دیوبند، آج سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سہارنپور پہنچ کر میئر امیدوار نور حسن ملک کو لئے روڈ شوکیا۔ انہوں نے رانگڑوں کے پل سے ٹرک پر سوار ہو کر عوامی رابطہ کیا۔ اکھلیش کا روڈ شو قطب شیر سے گول کوٹھی پر آکر ختم ہوا۔روڈ شو کے دوران اکھلیش یادو کی سیکورٹی میں چوک یکھنے کو ملی ،جہاں ایک نوجوان اس گاڑی پر چڑھ گیا جس پر اکھلیش یادو سوار تھے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے نوجوان کو تین بار نیچے دھکیلا، تھوڑی دیر بعد اکھلیش کا روڈ شو رائے والا سے ہوتا ہواضیا گارڈن پہنچا، جہاں اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس میں اکھلیش یادو نے کہا بی جے پی نفرت کی سیاست کرتی ہے۔ بے قصور لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ یوپی میں امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ مجرموں نے قانون کا خوف کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا میں ایک دن پہلے گورکھپور سے ہو کر آئے تھے، وہاں ایک عورت کی عصمت دری ہوئی، کیا اس عورت کو کبھی انصاف ملے گا؟۔اکھلیش نے کہا، ‘‘اسمارٹ سٹی صرف کاغذوں پر ہے۔ حقیقت میں یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اسمارٹ سٹیز کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے گئے لیکن شہروں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ بی جے پی حکومت ترقی کے نام پر صرف جھوٹے دعوے کرتی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات نہیں مل رہیں۔ ان کے پاس ہر چیز کا واحد جواب پستول ہے۔اکھلیش یادو نے کہا بی جے پی والوں کی باتوں پر کون یقین کرے گا؟ پتہ نہیں وہ آج اپنی جی ڈی پی کہاں دکھا رہے ہیں۔ ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کو حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ کیا حکومت بتائے گی کہ جی ڈی پی میں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت میں سہارنپور کا بھی کوئی حصہ ہے؟۔اکھلیش نے کہا، "مجھے خوشی ہے کہ سہارنپور کے کاریگر، مزدور اور تاجر اپنی محنت اور سمجھ بوجھ سے اپنے کاروبار کو زندہ رکھ کر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں،لیکن اس حکومت نے انہیں کوئی سہولت نہیںدی۔بھیم آرمی کے بانی اور آزاد سماج پارٹی کے قومی صدر چندر شیکھر نے کہا، میں سہارنپور کا رہنے والا ہوں، آج جس سڑک سے یہاں آیا ہوں اس کی حالت بہت خراب ہے۔ یہاں ترقی کے نام پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ اگر کوئی کوئی حکومت سے سوال کرتا ہے تو یا تو اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے یا اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں افسران اور ملازمین خود رشوت لیتے ہوئے پکڑے جا رہے ہیں۔ ملک اور ریاست میں قانونی نظم و نسق کی حالت بہت خراب ہے۔ اسے بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اتحاد کے امیدوار کو جتوایا جائے۔ جس کے لیے ہم مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔لاء اینڈ آرڈر پر حکومت کو گھیرتے ہوئے چندر شیکھر نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں لوگ کچھ نہیں بول سکتے۔ کیونکہ لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔ کاغذ اور قلم فروخت ہوچکے ۔ قلم کی نوک اور زبان پر حکومت نے پہرہ لگا دیا گیا ہے۔ کوئی بولے گا تو گولی مار دی جائے گی۔انہوںنے الیکشن میں سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔












