نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کو جی ایس ٹی دفتر کا اچانک معائنہ کیا۔ دہلی سکریٹریٹ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع جی ایس ٹی آفس کے اہلکار وقت کے پابند پائے گئے۔ اس نے چیف منسٹر کو ذاتی طور پر کام میں سستی کا معائنہ کرنے پر مجبور کیا۔اس معائنہ کا مقصد مختلف محکموں کے کام کاج کو ہموار کرنا اور سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط کو یقینی بنانا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی پیشگی اطلاع کے بغیر اچانک آمد سے محکمہ کے افسران اور ملازمین میں کھلبلی مچ گئی۔ معائنے کے دوران کئی سینئر اہلکار اپنی نشستوں سے غائب پائے گئے، جس سے چیف منسٹر نے سخت موقف اختیار کیا اور وضاحت طلب کی۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا صبح 11 بجے جی ایس ٹی عمارت پہنچیں اور سیدھے وارڈز اور افسران کے کمروں میں گئیں۔ حیران کن طور پر کئی اہم حصے ویران پڑے تھے اور مقررہ وقت کے باوجود افسران دفتر نہیں پہنچے تھے۔ وزیراعلیٰ نے موقع پر موجود عملے سے غیر حاضر افسران کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ جب انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا تو اس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عوامی معاملات میں سستی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔معائنہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے نہ صرف حاضری بلکہ دفتر کے کام کاج اور دیکھ بھال کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے راہداریوں میں پرانی فائلوں کے ڈھیر اور غیر منظم انفراسٹرکچر کے لئے متعلقہ عہدیداروں کی سرزنش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنے فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔موقع پر ہی وزیر اعلیٰ نے محکمہ کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ ایک ماہ کی بائیو میٹرک اور دستی حاضری کی رپورٹ فوری طور پر ان کے دفتر کو بھجوائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کوئی بھی افسر بغیر کسی معقول وجہ یا پیشگی اطلاع کے غیر حاضر پایا گیا تو اس کی تنخواہ کاٹی جائے گی اور سروس رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ "سرکاری دفاتر میں عوام کی خدمت کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے، اگر افسران وقت پر نہ پہنچیں تو عام شہریوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ غفلت برتنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق یہ سرپرائز معائنہ صرف نظم و ضبط تک محدود نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ کو محکمہ میں بدعنوانی اور زیر التواء فائلوں کی مسلسل شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔












