نئی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج: ایک سچا مؤمن ہر حالت میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار ہوتا ہے ، اسے اگر مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تووہ صبر کرکے اجر وثواب کا مستحق بنتا ہے ا وراگر اسے آسانی اور نعمت فراہم ہوتے ہیں توشکر گزار ی ادا کرکے اجر وثواب کا مستحق ہوتا ہے اوریہ خوبی صرف ایک مؤمن ہی کی ہوتی ہے کہ وہ ہر حالت میں فائدہ اور خیر میں رہتا ہے ۔ اس وقت ملکی ا وربین الاقوامی سطح پر حالات قدرے غنیمت ہوئے ہیں عموماً جوبے چینی پائی جاتی تھی ان میں کسی حد تک سکون فراہم ہوا ہے، ایسے موقع سے مسلمانوں کی ذمہ داریاں مزید حساس ہوجاتی ہیں کہ وہ ایک جانب پسماندگی اورجہالت سے نجات حاصل کریں ۔مضبوط اورٹھوس تعلیم کے حصول کے لیے آگے آئیں لیکن تعلیم اگر اپنے پیدا کرنے والے کی شناخت نہ دے سکے اور اپنے دین کوسمجھنے کی راہ ہموار نہ کرسکے تو وہ تعلیم فتنہ ہے لہٰذا ٹھوس اور پختہ تعلیم کے ساتھ خالص اسلامی تربیت کی اہمیت کوسمجھنا بھی نہایت ضروری ہے لہٰذا مسلمانوں کوان دونوں پہلوؤں کوسامنے رکھ کر ٹھوس تعلیم اور خالص اسلامی تربیت کواپنا ہتھیار بنانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ،جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا حالات حاضر ہ میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں سے متعلق گفتگو فرمارہے تھے ۔ مولانا نے قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں نئی نسل کی اسلامی تربیت اوران کی ذمہ داریوں سے متعلق درج ذیل چند امور کا تذکرہ فرمایا :۱- قرآن مجید ہمیں انسانی معاشرہ کی سب سے اہم کڑی والدین(ماں باپ) کی قدرومنزلت کوسمجھنے اوران کی خدمت انجام دینے کا حکم دیتا ہے اوراس سلسلہ میں مذہب ومسلک کی تفریق بھی نہیں کرتا بلکہ اگر کسی کے والدین مشرک، بدعتی یا کافر ہی کیوں نہ ہو ں تو بھی ان کی خدمت کرنا واجب ہے، مسلم معاشرہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ماں باپ کے مقام کو سمجھے اوراس میں کسی بھی کوتاہی کا شکار نہ ہو۔۲- قرآن مجید ہمیں اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اوران کے ساتھ عفو ودر گزر کا وطیرہ اپنانے کی اپیل کرتا ہے۔ ۳- قرآن مجید ہمیں حکم دیتا ہے کہ مال کی کمی یا غربت کے خدشہ کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کیا جائے یہ قتل چاہے حمل کے دوران ہویا فیملی پلاننگ کے ذریعہ بلا کسی مجبوری کے ہو یا بچے کی پیدائش کے بعد ہو ۔ ہر صورت میں یہ حرام اورظلم ہے۔۴- قرآن مجید اولاد اور نئی نسل کی تربیت کے بارے میں ہمیں یہ حکم بھی دیتا ہے کہ ان کی محبت ہمیں اللہ اور دین سے غافل نہ کردے نیز ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اوراپنی اولاد کواللہ کے عذاب سے ڈراتے رہیں۔۵- آل اولاد دنیاداری کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہیں ہمارے لیے آزمائش اورفتنہ نیز امتحان بنایا گیا ہے لہٰذا ہمیں ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے ۔ نیز ان کے ساتھ عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے نیز لڑکی کی پیدائش پر بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہیے ۔۶- اولاد کی اصلاح ا ورکامیابی کے لیے دعا کرتے رہنے کا بھی اسلام ہمیں حکم دیتا ہے تاکہ نئی نسل کے لیے دعاؤں کے ذریعہ اچھے فیصلے لیے جاسکیں۔۷- خواتین اوربیویوں کے ساتھ حسن سلوک بھی نئی نسل کی اسلامی تربیت کاا ہم پہلو ہے کیوں کہ یہ خواتین ہمارے معاشرہ کا اہم حصہ ہیں لہٰذا غلط طلاق اورحلالہ کے نام پر ان کے ساتھ نا انصافی قطعا حرام ہے ۔۸- یتیموں ا ور لاچار بچوں کی کفالت کا بھی اسلام میں بڑا او نچا مقام ہے لہٰذا بچوں کے ساتھ اوربالخصوص یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک اوران کی اچھی تربیت انسان کے درجات کی بلندی کا اہم ذریعہ ہے ۔ نیز عام شہریوں اورغیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی بھی صالح معاشرہ کی تکمیل کا اہم عنصرہے جس کا خیال کیا جانا چاہیے۔اخیر میں نئی نسل کی ٹھوس تعلیم اور خالص اسلامی تربیت کی اپیل اوردعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔












