شعیب رضا فاطمی
دہلی، ذرائع کے مطابق سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند، سابق وزیر منوہر لال، سابق ایم ایل اے بلونت سنگھ سمیت 100سے زیادہ سابق کانگریسی لیڈروں کے جمعہ کو گرینڈ اولڈ پارٹی میں شامل ہونے کی امید ہے۔کانگریس ڈی اے پی باغیوں کی گھراپسی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اگست میں کانگریس چھوڑنے کے بعد آزاد نے اپنی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کی تشکیل کی تو ان رہنماؤں نے کانگریس چھوڑ دی تھی۔ غلام نبی آزاد نے سب سے پرانی پارٹی میں مختلف مسائل کے لیے راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھااور پھر انہیں الگ پارٹی بنانا پڑی تھی ،ان میں سے زیادہ تر لیڈر ڈی اے پی کے بانی ارکان ہیں، لیکن حال ہی میں جب ان لیڈران نے راہل کے دورے کی عوامی سطح پر تعریف کرنے کے بعد انہیں نکال دیا تھا۔ اے آئی سی سی کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’’ہاں، اب تک ڈی اے پی کے 26لیڈر کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں اور اب تارا چند سمیت دیگر کی شمولیت متوقع ہے‘۔ کانگریس کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ڈی اے پی باغیوں کی واپسی اور یاترا میں ان کی شرکت آزاد کے لیے ایک مناسب جواب ہو گا، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی کے کہنے پر انہوں نے کانگریس کو دھوکہ دیا ہے۔ حالانکہ کانگریس نے حال ہی میں ان خبروں کی تردید کی تھی کہ وہ آزاد کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، پارٹی کے ایک حصے کا خیال ہے کہ ڈی اے پی میں شمولیت سے غلام نبی کو گرینڈ اولڈ پارٹی میں جگہ دینا پڑے گی۔ حال ہی میں جب راہول گاندھی سے آزاد کی کانگریس میں واپسی کے امکانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ملا جلا ردعمل دیا۔ راہل نے کہا’ ‘میں کیا کہہ سکتا ہوں… اس نے مجھے بھی الجھا دیا ہے… کبھی وہ اندر ہوتے ہیں کبھی باہر‘۔ یاترا جموں کشمیر میں 20جنوری کو شروع ہوگی اور کانگریس کیلئے اہم ہے کیونکہ راہل 26جنوری کو سری نگر میں ہندوستانی پرچم لہرا کر اپنے ملک گیر پیدل مارچ کا اختتام کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے کہا ہے کہ یاترا میں شرکت کے لیے کسی کا بھی خیرمقدم ہے اور اس نے این سی لیڈر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی کو بھی مدعو کیا ہے، جبکہ آزاد کو ایسا کوئی دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا ہے۔












