شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی، 3 جنوری، سماج نیوز سروس : ہلدوانی میں ریلوے کی زمین پر ناجائز قبضہ کوہٹانے اور اتراکھنڈ کے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف احتجاج کر رہے متاثرین کو ایک خاص مذہب کابتا کر ہندی کے ایک اخبار نے جو سرخی لگائی ہے وہ نہایت شرمناک ہے۔اخبار اس خبر کو”شاہین باغ بنی ہلدوانی کی غفور بستی "کے عنوان سے رپورٹ کرتے ہوئے خبر کے ہائی لائٹر میں لکھتا ہے کہ شاہین باغ کی طرز پر یہاں بھی عورتوں اور بچوں کو آگے کرکے احتجاج کیا جا رہاہے۔یعنی یہ اخبار 4365گھروں پر مشتمل اس آبادی کو جہاں پچاس برس پرانا درگا مندر ہے، ساہو دھرم شالہ ہے، 70برس قدیم شیو گوپال مندر ہے،دو ریاستی انٹر کالج ،دو پرائمری اسکول ،جس میں سے ایک برٹش فور کا ہے ،ایک جونیئر ہائی اسکول، 6سے زائد پرائیویٹ اسکول، ایک اسپتال، 1970کے دہے میں ڈالی گئی سیور لائن کارپوریشن کا کمیونٹی سنٹر اور 10-12 مساجد بھی ہیں ۔لیکن اخبار اس ملی جلی آبادی والی بستی کو ایک خاص مذہب کی آبادی والا بتا کر معاملے کو مذہبی زاویہ دینے کے فراق میں ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف یہاں کے ایم ایل اے دس مقامی لوگوں کے ساتھ سپریم کورٹ تک۔پہنچ چکے ہیں اور سپریم کورٹ نے معروف وکیل سلمان خورشید کی رٹ پر 5جنوری کو شنوائی کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے ۔لیکن اسی بیچ کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئر مین اور ممبر آف پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملے پر بیان دے کر فرقہ پرستوں کو دعوت دے دی ہے کہ وہ اسے زعفرانی چشمے سے دیکھیں۔ کیا کانگریس کے پاس ہلدوانی مسلے پر بیان دینے والا دوسرا کوئی لیڈر نہیں ہے؟ کیا سچ مچ کانگریس کے لیڈر اور معروف وکیل سلمان خورشید کا عدالت میں پیش ہونا ہی کافی نہیں تھا جو شاعر اعظم کو بھی بیان دینے کی ضرورت پڑگئی؟ موجودہ سیاسی منظرنامہ کے تقاضوں کو مد نظر رکھے بغیر سیاسی بیان بازی نے کانگریس کو پہلے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن اس کے شعلہ بیان لیڈروں نے شاید ماضی سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔












