حیدرآباد،(یواین آئی) کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے تلنگانہ کے بلدی انتخابات میں پارٹی کی شاندار کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خط اعتمادعوام کے بھروسہ کی عکاسی کرتا ہے۔ تلنگانہ کانگریس نے جمعہ کو بلدی انتخابات کے نتائج میں زبردست جیت درج کی جبکہ بی آر ایس اور بی جے پی بھی اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیاب رہیں۔ 11 فروری کو ہوئے انتخابات میں 116 بلدیات کے جملہ 2,582 وارڈوں میں سے کانگریس نے 1,300 سے زیادہ وارڈس حاصل کئے،اس کے بعد بی آر ایس (تقریباً 700 وارڈس) اور بی جے پی (تقریباً 275 وارڈس) کا نمبر رہا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کھرگے نے کہا "میں تلنگانہ کانگریس کے سرگرم کارکنوں کی اس قابل تحسین جیت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ خط اعتمادعوام کے بھروسہ کی علامت ہے۔”کانگریس کے سربراہ نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت عوامی تلنگانہ کے اپنے پختہ عہد پر قائم ہے جہاں ریاست کے 3.8 کروڑ عوام کے لئے سماجی انصاف، معاشی بااختیار بنانے اور مسلسل ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ جن سات میونسپل کارپوریشنس میں پولنگ ہوئی، ان میں سے کانگریس نے تین میں کامیابی حاصل کی اور ایک پر سبقت برقرار رکھی جبکہ بی جے پی نے کریم نگر اور نظام آباد میں اکثریتی نشستیں حاصل کیں۔ کوتہ گوڑم میونسپل کارپوریشن میں کانگریس اور سی پی آئی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے تلنگانہ کے بلدی انتخابات کے نتائج کو کانگریس کے حکمرانی کے ماڈل پر عوام کے بھرپور اعتماد کا اظہار قرار دیا۔سوشل میڈیا پر سرگرم وینوگوپال نے اس خصوص میں کئے گئے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ریاست کے عوام نے عوامی مرکز حکمرانی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے نچلی سطح پر بھی نافذ کرنے کے لئے ووٹ دیا ہے۔ وینوگوپال نے اس شاندار کامیابی پر وزیراعلیٰ ریونت ریڈی، اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ، وزراء اور کانگریس کے تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے اس جیت کے لیے سخت محنت کی۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ کا اختتام جے تلنگانہ اورجے کانگریس کے نعروں کے ساتھ کیا۔تلنگانہ کی وزیربہبودی خواتین واطفال سیتکا نے کہا ہے کہ کانگریس نے بلدی انتخابات میں تقریباً 80 سے 95 فیصد نشستیں جیت کر شاندار کامیابی حاصل کی ہے جسے انہوں نے کانگریس حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں پر عوامی اعتماد کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس نے انتخابات میں پیسے اور دیگر ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا لیکن عوام نے ان کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بی آر ایس کے پاس صرف اقتدار نہیں تھا، باقی تمام وسائل موجود تھے، پھر بھی عوام نے کانگریس کے دو سالہ عوامی حکمرانی کو ترجیح دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پارٹی میں کچھ مقامات پر باغی امیدواروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور خود انہیں بھی اپنے حلقہ انتخاب میں ایسی صورتحال پیش آئی۔ سی پی آئی کے ساتھ بعض مقامات پر اختلافات کے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس اور سی پی آئی کا اتحاد صرف تلنگانہ تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سطح پر انڈیااتحاد کا حصہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مقامی سطح پر چھوٹے موٹے مسائل کے باوجود دونوں پارٹیاں متحد رہیں گی۔












