مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے آج ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر اندور سے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے صفائی ایوارڈ پر انگلیاں اٹھا کر اندور کے لوگوں کی توہین کی ہے ۔ ڈاکٹر یادو نے اندور لوک سبھا سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار شنکر لالوانی کی نامزدگی ریلی میں شرکت کی اور انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ لوک سبھا کی سابق اسپیکر سمترا مہاجن اور ریاستی حکومت کے وزراء کیلاش وجے ورگیہ، وزراء تلسی سلاوٹ اور مسٹر لالوانی میٹنگ میں موجود تھے ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔ ان کی زبان کی بنیاد پر کوئی بھی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ وہ اقتصادی سروے کی بات کرتے ہیں، وہ وراثتی ٹیکس کی بات کرتے ہیں۔ اگر وراثتی ٹیکس کی بات کریں تو پہلے وراثتی ٹیکس نہرو خاندان پر لگایا جانا تھا۔ نہرو خاندان کی وراثت اندرا گاندھی کو ملی۔ اندرا گاندھی کی وراثت ان کے بیٹے کو ملی اور ان کی بہو نے پیچھے سے اقتدار چلایا۔ اب پوتے آ گئے ہیں، جو اپنی دنیا میں رہ کر اور پتہ نہیں کس دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔
وہ ہندوستان میں الیکشن لڑتے ہیں اور امریکہ کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ہندو مسلم کی بات کرتے ہیں اور ہم سے مسلمانوں کی بات کرنے کو کہتے ہیں۔ وہ مسلم لیگ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، کانگریس نے وہ کر دکھایا جو انگریز 1947 میں نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے تہیہ کر لیا ہے کہ اس بار 400 کو پار ، اس بار مودی حکومت ۔اندور شہر کی صفائی میں مسلسل نمبر ون آنے پر مدھیہ پردیش اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار کے بیان پر ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اندور کو صفائی کی عزت ملی، کانگریس لیڈر سوچ رہے ہیں کہ آپ اندور کے لوگوں کی توہین کرکے الیکشن جیت جائیں گے ۔
اندور اور پوری ریاست اس پر ناراض ہے ۔ اس بار بی جے پی اندور میں جیت کا ریکارڈ توڑے گی، اپوزیشن لیڈر مسٹر سنگھار نے حال ہی میں اس ایوارڈ پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سب جانتے ہیں کہ یہ ایوارڈ کیسے آتا ہے ‘۔ اس سے پہلے مسٹر لالوانی نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی موجودگی میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔












