کانگریس اپنے سیاسی وجود کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔راہل گاندھی پارٹی کی آخری امید ہیں اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کانگریس کو اس کی کھوئی ہوئی ساکھ واپس دلانا چاہتے ہیں۔لیکن وہ اپنی فکر کے ساتھ تنہا یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور جیتنا بھی چاہتے ہیں جو ناممکن نہ بھی ہو لیکن مشکل ضرور ہے۔بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ انہوں نے بھارت کے لوگوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ کانگریس وہ واحد پارٹی ہے جو پورے ملک کے عوام کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے،اور کثیر ثقافتی تہذیب کی نمائندگی کانگریس شروع سے کرتی رہی ہے۔نفرت کے خلاف ان کے ذریعہ اٹھائی گئی آواز پورے ملک نے سنی اور یہ وقت تھا جب کانگریس کا ہر ممبر اور اس کے لیڈر کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا تھا کہ راہل گاندھی کے ساتھ ایک ایک کانگریسی کھڑا ہے۔لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہاہے،کیونکہ مدھیہ پردیش میں اس سال ہونے والے انتخابات کے حوالے سے جو خبر آ رہی ہے وہ چونکانے والی ہے۔مدھیہ پردیش کانگریس نے اسی سال ہونے والے اسمبلی انتخاب کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق بھوپال میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے دفتر پر پہلی بار بھگوا رنگ کے جھنڈے لگائے گئے ہیں۔ کانگریس کے دفتر کا بیرونی حصہ ہو یا اندرونی سجاوٹ، ہر جگہ بھگوا رنگ نظر آرہا ہے۔ اتوار کو ریاستی کانگریس دفتر میں کانگریس پجاری سیل کا ایک روزہ پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ پارٹی نے اسے دھرم سنواد اور مٹھ مندر خود مختار قرارداد کے دن کے طور پر منظم کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں ایسا منظر پہلی بار دیکھا گیا ہے جب کانگریس کے دفتر پر بھگوا جھنڈا لہرایا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش کانگریس کے مندر پجاری سیل کے نمائندے سدھیر بھارتی نے بتایا کہ ریاست بھر سے مندروں کے پجاری سیل کے عوامی نمائندوں، ضلع صدور، مہنت اور مندروں کے پجاریوں سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد، دھرم سنواد پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ یعنی مدھیہ پردیش کانگریس کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے بنائی ہوئی مذہبی پچ پر کھیل کر ہی بی جے پی کو شکست دے سکتی ہے۔
دوسری طرف راجستھان میں بھی اسی سال اسمبلی انتخاب ہے اور راجستھان کانگریس نے انتخابات سے پہلے اپنے ہندوتوا پلان پر کام شروع کر دیا۔سی ایم اشوک گہلوت نے دیر رات ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کر کے جے پور بم دھماکہ کیس میں سزائے موت کے ملزمین کے بری ہونے کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر نے کیس کی کمزورپراسیکیوشن پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) راجندر یادو کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔اے اے جی کو اس کیس کی کارروائی کا کام سونپا گیا تھا۔ اب وزیراعلیٰ نے دھماکے کے کیس میں بری ہونے والے ملزمان کے خلاف جلد از جلد سپریم کورٹ میں خصوصی رخصت کی درخواست (SLP) داخل کرنے کا فیصلہ کر کے ہندو ووٹر کو یہ پیغام دیا ہے کہ بری ہونے والے مسلمانوں کو وہ مجرم سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک بار پھر بی جے پی نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنا شروع کر دےئے ہیں اور بھارت کی سیاسی تاریخ کے جاننے والے خوب واقف ہیں کہ بی جے پی کی سیاست سے اگر فسادات کو منہا کر دیا جائے تو اس کی کارکردگی کا کھاتا بالکل خالی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بی جے پی کی مدد کے لئے سب سے آگے آنے والی تنظیم بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد ہے،اور اس سال بجرنگ دل اپنی ساٹھویں سالگرہ بھی منا رہا ہے ایسے میں اس نے اعلان کیا ہے کہ رام نومی سے لے کر مہاویر جینتی تک اس کے پروگرام جاری رہیںگے،یعنی 6 اپریل تک اور ان کے جشن منانے کا انداز کیا ہے اسے سارے بھارت کے لوگ جانتے ہیں۔بہار ،بنگال اور مہاراشٹرا میں اس کا نمونہ دیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔پورے ملک کے لوگ اب ہندوؤ ں کے تہوار کا نام سن کر کانپ جاتے ہیں۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے اس کے تمام شواہد موجود ہیں لیکن ایکشن لینے کی راہ میں ووٹوں کی سیاست دیوار بن کر کھڑی ہے،اور اب تو ووٹوں کی اس سیاست کے حمام میں ساری پارٹیاں ایک ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
کانگریس نے اگر سافٹ ہندوتو کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر یہ سمجھ لیا جانا چاہئے کہ اب اس ملک کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے پاس سوائے نفرت پھیلانے کے اور کچھ نہیں ہے۔نہ اس کے پاس کوئی معاشی ترقی کا پلان ہے اور نہ ہی جدید ٹکنالوجی سے ملک کو آراستہ کرنے کی کوئی پالیسی۔اس کی اکانومی کی پالیسی کا ایک نمونہ تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں جس کے تحت وہ تمام اثاثوں کو چند ہاتھوں تک محدود کر دینا چاہتی ہے۔لیکن کانگریس نے اب اگر خود بھی مذہب کی سیاست کرنے کا من بنا لیا ہے تو پھر اسے اس ملک کی بدنصیبی ہی کہیں گے ۔












