نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی پر خواتین کے ریزرویشن معاملے پر "یو ٹرن” لینے کا الزام لگایا ہے۔مسٹر رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم میڈیا میں مضامین لکھ کر خود کو خواتین کے ریزرویشن کا واحد چیمپیئن” دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب 2023 میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، تب کانگریس نے اسے 2024 سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے اسے مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے جوڑ دیا، جن کے عمل میں تاخیر ہوئی۔کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ تقریباً 30 ماہ بعد، ممکنہ انتخابی نقصان کو دیکھتے ہوئے حکومت اب اپنا رخ بدل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اب مردم شماری اور اس سے جڑی حلقہ بندیوں کو نظر انداز کرنے کی بات کر رہی ہے، جبکہ حکام کے مطابق اس کے نتائج 2027 تک آ سکتے ہیں۔ مسٹر رمیش نے مرکزی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے میں ناکام رہی ہے اور خواتین کے ریزرویشن کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ تیار نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن سیاست” ہے جس کا مقصد حکومت کی ناکامیوں اور خارجہ پالیسی کے مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ پورا نقطہ نظر خاص طور پر تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی خواتین کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس دیگر ٹھوس مسائل کی کمی ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس نے آج شام کانگریس ورکنگ کمیٹی کی اہم میٹنگ طلب کی ہے جس میں پارٹی کی جانب سے خواتین کے ریزرویشن پر بحث ہوگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔












