اب ہمارے ملک میں سال کے 365 دن انتخابات کی گرما گرمی رہتی ہے۔کارپوریشن اور پنچایت کے انتخابات سے لے کر اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخاب تک کی تمام سرگرمیوں میں دہلی براہ راست ملوث رہنے لگی ہے۔لیکن ان دنوں اس سرگرمی کا پارہ آسمان چھو رہا ہے کیونکہ آٹھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات اسی برس ہونے والے ہیں اور پھر2024 میں پارلیمانی انتخاب ہے۔ایسے میں ساری پارٹیاں اسمبلی انتخاب کو بھی پارلیمانی انتخاب کے سیمی فائنل کی طرح دیکھ رہی ہیں۔آئے دن مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ کی جارہی سروے کی رپورٹس آ رہی ہیں اور الگ دعوے کئے جا رہے ہیں۔عام طور پر سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر 2024 کے عام انتخاب میں ساری اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر انتخاب لڑا تو پھر نریندر مودی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ورنہ پھر مودی اینڈ کمپنی کو شکست دینا ایک مشکل مرحلہ ہے۔حالانکہ بی جے پی کے لئے 2024 کا انتخاب آسان نہیں ہوگا ،کم از کم 2019 جیسا مینڈٹ تو اسے ملنا مشکل ہے لیکن پھر بھی وہ این ڈی اے کے باقی بچے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سرکار تو بنا ہی لے گی۔لیکن ان دنوں کانگریس پرجوش ہے ، خاص طور پر راہل گاندھی کے ذریعہ کئے جانے والے بھارت جوڑو یاترا کی عوامی مقبولیت نے کانگریس کارکنان میں جوش بھر دیا ہے۔ان دنوں کانگریس کے سینئر لیڈر اور صدر ملکارجن کھڑگے بھی نہایت پرجوش ہیں اور بی جے پی کو مسلسل آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ کھڑگے کے مطابق 2024 میں کانگریس کی قیادت والا گروپ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا ہے۔
کھڑگے نے ناگالینڈ کے دیما پور میں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں مل کر 2024 میں بی جے پی کو سبق سکھائیں گی۔ مرکز میں مخلوط حکومت اقتدار میں آئے گی جس کی قیادت کانگریس کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس تمام جماعتوں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کر رہی ہے۔ کیونکہ جمہوریت کو بچانے اور آئین کو بچانے کے لیے بی جے پی کوشکست دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ہر وقت ہر پارٹی کو بات چیت کےلئے بلا رہی ہے۔ تمام پارٹیاں 2024 میں جیت کے بارے میں مسلسل اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس لیے بی جے پی کے لیے اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے۔ باقی تمام جماعتیں ایک ساتھ اکثریت حاصل کریں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کانگریس اس اتحاد کی قیادت کرنے جارہی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ کانگریس اپنا قائدانہ کردار چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی کو کبھی بھی ناگالینڈ کی فکر نہیں رہی ہے۔وہ ناگا لینڈ کو ترجیح دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی کی سیاست کا مقصد ناگاؤں کی دیسی اور منفرد ثقافت کو تباہ کرنا ہے۔ لہٰذا آپ کو اپنی ثقافت، پولرائزیشن اور نفرت کی سیاست پر اس حملے کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ کانگریس نے آزادی کے لیے اپنے کارکنان کی قربانی دی ہے ، کیا بی جے پی کے کسی لیڈر کو آزادی کے لیے پھانسی دی گئی، کیا کوئی جیل گیا؟ اس کے برعکس انہوں نے گاندھی جی کو قتل کیا جنہوں نے آزادی دلائی اور آج ایسے لوگ حب الوطنی کی تبلیغ کر رہے ہیں۔
2024 کے عام انتخاب کو لے کر مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے بھی کافی جارحانہ موڈ میں ہیں۔شیو سینا کے لیڈر ان دنوں کافی غصہ میں ہیں خاص طور پر بی جے پی سے وہ آمنے سامنے دودو ہاتھ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ان کی پارٹی اور اس کا انتخابی نشان چھن جانے کا غم تو انہیں ہے اور وہ اس کو بی جے پی کی گھناؤنی سازش قرار دے رہے ہیں۔ لیکن وہ مہاراشٹر میں عوام کے فیصلہ کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کو بھارت جوڑو یاترا سے جس طرح مقبولیت ملی ہے اس کے مد نظر اسے تمام حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا چاہئے تاکہ 2024کے عام انتخاب کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ادھو ٹھاکرے بھی شرد پوار کی طرح انتخاب سے قبل وزیر اعظم کا نام اچھالنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔وہ بھی یہی چاہتے ہیں بعد از نتائج بھی اس سلسلے میں میٹنگ کی جا سکتی ہے۔












