صادق شروانی
نئی دہلی 12اکتوبر، سماج نیوز سروس:آل انڈیا مسلم مہاپنچایت کی جانکاری دیتے ہوئے مولانا توقیر رضا خان اور سینئر وکیل محمود پراچہ کی جانب سے آج پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔پریس کانفرنس کے دوران مولانا توقیر رضا خان نے سیاسی پارٹیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یو پی اے کے دور اقتدار میں مسلمانوں پر بہت ظلم کئے گئے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں تو اس سے بھی زیادہ مسلمانوں کا استحصال کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یوپی اے کے دور میں ملک کے مختلف شہروںمیں جو بم بلاسٹ دیکھنے کو مل رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟ اس بارے میں میڈیا کو بھی تفتیشی صحافت کا سہارا لینا چاہئے اور سچائی پورے ملک کے سامنے پیش کی جانی چاہئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کا سب بڑا غدار بھی قرار دیا۔ اور مزید کہا کہ ان کے دوراقتدارمیں صرف ایک طبقہ کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے ووٹ بٹورنے کے لئے مسلمانوں کو ملک کا دشمن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مولانا توقیر رضاخان نے آل انڈیا مسلم مہاپنچایت میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کو دیش کی ایکتا کے لئے اورمسلم تنظیموں اور اداروں کو اپنی شناخت قائم رکھنے کے لئے اس میں شرکت ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک خاص اپیل کی کہ آنے والے لوگ اپنی شناخت کے ساتھ آئیں ۔ سیکولر جماعتوں سے شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ میری یا ہماری قوم کی بی جے پی کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے ۔اس کے باوجود بی جے پی کے 10سال اور یوپی اے کے 10سال ہمارے سامنے ہیں ۔ اس پر ہمارے ہندو بھائیوں کو غور کرنا ہوگا۔ کون ملک کو نقصان پہنچا رہا ہےاور ایسے لوگوں سے گریز کرنا ہوگا۔ تبدیلی مذہب پر بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ جو پیسے کے لئے ایمان فروخت کرسکتا ہے وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے ۔ مودی سرکار میں حج سبسڈی ختم کردی گئی ۔ مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کون کر رہا ہے ۔ ہم ملک کے ساتھ ہیں کسی شخص کے ساتھ نہیں۔ جس طرح کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ نریندر مودی اپناتے ہیں اس سے تمام دنیا میں ہمارے ملک کی شناخت بگڑتی ہے اس لئے ان سے بڑا کوئی ملک کا غدار نہیں ہے ۔ اس موقع پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے سینئر وکیل محمود پراچہ نے کہا کہ علماء نے ہمیشہ سے مسلمانوں کو لیڈ کیا ہے لیکن آج یہ طبقہ بھی ڈرا اور سہما ہوا ہے جبکہ مولانا توقیر رضا خان نڈر ہیں اور سچ کو سچ کہتے ہیں ۔ یہ صرف مسلم قوم کی لڑائی نہیں ہے بلکہ تمام مظلوموں کی قانون کے دائرے میں رہ کر لڑائی ہے۔ انہوں نے این آر سی میں خواتین کے ذریعے کئے گئے خاموش اور پر امن مظاہرے کی مثال دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رام لیلا میدان میں آئندہ 29اکتوبر 2023کو صبح 10بجے آل انڈیا مسلم مہاپنچایت کا اہتمام کیا جائے گا۔ جس میں بھارت کے مسلمانوں کی جانب سے تمام ایسے لوگ اور تنظیموں کو دعوت دی جارہی ہے جو غیر سیاسی ہیں۔ ہمارا سماج نمائندہ کے سوال’آخر کار مسلمان کب تک صبر کرے؟‘ کا جواب دیتے ہوئے مولاناتوقیر رضا خان نے کہا کہ یوپی اے اور مودی کے دور کا موازنہ کرنا چاہئے کہ ملک کے مسلمانوں کو کس کے دور میں براہ راست نقصان پہنچایا گیا۔ میں ہندو بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں جو لوگ مسلمانوں کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔ آخر کار ان کی مسلمانوں سے شکایت یا دشمنی کیا ہے ؟ وہ ہمیں بتائیں ۔ میں اور ہمارے تمام مسلم بھائی اس تکلیف کی وجہ کو دور کریں گے۔












