نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اتوار کے روز مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حالیہ پیش رفت سے پاکستان کو نئی عالمی مقبولیت مل رہی ہے۔ مسٹر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سخت بیان میں پاکستان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے نام پر دھوکہ دہی” اور "آئی ایم ایف اور چین اور سعودی عرب جیسے ممالک پر منحصر معیشت” قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ تاریخی پس منظر پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر جے رام رمیش نے کہا کہ سابق امریکی صدور بل کلنٹن، مسٹر جارج ڈبلیو بش، مسٹر بارک اوباما اور مسٹر جو بائیڈن کے دور میں پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صورتحال اب پلٹ چکی ہے اور پاکستان نئے سرے سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر بھی تنقید کی، انہوں نے اسے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی حکمت عملی کی "بڑی ناکامی” قرار دیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر جے رام رمیش نے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسیوں نے بھی پاکستان کی صورتحال میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود ایسی تبدیلی کیوں آئی؟ ہاؤڈی مودی پروگرام” اور "نمستے ٹرمپ پروگرام” جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ذاتی سفارت کاری پر بہت زیادہ زور دیا گیا، لیکن اس کے مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ کو مطمئن کرنے کی کوششیں بشمول تجارت سے متعلق فیصلوں سے کوئی سفارتی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شخصیت پر مبنی خارجہ پالیسی” اب کمزور ہو رہی ہے اور اس سے ہندوستان کی عالمی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ کانگریس کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی اور عالمی سفارتی صورتحال پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔












