مراسلہ : مسلمانوں کی اردو زبان کو فروغ دینے کی فکر ، ایک تجزیہ
واقعی اپنا ملک ہندوستان تمام مختلف مذھب کے ساتھ ساتھ مختلف خیالات کی نمائش کرتا ہے. مسلمان کسی نہ کسی معاملات میں پریشان ہیں چاہے وہ ملک کی پالیسیز کے تحت ہوں یا پھر اپنے ذاتی معاملات میں. لیکن ایک بات پر خوش ہونا چاہیے یا افسوس کرنا چاہیے یہ سمجھ سے باہر ہے کی ایسے سخت حالات میں بھی مسلمان قوم میں جلسے، سیمینار اور مشاعرہ کی محفلوں کا دور جاری ہے, جسکی رفتار کسی بھی حالات میں رکی نہیں چاہے ماحول خوشگوار ہو یا فکریہ. یہ مجاز میں شامل ہے یا ذاتی شناخت کا الم اٹھا کر خود کو ثابت کرنے کی ہوڈ ہے؟ کیونکی جہاں تک میں سمجھتا ہوں دنیاوی اصول تو یہی کہتے ہیں کی ہر حال میں لطف اندوز رہو، اس نظر سے دیکھا جائے تو مسلمان بھی اسی بہاؤ میں بہ رہے ہیں جو ٹھیک ہی لگتا ہے، لیکن کیا امّت کو الله کے رسول نے یہی ہدایت دی تھی کی زمانے کی تمام ناانصافیوں ، ظلم و بربریت ، قتل وغارت ، حق ناحق کی طرف سے نظرے پھیر لو اور لطف لو اس زمین کا جو فانی ہے. نہیں ہرگز نہیں. میرے آقا سرورے قاینات نے تو خود بھی اپنی زندگی میں امّت کے لئے آنسو بہاے اور فکرمند رہے. آج تمام اصلاح اور تربیت جو الله کے رسول نے پورے عالم کو دی تھیں وہ مسلمان کو چھوڑکر سبھی مذھب کے لوگ اپنا رہے اور کامیاب بھی ہیں. صرف وہ قوم لاپرواہ ہو گی جس پر الله نے خاص طور پر اپنا رسول بھیجا اور جہاں سے پیامے انسانیت کی شروعات ہوئی . معذرت چاہتا ہوں کی کیا ہو گیا ہے اس قوم کو جسکے اسلاف اپنی زندگیوں کو علم میں، میدانے جنگ میں، اصلاح اور انسانیت کے فرائض کو فروغ دینے میں، ایک بہتر معاشرہ بنانے میں اپنی عمروں کو ختم کر دیا کرتے تھے اور اف تک نہیں کرتے تھے کیونکی انہونے الله کے حکم کے آگے اپنی زندگیوں کی کوئی کیمت نہیں سمجھی تھی. تب الله نے انھیں عرب سے اٹھا کر سارے ملکوں کی بادشاہت عطا فرما دی تھی. آج کا حال آپکے سامنے ہے کی ظالموں کے ہاتھوں معصوموں کا قتل, عصمتدری, ملک کا مال بھی خوب غبن کیا جا رہا لیکن ہم مخالفت تب کرینگے جب اپنے حقوق کا پتا ہوگا بلکی قوم کے سرپرست اپنے اگلے پروگرامس کی تفصیل دیتے نہیں تھک رہیں کی فلاں تاریخ کو فلاں آڈیٹوریم میں یہ سیمینار ہے اور سبھی سے شرکت کی درخواست ہے. اسے ہوگا کیا ؟ دعوت، واہواہی اور اخباروں میں خبر اور بس. یہ صرف ایک مثلا نہیں بلکی ہر دن کچھ نہ کچھ ہوتا ہے مختلف جگہوں پر لیکن قوم کی شام تو مشاعرے میں حصّہ لینے اور غزلیں پڑھنے میں نکل جاتی ہیں. ہم لمبے عرصے سے دوسروں پر الزام لگاتے آ رہے ہیں کی مسلمانوں کی پستی کے وہ ذمّہ دار ہیں پر ہم کیا اپنے اصولوں پر قائم ہیں. کیا قوم کے موجودہ حال کو نادر شاہ رنگیلے کی قیادت میں چل رہے دہلی کے حالات سے ملانا غلط ہوگا. ایسا وقت نشانی ہوتی ہے ان حالات کی جب آپکو کوئی ایشو آرام کے سامان دے کر اور اسکا عادی بناکر آپ پر قابو پا لیتا ہے اور آپکی نسلیں اسکی غلامی میں اپنا بال سفید کر لیتی ہیں. ہمنے حالات کا موقع رہتے اگر تجزیہ نہیں کیا تو یقین جانے کی نہایت خسارے میں چلے جاینگے. دین میں جب دکھاوا آ جائے اور معاشرے میں خود کی شانوں شوقت کو دوسروں سے اول ثابت کرنے کی ہوڑ لگی رہے تب اس قوم کے زوال کا وقت نزدیک آ چکا ہوتا ہے. موجودہ وقت بہت سنگین اور حالات بد سے بدتر ہیں اور اسمیں اپنی ذمّہ داریوں سے غافل رہنا محظ وقتی طور پر خود کو دھوکہ دینا ہے. عوام تو عوام ہے قوم کے دانشمند حضرات بھی اپنی آنکھوں کو حقیقی آئینے سے دور رکھ کر مصنوعی چشمہ سے حالات کو دیکھ رہیں ہیں کی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. کیا ہم دہلی کے آخری سلطان بہادر شاہ ظفر کے حالات سے واقف نہیں ہیں کی کن حالات کا سامنا ایک بادشاہ کو کرنا پڑا تھا جب عمر جواب دے چکی تھی, ہاتھوں میں تلوار پکڑنے کی طاقت باقی نہ رہی تھی اور وقت گزاری کے لئے بادشاہ کی محفل قصّے کہانیوں شیر و شاےری سنانے کا مرقز بن گئی تھیں جسمیں چند زندگی سے مایوس اور شکست تسلیم کر چکے لوگ صبح شام آ کر بیٹھا کرتے تھے. وہ وقت نہ آنے دو مسلمانوں کیونکی وہ دلیل ہوگی تمہاری ناکامی اور اپنے دین کے اصولوں سے ہٹ جانے کی جب تم محض مزاق کا نمونہ بنکر دنیا کے سامنے رہ جاؤگے. ویسے بھی تاریخ بدلنے کا کام شرو ہو چکا ہے کتابوں میں, اسلئے ابھی جاگ جاؤ اور بتا دو کی تم الله کے بھیجے افضل ترین لوگوں میں سے ہو جسے رسول الله کی قیادت ملی. اسلام نیت پر مبنی ہے اور بندے کا ہر اعمال اللہ کے نزدیک نیت کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے.
احمد فوزان
ادیب
خرّمنگر لکھنؤ












