بیجنگ، (یو این آئی) چین نے کہا ہے کہ منگل سے تائیوان کے گرد "وسیع پیمانے” کی برّی و بحری فوجی مشقیں شروع کر دی جائیں گی۔ پانچ علاقوں میں متوقع ان مشقوں میں براہ راست فائرنگ بھی شامل ہے۔ چین کے فوجی ترجمان اور تجربہ کار کرنل شی یی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "29 دسمبر سے پی ایل اے ایسٹرن تھیٹر کمانڈانصاف فریضہ 2025 نامی مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے اپنے بحری، فضائی اور راکٹ فورس دستوں کو متعین کر رہی ہے "۔ چین سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے بھی چین مسلح افواج کےبروز منگل تائیوان کے گرد براہِ راست فائرنگ مشقیں شروع کرنے کی اطلاع دی ہے۔خبر میں ایک گرافک کی مدد سےجزیرے کے گرد پانچ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی بحری و فضائی حدود پابندیوں میں رہے گی۔ تائیوان فوج نے بھی جزیرے کے گرد چینی مشقوں کے جواب میں "فوجیں” متعین کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاری کردہ بیان میں فوج نے کہا ہے کہ ایک ردِعمل مرکز قائم کیا گیا ہے اور سرحدوں پر مناسب تعداد میں فوجیں متعین کر دی گئی ہیں۔ مسلح افواج نے تیز ردِعمل کی مشق بھی انجام دی ہے۔ تائیوان صدارتی دفتر کی ترجمان کیرن کوو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ” چین بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور عسکری سراسیمگی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور ہم اس کی مذّمت کرتے ہیں”۔ واضح رہے کہ جاپان کے تائیوان کے قریب میزائل نصب کرنے کے منصوبوں کا اعلان کرنے کے بعدگذشتہ ماہ چین نے خبردار کیا تھا کہ "ہم، تائیوان کے معاملے میں مداخلت کے کسی بھی بیرونی اقدام کو کچل دیں گے”۔ چین نے کہا تھا کہ "ہمارا عزم مضبوط اور ارادہ پختہ ہے۔ ہم، اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کی مضبوط صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو کچل دیں گے”۔ بیجنگ، تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور اسے اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں سمجھتا۔ تاہم تائیوان، بیجنگ کے دعوے کو مسترد کرتا اور کہتا ہے کہ تائیوان کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ نومبر میں، چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات میں کہا تھا کہ تائیوان کی واپس چین میں شمولیت جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ چین ، جاپان کے ساتھ بھی حالیہ سالوں کے سخت ترین سفارتی بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ سفارتی کشیدگی رواں مہینے میں جاپان کے وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے اس بیان کے بعد گھمبیر ہو گئی ہےکہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جمہوری انتظامیہ والے تائیوان پر کوئی ممکنہ چینی حملہ ٹوکیو کی طرف سے عسکری ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔












