قومی دارالحکومت دہلی کے اتم نگر کا معاملہ سوشل میڈیا پر آج کل نہ صرف سرخیوں میں ہے بلکہ اب یہ دہلی کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول میں نفرت کا زہر گھول کر بھائی چارہ کی فضا کو مکدر کرنے میں خاص رول ادا کررہا ہے ۔ جس طرح سے کچھ فرقہ پرست عناصرکے ایک گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک منظم سازش کے تحت دو گھروں کے جھگڑے کو فرقہ وارانہ جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے تو وہیں کچھ سستی شہرت حاصل کرنے کی لالچ میں کچھ بے لگام زعفرانی یوٹیوبرز اور انفلو اینسرس ریاست کے امن و قانون کو غارت کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔ اس سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے تخریب کاروں کےکیا مقاصد کارفرما ہیں ۔ پورے معاملے پر دہلی پولس بے بس ہے اور حکومت چند عدد غنڈوں کے دبائو میں کام کرنے کو مجبور اور تماشائی بنی ہوئی ہے !۔ کہ جاسکتا ہے کہ جس فارمولے کو پہلے یوپی اور دوسری ریاستوں میں نافذ کیا گیا اب اس کا اطلاق دہلی میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالتوں ا ور قانون کو ٹھینگا دکھاکر یہ جتانے کی کوشش کی جا رہی ہے اب عدالتوں میں نہیں ، انصاف سڑکوں پر ہی کیا جائےگا! ۔ جبکہ پولس نے اس معاملے میں مسلم فریق کے 16 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ ان میں کچھ شدید زخمی حالت میں ہیں ، ایک مسلم نوجوان کی موت ہو چکی ہے جس کی پولس نے تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہندو فریق کے لوگ سکون سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے پولس اور انتظامیہ پر دبائو بنا کر مسلم فیملی کے تین منزلہ گھر کا پولیس کی موجودگی میں پہلے توسامان لوٹا اور پھر گھر کو بلڈوزر سے تہس نہس کر دیا گیا ۔ سوشل میڈیا کے سیکڑوں ویڈیوز اس بات کے گواہ ہیں کہ کس طرح پولس کی ناک کے نیچے یہ سب ہنگامہ ہوا اور کس طرح مسلم کنبہ کے گھر کوایک بھیڑ کے ذریعہ لوٹ لیا گیا۔ ہمارا مقصد یہاں کسی ایک فریق کی حمایت کرنا ہرگز نہیں ہے ،معمولی لڑائی میں ترون نامی شخص کی بے رحمی سے پٹائی اور موت کا سبھی کو بےحد افسوس ہے ۔ یہ قابل مذ مت ہے ۔اس کا درد اس کے ماں باپ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ جس نے یہ جرم کیا اسے سزا ضرور ملنی چاہئے ۔ لیکن اس میں حقائق پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے ۔ پولس نے اپنی ایک شروعاتی بیان میں کہا ہے کہ یہ معاملہ دو گھروں کے بیچ جھگڑے کا ہے اور دونوں کے درمیان اکثر تکرار اور تنازعے ہوتے رہے ہیں۔اور معاملہ یک طرفہ نہیں ہے جس طرح سے پیش کیا گیاہے ۔ اس میں مسلم فریق کے بھی پانچ لوگ سخت زخمی ہیں۔ کئی کنبے در بدر ہیں ، انکا مکان بھی تہس نہس کر دیا گیا اوراب بھی کئی خواتین حراست میں ہیں ۔علاقہ میں پچھلے کئی دن سے لوگوں کا کاروبار بند ہے اور دکانیں نہیں کھلیں ہیں۔ مسلمانوں میں اس واقعے کے بعد کے حالات سے زیادہ سراسیمگی اور دہشت پائی جارہی ہے۔ اتم نگر کے واقعے کو جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنےاور نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا اس سے اصل سچائی چھپائی نہیں جاسکتی ۔ چونکہ وہاں کے مسلمان ڈرے سہمے ہیں اس لئے کچھ بولنے سے قاصر ہیں ۔ ابھی تک ان میں سے کوئی کچھ بولنے تیار نہیں تھا ۔ اب دھیرے دھریے پرتیں کھل رہی ہیں۔ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کی سننے والا کوئی نہیں تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ترون کا ایک پارکنگ کو لے کر مسلم فیملی سے جھگڑا ہوا تھا اور ہولی سے قبل بھی وہ کئی بار جھگڑ چکے تھے۔ ان کے مطابق ترون نے اپنے ساتھیوں کو بلاکر مسلم فریق سے مارپیٹ کی اور اس دوران اس کو چوٹیں آئیں ۔ بعد میں اس کی موت ہوگئی ، لیکن اس کا افسوس علاقہ کے مسلمانوں کو بھی ہے ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ آج مسلمانوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس سے پہلے ترون کے گھر کی شادی میں علاقہ کے کئی مسلمان شریک ہوئے تھے ان کوبھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس لئے اتنی نفرت کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک سازش ہے ۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ہمارا خیال ہے کہ پہلے دونوں فریقوں کی بات سنی جا نی چاہئے ۔ ادھر پولس پر اکثریتی طبقہ کے لوگوں کا یہ دبائو ہے کہ ترون کو پیٹنے والوں کا انکائونٹر ہواور انکوائیری سی بی آئی کے حوالے کی جائے۔
لیکن مسلم فریق کا کہنا ہے کہ جو لوگ ،ہولی کے دن مبینہ طور پر غبارہ میں کیچڑ پھینکنے کے بعد مسلم خاتون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر اعتراض کرنے سے بپھرے ہوئے تھے وہی دیر شب دوبارہ مسلم کنبہ سے جھگڑا کرنے اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ پہنچے تھے جس کی قیادت مبینہ طور پر ترون کررہا تھا ۔ تب یہ لڑائی زیادہ بڑھی۔ اور خونی تصادم میں بدل گئی۔ اس کے بعد الٹا سینہ زوری دکھاتے ہوئے مسلم فریق کو ہی پورے جھگڑے کا ذمہ دار گرداننے اور خود کو بچاتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جس کو بجرنگ دل اور ہندو رکشا دل کے غنڈے ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ قانون کے بھی ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اور غیر جانب دارانہ تحقیقات میں سب کچھ جلد صاف ہوجائےگا ۔
الغرض ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پورا معاملہ ایک بڑی سازش کا پیش خیمہ ہے ۔ اور اس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف بڑی مہم چلا کر ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کر کے سڑکوں پر لا کھڑا کرنا ہے ۔ بالخصوص ان کوجن کے مکانات اکثریتی محلے میں ہوں !۔ اتم نگر کے معاملے میں اسی سازش کی بو آتی ہے ۔جس طرح سے واقعہ کی بعد ہندو خواتین کی زبان سے مسلمانوں کے خلاف زہر باہرآرہا تھا، وہ اتنا کھلےعام پہلے کبھی نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا۔ جس طرح اتم نگر معاملے ترون کی ماں پوری مسلم قوم کو گالیاں اور برے القاب سے نوازتے ہوئے گریہ وزاری کررہی تھیں۔
آپکو یاد ہوگا کہ لکھنئو میں ما رے گئے 12 سالہ انیز خان کے باپ روتے بلکتے ہوئے اپنا درد بیان کررہے تھے تو ان کے ہاتھ سے صبر کا دامن نہیں چھوٹا ۔ اور انھوں نے صرف پولس سے اس ظلم کا شکوہ کیا ۔ 12 سالہ انیز خان کے باپ اور اہل خانہ نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انیز خان کو بہانے سے گھر سے لے جا کر گولی مار کر قتل کیا گیا اور واقعے کو چھپانے کی گئی لیکن انیز کے والد کے صبر کا عالم یہ تھا کہ اس نے اکثریتی سماج کو نہ تو گالیاں دیں نہ ہی نفرت کا زہر اگلا۔ انکے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے ۔ اس وقت انکو لگ رہا تھا کہ انکی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔
دوسرا قتل ریاست بہار میں ہوا ۔ بہار کی ایک مسلم خاتون روشن کو باندھ کر شراب اور پیشاب پلا کر روزہ کی حالت میں سر عام ایک پنچایت میں پیٹا گیا جس کے بعداس کی موت ہوگئی ۔ تیسرا قتل راجستھان کے الور میں عامر نامی نوجوان کا کیا گیا جوان اس کو گائےکے گوشت کے شک میں مار کر مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ،جبکہ نام نہاد گئو رکشکوں کو اس کے ٹرک میں سبزی ملی ۔عامر کے بوڑھے باپ بھی انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں ۔ ان تمام واقعات سے لگتا ہے کہ شاید مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہےکہ انہیں انصاف دلانے کے لئےکوئی آواز کیوں نہیں اٹھی ؟ لگاتار ایسے کئی معاملے آئے دن منکشف ہو رہے ہیں لیکن ان پر حکومت خاموش ہے! ۔ قبل غور بات یہ ہے کہ ہولی کے دن شراب پی کر مارپیٹ کرنے اور ہلاک کرنےدینے کے واقعات اکثر ہوتے ہیں ۔ کبھی کسی معاملے میں ایسا ہنگامہ نہیں ہوا جو اتم نگر واقعے میں دیکھا گیا۔
اب وہاں کی لوگ خوف زدہ ہیں ۔ کھلے عام اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو دھمکیاں دینا، انہیں لعنت ملامت کرنا ، برا بھلا کہنا ،ان کے قتل کی اپیلیں کرنا ،ملک سے کھدیڑ دینے کے چیلنج کے ساتھ اسلام اور پوری مسلمان قوم کو ٹارگیٹ کرنا ،اس طرح کے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو ز ملک کے اندرونی حالات کی گھنائونی تصویر پیش کر رہے ہیں! ۔ ایسا لگتا ہے کہ غنڈوں کی ایک بڑی فوج کو ملک کی اور ہندو قوم کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ۔ شاید ایسے ویڈیوز کے ذریعہ سے مسلمانوں میں دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اوریہ سب ایک ایجنڈے کے تحت مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر کی مدد سے کیا جارہاہے! ۔ اتم نگر واقعہ کے بعد جس طرح اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانوں کا سیلاب امڈ پڑا ہے اس سے دہلی میں بد امنی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ اور دہلی کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر، ہندو رکشا دل اور بجرنگ دل کے غنڈے اب دہلی کی حکومت کو یرغمال بنا چکے ہیں ، جن کے نزدیک عدالت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے!۔ ترون کے جیسے بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہیں بے رحمی سے قتل کردیا گیا لیکن ان کے لئے کوئی انصاف کی آواز نہیں اٹھائی گئی ، اس معاملے پر شور اور ہنگامہ کرکے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ، یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ حال ہی میں ہریانہ میں ناصر اور جنید کو ایک گاڑی میں زندہ جلا کر ماردینے کے الزام میں جیل میں دو سال سے قید ملزمین کو اتوار کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور اس سے نفرت کے پجاریوں کے پھر حوصلے بڑھے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کم کیسے ہوں جب کیمرے پر بھگوا آتنک وادی بنانے کی کھلے عام بات کی جارہی ہو ، ایسی میٹنگیں چل رہی ہوں جن میں مسلمانوں کے خلاف گوریلا دستے بنانے کی اپیل کی جارہی ہو، اوریہ سب دہلی حکومت ،مرکزی حکومت اور پولیس کی ناک کے نیچے ہو رہا ہو اور کسی کو بھنک بھی نہیں ہو! ۔ کچھ دن سے سوشل میڈیا پر اس طرح کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جو مسلمانوں میں خوف ہراس پیدا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔ یہ ویڈیو بجرنگ دل کے غنڈوں کی آپسی اندرونی لڑائی چپقلش کی وجہ سے ایک فریق نے وائرل کردیاہے ،ورنہ کسی کو ایسی سازش کا پتا بھی نہیں چل پاتا۔ ویڈیو میں صاف کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ اب ایسے لوگوں کے ناموں کی لسٹ تیار کی جائے جو آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے خلاف گوریلا لڑائی میں خود کو سونپنے کے لئے تیار ہوں ۔اس میٹنگ میں ٹی راجہ سنگھ کو مبینہ طور پر باقاعدہ یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ گوریلا لڑائی کے لئے ایسے دستے تیار کئے جائیں کہ جب کوئی کام کررہا ہو تو دوسرے ہاتھ کو اس کی خبر نہ ہو! ۔ سوال یہ ہے کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے باوجود اقتدار میں بیٹھے لوگو ں اور خفیہ محکمہ کو اس کی بھنک نہیں ہوئی؟ ان سماج دشمن عناصر کے خلاف حکومت کب حرکت میں آئے گی ؟ ملک کی سیکورٹی کو کس کے بھروسے چھوڑ دیا گیا ہے ؟ ۔ در اصل تنظیموں کی یہ خفیہ اپیل اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ہے ،جس کو پوری قوت سے حکومت کو کچل دینا چاہئے ۔اگر ان سماج دشمن عناصر پر جلدکنٹرول نہیں کیا گیا تو یہ ملک کی ترقی کے لئے بڑا خطرہ بن جائینگے اوراس کا اثر ایک خاص سماج پر نہیں بلکہ تمام ملک کی ترقی اور سالمیت پر پڑے گا ۔
عزت مآب سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں سو موٹو نوٹس لے اور دہلی کو فرقہ پرست عناصر کی ناپاک سازشوں سے محفوظ بنانے کی سمت میں کوئی لائحہ عمل تیار کرے ۔ملک میں امن و ترقی میں یقین رکھنے والوں کوآج بھی ملک کی عدالتوں پرپورا بھروسہ ہے ۔ ہماری ،ملک کے ارباب حل وعقد سے یہ اپیل ہے کہ وہ ایسے معاملات پرگہری نظر جمائے رکھیں اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اپنا اہم رول ادا کریں ۔
انکا یہ قدم ملک کے موجودہ حالات میں تریاق ثابت ہوگا ۔مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا پر نام نہاد گودی صحافیوں کی فوج کے ذریعہ ایک طبقہ کے خلا ف کی جارہی زہر افشانی پر روک لگانے کے لئےسخت و ٹھوس قدم اٹھائے تاکہ ملک میں ہم آہنگی کی فضا برقرار رہے ۔عدالتوں کا کام عدالتو ں پر ہی چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہے ،اتر پردیش کی حکومت کی طرح دہلی میں غریبوں کے گھروں پر کسی الزام کے ثابت ہونے سے پہلے ہی بلڈوزر چلا دینا انصاف نہیں حکومت کی ہڑبڑاہت اوربڑی ناکامی کی دلیل ہے ۔ اتم نگر میں مسلم فریق کے گھر پر بلڈوزر چلا کر عدالت کی اہمیت اور اس کے وقار کو مجروح کیا گیا ہے ۔دہلی حکومت اس کے لئے جوابدہی سے نہیں بچ سکتی ۔ جنہوں نے ایسا کیا ، ماحول میں زہر گھولا ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے ۔ پولس کو بھی تمام پہلو سے چھانبین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ پھر کسی اور کا گھر اجڑنے سے بچ جائےاور کوئی دہلی کے امن و سکون کا خطرہ میں نہ ڈالے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس معاملے میں پولس نے شروعات میں بے انتہا سوجھ بوجھ سے کام لیا ۔ اسلئے وہ آگے بھی ایمانداری سے اپنا فرض نبھائے ۔
—
HAMARA SAMAJ (Urdu Daily)
4/136, Lalita Park, Laxmi Nagar,
New Delhi – 110092
Ph# 011-43028675, 43028677,
Mob. 9899864010
website, *www.hamarasamajdaily.com <http://www.hamarasamajdaily.com>*












