دنیانے ہلاکت خیز وباکورونا وائرس سے نجات حاصل کر کے اطمینان کا سانس لیا ہی تھا کہ چین میں ایک بار پھرکورونا کے سراٹھاتے معاملوں کی خبروں نے دنیاکو ایک نئی مشکل اور فکر میں ڈال دیاہے ۔خبریں ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے کورونا وائرس کے نئے معاملے بے تحاشہ بڑھ رہے ہیں،جس سے گھبرا کر مریض اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں ۔حکومت بستروں کو دستیاب کرارہی ہے اور اسپتالوںکو نئی توانائی کے ساتھ دن و رات ایمرجنسی موڈ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔وہیںاس درمیان ایک ریسرچ اسکالر کی یہ خبر کہ چین میں اگر نئی وائرس کی سراٹھاتی وبا کا سر نہیں کچلا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں اور اس سے ایک ملین لوگ زد میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ،خبر کچھ زیادہ ہی ڈرا رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں چین حکومت نے کورونا کے تازہ معاملوں کو دیکھتے ہوئے زیرو پالیسی اپنائی تھی اور تمام طرح کی نرمیوں کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کئے تھے ،جبکہ ملک کے کئی حصوں میں لاک ڈائون کا اعلا ن بھی کردیا گیا تھا۔لیکن عوام جن پنگ حکومت کے اس فیصلے سے سخت ناراض ہو اٹھے تھے اور انہوںنے سڑکو ںپر اتر کر اپنا احتجاج درج کرایا تھا ۔اس سے گھبرا کر حکومت کو لاک ڈائون ہٹانا پڑاا ور سختیوں کو ختم کرنا پڑا تھا۔لہذا ب اگرچہ چین میں لاک ڈائون ہٹا لیا گیاہے ، لیکن اس سے شی جن پنگ حکومت بیک فٹ پر کھڑی ہے ۔ جس کو اندرون ملک حالات بگڑنے کا خدشہ الگ ستا رہا ہے ۔یعنی ایک طرف کووڈ کی نئی شکل کے کیسیز مسلسل سامنے آرہے ہیں تو وہیں لاک ڈائون ہٹانے سے معاملوںکے بگڑنے کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے۔حالانکہ تین دسمبر کے بعد سے اب تک چین میں ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے ،لیکن سوال یہ کھڑاہو گیا ہے کہ چین اس پر قابو پانے کے کیااقدامات کریگا اور دوسرے ملکوں کو کیسے بچائے گا۔یہ سوال جن پنگ حکومت کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین اس کے بھارت کے ساتھ نئے تنازع کو چین کے اندرونی کووڈ حالات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیںاورفوجیوں کے درمیان تصادم کو توجہ ہٹانے کی نئی کوشش بتا رہے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اندرون ملک کووڈ کے بڑھتے معاملے اوراسے قابو کرنے کیلئے لاکڈائون کے ناکام قدم کے بعد عوام کااس کے خلاف محاذ کھول دینا یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ شی جن پنگ حکومت بیک فٹ پر کھڑی ہے اور حالات کو سنبھالنے میں اس کی صلاحیت کمزورثابت ہوئی ہے !کہ اس نے عوامی ابال اور سخت مظاہروں کے بعد پہلی فرصت میں نہ صرف اپنا فیصلہ واپس لیابلکہ زیرو کووڈ پالیسی میں نرمیوں کااعلان کردیا ،باوجود اس کے کہ جن پنگ جانتے ہیں کہ ملک میں حالات کس ہنگامی نوعیت کے ہیں،اور یہ کتنی بد تر صورت اختیار کر سکتے ہیں اور کس طرح دوسرے ممالک اس کی زد میں آسکتے ہیں۔بتا دیں کہ سال 2020میں فروری میں دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائر س پھیلانے کے پیچھے چین کے شہر ووہان کو ذمہ دار مانا جا رہا تھا۔
اس لئے اب ایک بار پھر کووڈ سے حالات خراب ہو رہے ہیں ۔لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ 2023 تک 1 ملین سے زیادہ کووڈ۔19 سے اموات کی پیشنگوئی کے بعد چینی حکومت کیا قدم اٹھائے گی اور دوسرے ممالک میں اس وبا کو دوبارہ پھیلنے سے کیسے روکے گی ؟بھارت کو بھی چاہئے کہ چین کی چال کو سمجھے ،توانگ معاملے پر نہ الجھ کر چین میں کورونا کے بے تحاشہ طریقہ سے پھیلنے کے معاملے اور اس پر چین کی ناکامی کو دنیا کے سامنے اٹھائے۔کیونکہ اس سے بھارت کے عوام کے سخت متاثر ہونے کا خطرہ پھر ستانے لگا ہے۔












