نئی دہلی، کانگریس نے کہا کہ چینی فوج ہندوستانی علاقے کے اندر مستقل شیلٹر بنا کر ملک کی سالمیت کو چیلنج کر رہی ہے ، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں اور ان کی خاموشی تشویشناک ہے۔ ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینتے نے کہا کہ چینی فوج نے سرحد پر ڈیپسانگ اور ڈیم چوک میں مستقل مراکز قائم کر رکھے ہیں لیکن حکومت انہیں بے دخل کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شمالی لداخ میں دراندازی کو مستقل کرنے کی کوشش میں چین نے ڈیپسانگ میں 200مستقل پناہ گاہیں قائم کی ہیں اور یہ تمام پناہ گاہیں ایل اے سی کے 15-18کلومیٹر کے اندر بنائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی اس دراندازی کے حوالے سے جو سیٹلائٹ تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں صاف نظر آرہا ہے کہ اس نے سرحد پر پل، ریڈوم، مائیکرو ویو ٹاور وغیرہ قائم کر رکھے ہیں۔ڈیپسانگ کا علاقہ اہم ہے اور یہیں سے سیاچن میں تعینات فوجیوں کا ضروری سامان سپلائی کیا جاتا ہے اور یہاں سے ٹینک آتے رہتے ہیں۔ترجمان نے کہا’مودی حکومت چین کی دراندازی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے‘۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مسٹر مودی نے 15نومبر کو انڈونیشیا کے دارالحکومت بالی میں چینی صدر شی جن پنگ سے مصافحہ کیا اور 18دن بعد اطلاعات کے مطابق شمالی لداخ کے ڈیپسانگ علاقے میں چین کی دراندازی برقرار ہے اور وہ ہماری سرزمین پر 200پناہ گاہیں بنا چکا ہے اور چین ڈیپسانگ میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔ چین اس علاقے میں اپنی مداخلت اور تجاوزات کو مستقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا ’یہ ہماری سرزمین ہے اور اس کی موجودگی ہماری علاقائی سالمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے‘۔ یہ پناہ گاہیں فوجیوں کو سردی سے بچانے کیلئے بنائی گئی ہیں اور اسی طرح کے شیلٹرز سیاچن گلیشیئر میں بھی ہندستانی فوج لگاتی رہی ہے، تاکہ فوجی ہڈیوں کو ٹھنڈا کرنے والی سردی میں ایک جگہ آرام سے رہ سکیں کیونکہ ان شیلٹرز کا درجہ حرارت کنٹرول کیا جائے۔حکومت کو بتانا چاہیے کہ وہ چین کی ان حرکات پر خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ پچھلے پارلیمانی اجلاس میں ایک دن بھی پارلیمنٹ نہیں چل پائی تھی اور اپوزیشن مہنگائی جیسے مدعے پر بحث کیلئے اڑی ہوئی تھی۔












