ایک سیکولر ملک میں انتخابی خطاب ہی وہ واحد خطاب ہوا کرتا ہے جہاں سیاسی پارٹیوں کے سینئر لیڈر اپنی پارٹی کا موقف، گذشتہ اور آئندہ کاکردگی کی روداداور عزم و ارادہ براہ راست عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ ووٹر کو ووٹ دینے میں آسانی ہو۔ چونکہ ووٹر ایک آئینی عہدے کیلئے اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس مرحلے میں جو پارٹی لیڈر بیان دے اسے آئین کی سمجھ ہو اور اس کی گفتگو کا کوئی جملہ خلاف آئین اور قابل گرفت نہ ہو کیونکہ یہ ساری گفتگو پبلک ڈومین میں محفوظ رہتی ہے اور ایک آزاد و خود مختار آئینی ادارہ الیکشن کمیشن اس پوری گفتگو پر نظر رکھتا ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی انتخابی مرحلے میں ووٹرس سے خطاب کے لئے اپنی پارٹی کے منتخب قابل اور سنجیدہ نمائندوں کی ایک فہرست مرتب کرتا ہے جو عوام میں مقبول بھی ہوتے ہیں اور جن کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ عوام کو متاثر کر سکیں ۔لیکن اب یہ سارا منظر نامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے ۔اور اب یہ کہنا ضروری ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک میں نام نہاد جمہوریت ہے جس کا ہر قدم پر آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہی بر سر عام مذاق اڑا رہے ہیں ۔اس سلسلے میں بی جے پی کا نام سر فہرست ہے جس نے الیکشن کمیشن کو اپنا ماتحت ادارہ بنا لیا ہے اور کھل کر ملک میں نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔کرناٹک کے حالیہ انتخاب میں اس کی متعدد مثالیں ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔خود وزیر اعظم آئے دن آئین و قانون کی دھجیاں اڑا تے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کی تقلید کرتے ہوئے ان کے منظور نظر لیڈران تمام آئینی بندشوں کو طاق پر رکھ کر کچھ بھی بولتے ہیں ۔کرناٹک انتخاب میں دئے گئے بیانات پر ہی اگر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے الیکشن کمیشن کا ملک میں کوئی وجود نہیں ہے ۔اور اگر ہے بھی تو اس کو اپنی ذمہ داریوں کا نہ تو پاس ہے نہ لحاظ۔
بجرنگ دل کو بجرنگ بلی سے منسوب کرنے کی جو جسارت نریندر مودی نے کی ہے وہ اپنے آپ میں تاریخی ہے ۔لیکن زرا زرا سی بات پر آستھا کا حوالہ دینے والے ہندو لیڈروں کے کان بھی بند ہیں اور منہ بھی سلے ہوئے ہیں ۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ رام کے سب سے بڑے بھکت پون پتر ہنومان کو بجرنگ دل جیسی ملیشیا سے منسوب کرکے نریندر مودی نے ہزاروں سال سے ہنومان کے صابر کردار کو تہس نحس کر دیا ہے ۔خوف اور دکھ کی گھڑی میں جس ہنومان چالیسا کو پڑھ کر صدیوں سے ہندو دھرم کے لوگ سکون و اطمینان حاصل کرتے تھے اس ہنومان کو بجرنگ دل سے جوڑنا اور پھر اس پر فخر کرنا کس قسم کی سیاست ہے یہ سمجھ سے پرے ہے۔ پورے ملک میں بجرنگ دل نام ہے ایک ایسے گروہ کا جو گراہم اسٹینس سے لے کر ہزاروں افراد کے قتل میں براہ راست بھی اور بالوسطہ بھی شریک رہا ہے ۔اور پولیس اسٹیشنوں سے لے کر عدالتوں تک میں اس کے کارکنوں پر جتے کیسز درج ہیں ،جتنے اس کے لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں یہ ثبوت ہے کہ اس تنظیم کی کارکردگی کیا ہے ۔گؤ رکچھکوں کے نام پر جس تنظیم کی دہشت پورے ملک میں ہے اور جو کھلے عام مسلمانوں کا پیسہ نہ دینے پر لنچ کر دینے کیلئے بدنام ہے اور جس کی سرگرمیوں پر خود نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد سخت تنقید کیا تھا آج اسی تنظیم کو نریندر مودی شیو کے اوتار ہنومان سے سے موازنہ کرتے ہوئے زراسا بھی جھجھک محسوس نہیں کر رہے ہیں اور ان کی پارٹی سمیت پوری گودی میڈیا اسے ان کا ماسٹر اسٹروک بتا رہی ہے ۔
کرناٹک اسمبلی انتخاب کے منشور میں کانگریس نے بجرنگ دل پر پابندی لگانے کے ارادے کا اظہار کر کے کانگریس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹنا چاہ رہی ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ کرناٹک میں انتخاب کا نتیجہ کیا ہوگا ،لیکن کانگریس نے اپنے موقف کا جرات مندانہ اظہار کر کے پورے ملک کے سیکولر عوام کو ایک ایسا پیغام دے دیا ہے جس سے 2024کے انتخاب میں اسے بڑا فائدہ ملیگا ۔کانگریس نے اس طرح بی جے پی کے خلاف بھی ایک شدید حملہ کیا ہے جو کاری ہے ۔اور اس کا ضرب اتنا شدید ہے کہ اسمرتی ایرانی جیسی پارسی لیڈر بھی پرینکا گاندھی کو نماز پڑھواتی نظر آنے لگیں ۔خبر ہے کہ انڈیا ٹی وی کے ساتھ بات چیت میں اسمرتی ایرانی نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے پرینکا گاندھی کو امیٹھی میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ جو لوگ اسلام میں یقین رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، مورتیوں کی پوجا نہیں کرتے، شاید اسی لیے کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے رام مندر کی تعمیر کی اجازت نہیں دی تھی ۔
اسمرتی نے مزید کہا کہ کانگریس ہندوؤں سے نفرت کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ دہشت گرد گروپ کا موازنہ بجرنگ دل سے کرتی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل 2019 میں بھی پرینکا گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امیٹھی میں کانگریس جنرل سکریٹری نے ووٹ کے لیے نماز پڑھائی۔ اور اس کے بعد مدھیہ پردیش کے اجین میں واقع مشہور مہاکالیشور مندر کا بھی دورہ کیا۔












