ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامہ کو دیکھیں تو موجودہ مرکزی سرکار کی دس سالہ کارکردگی کی روشنی میں اسے اتنا بھی اخلاقی حق نہیں ہے کہ وہ عام انتخاب میں عوام کے روبرو ہوکر یہ کہہ سکے کہ ہمیں تیسری بار اس لئے ووٹ دو کہ ہم نے 2047تک کا روڈ میپ تیار کر لیا ہے اور اگر آپ نے ہمیں ووٹ نہیں دیا تو پھر گذشتہ دس برس میں ہم نے بھارت کو وشو گرو بنانے کا جو خاکہ تیار کیا ہے اس خاکہ میں رنگ نہیں بھر پائینگے اور ساری محنت اکارت چلی جائیگی ۔لیکن یہ کوئی افواہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ بی جے پی اپنے اسی ایجنڈے کے تحت عام انتخاب میں اترنے جا رہی ہے اور اسے ملک کے عوام پر پورا اعتماد ہے کہ اسے عوام 2019سے بھی زیادہ ووٹوں سے کامیاب بنا کر پارلیامنٹ میں بھیجے گی ۔تو کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ بی جے پی کے سپریمو کو عوام پر کامل اعتماد ہے کہ وہ انہیں 2024میں بھی اقتدار سونپ دےگی ؟کیونکہ گاؤں کھیڑے کے لوگ ہوں یا قصبوں اور شہروں کے اس سرکار کی کار کردگی سے خوش صرف وہی لوگ ہیں جو یا تو بی جے پی کے پیڈ ورکر ہیں یا پھر اس لائن میں لگے ہیں۔ایک خاص طبقہ اور ہے جو اپر مڈل کلاس کی ایک شاخ ہے اور جو دنیا سے زیادہ آخرت کیاس وقت سوچتا ہے جب پوری زندگی سرکاری نوکری کرتے ہوئے ،رشوت لے لے کر اپنا گھر بھر لیتا ہے اپنے بچوں کو سرکاری نوکری دلوا چکا ہوتا ہے اور اب پارکوں میں صبح صبح پہنچ کر اس دنیا کے فانی ہونے اور مایا موہ سے نجات پانے کی درس دیتا ہے اسے بھی موجودہ سرکار بہت اچھی لگتی ہے ۔اور ان لوگوں کے زبانی ریڈیو اسٹیشن سے یہ خبر بھی نشر ہوتی ہے کہ بھارت کو وشو گرو بننے میں اب بس اتنی تاخیر ہے کہ 2024میں بھی مودی جی کو وزیر اعظم بنا دیا جائے ۔ورنہ کسان سے لے کر مزدور تک ،طالب علم سے لے کر استاد تک قلی سے لے کر خلاصی تک ، سب اس سرکار سے دکھی ہیں اور اسی لئے ملک اور بیرون ملک کے بہت سارے لوگوں کو حیرت ہے کہ آخر یہ اعتماد سرکار کے پاس کس برتے پر ہے ۔جبکہ ان دس برسوں میں نریندر مودی سے زیادہ ان کے جملوں نے مقبولیت حاصل کی ہے ۔جھوٹے وعدوں کا جو ہمالیہ پہاڑ اس سرکار کے دور اقتدار میں تعمیر کیا گیا اس کی برابری نہ ماضی میں کوئی کر سکا ہے اور نہ مستقبل میں کوئی کر سکے گا ۔
در اصل اس اعتماد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکار نے ان دس سالوں میں سرکاری ایجنسیوں کو پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا ہے ۔ان ایجنسیوں کی جو کارکردگی ہمیں دکھائی فے رہی ہے وہ تو نمونہ ہے دراصل ان ایجنسیوں کے لوگ ہر اس جگہ پر کام کر رہے ہیں جہاں سرکار کو لگتا ہے کہ ہم وہاں کمزور ہیں ۔اب آپ غور کیجئے کے مدھیہ پردیش میں گذشتہ روز وزیر اعظم کے خصوصی وزیر نے پہنچ کر پارٹی لیڈروں سے میٹنگ کی ۔ان لیڈروں میں خود وزیر اعلی بھی موجود تھے ۔وزیر اعظم کے نمائندے نے جن ایجنڈوں پر بات کی ان میں اہم یہ ایجنڈہ تھا کہ باغیوں سے کیسے نپٹا جائے ؟اپوزیشن سے کس طرح مقابلہ کیا جائے ؟سرکاری افسروں کا استعمال کہاں کہاں اور کیسے کیا جائے ؟اور خاص طور پر ان افسروں سے کس طرح پیش آیا جائے جو کہیں نہ کہیں اپنی ایمانداری دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور آخر میں محترم وزیر نے جہاں اور بہت سارے مشورے دئے وہیں یہ بھی کہا کہ جہاں بھی آپ لوگوں کو لگے کہ کوئی آفسر ہمارے قابو سے باہر ہو رہا ہے فورا اس کی شکایت الیکشن کمیشن میں کی جائے اسر مجھے اس کی اطلاع دی جائے ۔اور کمال یہ ہوا کہ سب سے آخر میں وزیر محترم نے ماما کو مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک کہ دیا کہ آپ بھی اپنے تمام افسروں کو ایس ایم ایس کر دیں کیونکہ ایسے کسی بھی افسر کو ہم بخشنے والے نہیں چاہے کسی کی بھی سفارش ہو ۔
یعنی وز یر محترم مدھیہ پردیش کے وصیر اعلی کو بھی رعایت دینے کو تیار نہیں اور نہ ان پر اعتماد کرنے کو تیار ہیں ۔جبکہ بی جے پی میں شیو راج سنگھ چوہان خود وزیر اعظم سے بھی سینئیر ہیں لیکن ان کو مودی جی کا جونئیر بھی دھمکی دے رہا ہے ۔الیکٹورل بانڈ کو لے کر شنوائی شروع ہونے سے ایک روز پہلے اٹارنی جنرل کا سوشل میڈیا پر جو پیغام نما انتباہ آیا اور جس پر ٹائمس آف انڈیا نے خبر بنائی ہے وہ انتباہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکار کو یہ اعتماد کہاں سے حاصل ہے ۔دراصل الیکٹورل بانڈ کو لے کر 2017سے ہی سنجیدہ حلقے میں یہ رائے بنی ہوئی ہے کہ الیکٹورل بانڈ کے رہتے سرکار تک بڑی کمپنیوں کا چندہ رکنے کا نام نہیں لیگا اور جب تمام سیکٹر کا 90فیصد چندہ برسر اقتدار پارٹی کو ہی حاصل ہوگا تو پھر اس کے بدلے میں یہ کمپنیاں اپنے حق میں پالیسی بنانے کے لئے مجبور کریںگی جو ان کا حق ہے ۔لہٰذا عوامی مفاد کا گلا گھونٹا جائے گا’’پرجا تنتر‘‘مذاق بن کر رہ جائے گا ۔بات صرف سنجیدہ گفتگو تک محدود نہ رہی بلکہ اس الیکٹرول بانڈ کی بات عدالت تک گئی اور جب اس معاملے کی شنوائی کا دن قریب آگیا تب ملک کے سب سے بڑے وکیل نے یہ بیان دیا کہ الکٹورل بانڈ سے جو پیسہ پارٹی فنڈ میں بطور چندہ دیا جاتا ہے اس کے بارے میں عوام کو تفصیل جاننے کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ پیسہ کون کسے اور کیوں دے رہا ہے اور اس پر شنوائی بھی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔یہ ہے سرکسر کا وہ اعتماد جس کے بل پر اسے یقین ہے کہ وہ 2024میں ہی نہیں بلکہ اس ملک میں ہمیشہ برسر اقتدار رہےگی ۔اب میری یہ باتیں آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں لیکن سچ یہی ہے کہ اب اس ملک میں انتخاب وغیرہ کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہی ۔
(شعیب رضا فاطمی)












