بدھ کے روز الیکشن کمیشن نے کرناٹک اسمبلی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔کرناٹک میں اب 10 مئی کو انتخاب ہوگا اور13 مئی کونتیجے کا اعلان کر دیا جائے گا۔فی الوقت کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہے اور اسے قائم رکھنے کے لئے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔انتخابی لائحہ عمل بنانے کے ماہر سمجھے جانے والے امت شاہ کرناٹک کے کئی دورے کر چکے ہیں۔اور وزیر اعظم کا بھی کئی دورہ ہوچکا ہے۔ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامہ میں بی جے پی کا کرناٹک میں جیتنا بے حد ضروری ہے۔کیونکہ یہ فتح کاسلسلہ ہی 2024 تک جائے گا اور بی جے پی کے ورکرز کا حوصلہ بلند ہوگا۔
دوسری طرف کانگریس اور جے ڈی ایس بھی اقتدار حاصل کرنے کےلئے اپنی سی کوشش میں مصروف ہے،اور اب جب انتخابی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے تو اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ سیاسی مبصرین تو کافی عرصہ سے کہہ رہے ہیں کہ کرناٹک میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور انتخابی نتائج پر اس کا اثر نظر آ سکتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ بار بار کرناٹک کا دورہ کر رہے ہیں۔عوام کو رجھانے کےلئے بی جے پی نے کئی اعلانات بھی کئے ہیں لیکن وعدوں کے سلسلے میں نریندر مودی پر عوام کا اعتماد بہت کمزور ہوا ہے اور یہ مانا جا رہا ہے کہ کرناٹک میں مودی کا جادو چل نہیں پائے گا۔کانگریس کو اس انتخاب میں ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب کانگریس کے صدر کرناٹک سے ہی ہیں اور ان کا تعلق پسماندہ طبقے سے ہے ۔
انتخابی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی اے بی پی نیوز چینل نے سی ووٹر کے ایک سروے کو نشر کیا ہے۔اور اس کے نتائج بھی بی جے پی کے حق میں نہیں ہیں۔سی ووٹر کے مطابق اس صوبائی انتخاب میں کانگریس کو چالیس فیصد لوگ پسند کرتے ہیں جبکہ بی جے پی کی واپسی کے حق میں صرف 35 فیصد لوگ ہیں،سروے کے مطابق جے ڈی ایس کو اٹھارہ فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ 7فیصد ووٹ آزاد امیدواروں کے حق میں جا سکتا ہے۔
سی ووٹر نے ووٹ فیصد کے مطابق کانگریس کو 115 سے 128 سیٹ جیتنے کے امکان بتائے ہیں جبکہ بی جے پی کو 68 سے 80 سیٹ پر کامیاب ہوتے دکھایا گیا ہے۔ وہیں اس سروے میں جے ڈی ایس کو 23 سے 35 جبکہ دیگر کو صرف 2سیٹ ملنے کے امکان ہیں ۔یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس کے حق میں رائے عامہ ہموار ہونے کے آثار ہیں۔ یقینا یہ کانگریس کے لئے خوشی کی خبر ہے،لیکن بی جے پی کے لئے بری خبر،ایک طرح سے تنبیہ بھی کہ اب مودی جی کا جادو چل نہیں پائے گا۔ابھی چند روز پہلے کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ کرناٹک میں اب مودی جی کی شبیہ کام آنے والی نہیں ہے۔اگر ہم سی ووٹر کے سروے کو سچ مان لیں اور یہ بھی تسلیم کر لیں کہ کھڑگے جی کا بیان بھی درست ہے تو پھر بی جے پی کی تو لٹیا ہی ڈوب جائیگی ،کیونکہ اس کے پاس سوائے نریندر مودی کے اور کچھ ہے بھی نہیں،اور یہی وجہ ہے کہ سی ووٹر ہو یا کانگریس کے صدر کا بیان حلق سے نہیں اترتا۔
ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ اتنا گدلا ہو چکا ہے کہ کچھ بھی صاف صاف نظر نہیں آ رہا ہے۔عام لوگ اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف بولنے سے بھی کتراتے ہیں۔ پولیس کا خوف اتنا ہے کہ پریس رپورٹر بھی خود کو بچا نہیں پارہے ہیں۔حکومت کے خلاف کچھ بھی بولنے اور لکھنے والے کو غدار وطن کہہ دینا عام بات تھی لیکن اب باضابطہ UAPA کے تحت مقدمات درج ہو رہے ہیں،اور اس تشویش کا اظہار سپریم کورٹ بھی کئی موقعوں پر کرچکا ہے۔اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہیٹ اسپیچ کے کتنے مقدموں کو سنا جائے۔مذاہب کا سیاست میں براہ راست عمل دخل ہو چکا ہے اور جب تک ملک کی سیاست میں مذہب کا استعمال ہوتا رہیگا ہیٹ اسپیچ پر قد غن نہیں لگا جا سکتا ۔
سپریم کورٹ کی یہ تشویش معمولی نہیں ہے،یہ مہر ہے اس نیریشن پر کہ ملک کی موجودہ سیاست نفرت کی بنیاد پر کھڑی ہے،اور جیسے ہی اس گدلے ماحول کو صاف کرنے کی کوئی کوشش ہوگی اس منافرت کے ماحول سے جسے فائدہ ہو رہا ہے وہ اپنا رد عمل ظاہر کرے گا۔ اور چونکہ اس کے وجود کا مسئلہ ہے اس لئے وہ کچھ بھی کرنے کو آزاد ہے،اور یہی فطرت کا نظام بھی ہے کہ باطل بھی حق کے مقابلے لڑتے ہوئے خود کو باطل نہیں بلکہ حق کا فرستادہ ہی سمجھتا ہے۔












