نئی دہلی، (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کمپرومائزڈ پی ایم کہنے اور انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج کرنے والے یوتھ کانگریس کے کارکنوں کو ببر شیر قرار دینے پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر شدید جوابی حملہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کمپرومائزڈ مودی نہیں بلکہ گاندھی خاندان رہا ہے۔بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے ہفتہ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس اور مسٹر گاندھی کو نشانہ بنایا۔ اس دوران انہوں نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ بدترین صنعتی حادثے بھوپال گیس سانحہ کے ملزم وارن اینڈرسن کو چھوڑنے والے اور 1984 کے سکھ فسادات کے وقت ملک کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کمپرومائزڈ پی ایم تھے یا اے آئی سمٹ کا انعقاد کر کے دنیا بھر میں ہندوستان کا وقار بلند کرنے والے مسٹر مودی کمپرومائزڈ پی ایم ہیں؟انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے غیر سنجیدہ باتیں کی ہیں، جن کے لیے وہ اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے (مسٹر گاندھی) کہا ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو آئینی طور پر احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیج دیتی ہے۔ اس میں انہوں نے نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کمپرومائزڈ پی ایم لکھا ہے۔مسٹر بھاٹیہ نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یہ باتیں وہ لکھ رہے ہیں جن کا فرضی گاندھی خاندان نسل در نسل کمپرومائزڈ رہا ہے۔”انہوں نے کہا کہ "دنیا کی تاریخ میں بھوپال سانحہ بدترین صنعتی آفات میں سے ایک تھا۔ وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ہاتھ بھوپال گیس سانحے میں ہلاک ہونے والے 8,800 افراد کے خون سے رنگے تھے۔ ان کے پرنسپل سکریٹری پی سی الیگزینڈر نے کہا تھا کہ اگر وارن اینڈرسن کو جانے کی اجازت دی گئی، تو یہ مسٹر گاندھی اور اس وقت کے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ارجن سنگھ کی وجہ سے ہوا تھا۔ گاندھی خاندان نسلوں سے سمجھوتے کرتا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "1984 کے سکھ فسادات کے دوران جب کانگریس لیڈروں پر سکھوں کے خلاف تشدد کی قیادت کرنے کا الزام لگا، تو مسٹر گاندھی نے اسے یہ کہہ کر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتا ہے، تو دھرتی ہلتی ہے۔”واضح رہے کہ راہل گاندھی نے اے آئی سمٹ کے دوران احتجاج کرنے پر یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ پرامن احتجاج ہماری تاریخی میراث ہے۔ یہ ہمارے خون میں شامل ہے اور ہر ہندوستانی کا جمہوری حق ہے۔ مجھے یوتھ کانگریس کے اپنے ببر شیر ساتھیوں پر فخر ہے، جنہوں نے کمپرومائزڈ پی ایم کے خلاف بے خوف ہو کر ملک کے مفاد میں آواز بلند کی ہے۔”












