری آشیش مہرے کاتبادلہ کر دیا گیا ہے ۔












