فلم کیرالہ اسٹوری کے بعد اجمیر 92اور پھر 72 حوریں نام کی فلموں کی آمد آمد ہے اور ایسا لگتا ہے 2024سے پہلے اور بھی بہت سی متنازعہ فلموں کی قطار ہے جس کے ذریعہ ملک کے ماحول کو گرمانے کی پوری تیاری ہو چکی ہے ۔ ریلیز سے پہلے ہی تنازعات میں گھرجانے والی ایسی فلموں کا مقصد بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہندی بیلٹ میں نریندر مودی اور ان کی پارٹی کی مقبولیت مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کے بل پر ہی قائم ہے۔ اجمیر 92 فلم پر پابندی کا مطالبہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بریلی میں آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا کہ یہ فلم ملک کے لوگوں کو الجھا کر سماج میں تفرقہ پیدا کرنے والی ہے۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ریلیز سے پہلے ایسی فلموں کے ٹیزر ریلیز کر کے ایسے حلقوں میں کیوں پہنچایا جاتا ہے جہاں سے اس کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی جائے۔جیسا کہ بتایا جارہا ہے یہ فلم اجمیر میں 250 سے زائد لڑکیوں کی عصمت دری کے واقعے پر مبنی ہے۔
اس موضوع پر بریلی سے باضابطہ ایک بیان مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی کے حوالے سے وائرل ہو رہا ہے جس میں مولانا نے فرمایا ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے جو صدیوں سے لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔ درگاہ اجمیر شریف سے ہمیشہ امن و سکون کا پیغام دیا جاتا ہے اور ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کا کام کیا جاتا ہے۔ مولانا نے فلم کے بارے میں بتایا کہ مجھے جو معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت فلموں اور سوشل میڈیا کا استعمال معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے اور مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کے لیے ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر کسی فلم ڈائریکٹر کو کسی مخصوص مذہب کے پیروکار خواجہ صاحب کے مزار کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس فلم کے حوالہ سے جمعیۃ العلماء ہند کے جنرل سکریٹری نیاز احمد فاروقی نے بھی اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح فلموں کے نام مسلمانوں کے نام پر رکھے جارہے ہیں، وہ صرف آپسی بھائی چارہ کو ختم کرکے مذاہب کے درمیان دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ اجمیر 92 کے نام سے جو فلم بن رہی ہے اس کے لیے میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اجمیر اور خواجہ معین الدین چشتی صرف اسلام یا مسلمانوں کے لیے قابل احترام نہیں ہیں۔ ہندوستان میں ایسی کئی عظیم ہستیاں گزری ہیں جو پوری انسانیت بالخصوص پورے ہندوستان کے لیے ایک مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک مذہب کو نشانہ بنانا بالکل غلط ہے۔ ہم فلم کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر قانون میں کوئی دلیل ہے تو اس فلم پر پابندی لگائی جائے۔مجھے یقین ہے کہ نہ تو مولانا شہاب الدین نے یہ فلم دیکھی ہوگی اور نہ ہی نیاز احمد فاروقی صاحب نے تو پھر ان کا بیان کیوں ۔دونوں حضرات یہ اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ ایسی فلموں کا مقصد صرف مسلمانوں کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔اور اس کا نتیجہ ماحول کو فرقہ وارانہ بنیاد فراہم کرنا ہے تو پھر اس طرح کی سازشوں پر بیان دینے کی اتنی جلدی بھی کیوں کی جاتی ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ ملی اداروں کے سرکردہ رہنماؤں کے ایسے بیان آتے ہی مسلم کمیونٹی میں پہلے بے چینی پھیلتی ہے اور پھر خوف و ہراس،اور بی جے پی یہی چاہتی بھی ہے ۔ایسے میں ذرا ٹھہر کر یہ غور کریں کہ جب مسلمانوں کی اس بیان بازی سے یہ سازشیں رکنے والی نہیں ہے ،کیونکہ موجودہ حکومت کو مسلمانوں کی دل آزاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ ایسی فلمیں بنانے کے لئے باضابطہ فنڈ فراہم کر رہی ہے تو پھر اس پر اعتراض درج کرانے کا ایک واحد طریقہ قانونی کارروائی ہے ۔نفرت کو عام کرنے والی ایسی فلمیں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر بنائی جاتی ہیں لیکن عدالت میں متعدد ایسی مثالیں ہیں جس میں فاضل ججز نے اظہار رائے کی آزادی کی بھی حدیں مقرر کی ہیں اور وضاحت کی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی قیمت پر معاشرے میں انتشار پھیلانے کی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔خاص کر دو مذہبی کمیونٹی کے مابین جس کے نتیجے میں فساد کا برپا ہونا عام بات ہے۔اور اس فساد کے دوران جو کچھ ہوتا ہے ،اس کی وضاحت ضروری نہیں۔
یقیناً موجودہ سرکار اپنے 9سالہ دور اقتدار میں اپنے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ،اور اسے پورے ملک کے لوگ 2024میں سبق سکھانے کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ایسے میں ہند و مسلم کارڈ کھیلنے کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس قسم کی نفرت انگیز فلموں کو جتنا زیادہ نظر انداز کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے ۔ساتھ ہی ایسے تما م ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پر سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ وہ آئندہ ایسی سازشوں میں ملوث ہونے سے پہلے دس بار سوچنے پر مجبور ہوں ۔ہمارا ملک آئین سے چلتا ہے اور آئین کی دفعات کو نافذ کرنے کے لئے عدالتیں موجود ہیں جہاں قابل جج تعینات ہیں ہمیں ان پر اعتماد کر کے اپنی فریاد وہاں پہنچانے میں تامل نہیں کرنا چاہئے ۔
(شعیب رضا فاطمی )












