
ہندستان میں شاید اب وہ دَور آپائیں جب اس کا ہردن امن و سکون اور فروغ جمہوریت و آدمیت کا دن تھا۔اسی طرح وہ زمانہ بھی جسے ہندستان کی حقیقی ہمہ جہت ترقی اور ارتقا سے تعبیر کیا جاتاتھا۔1947کے بعد سے ہندستان کی خودمختاری،دنیا میں ایک عظیم حیثیت اور وجود کا جو سلسلہ جاری ہوا تھا ،اس کا سفر نئی صدی کے دوسرے دہے کے چوتھے سال میں اس وقت آکر رُک گیاجب2014کے پارلیمانی/عام انتخابات میں جمہوریۂ ہند کی شہ نشین پر فسطائی اور فرقہ پرست ٹولہ قابض ہوگیا۔جسے عرف عام میں ’’بھارتیہ جنتا پارٹی‘‘یا’’بی جے پی‘‘کہا جاتاہے۔حالاں کہ عوام نے اسے کانگریس کی بد اعمالیوں،اقلیتوں پر مظالم توڑنے اور اس کے لیڈران کی مبینہ (اسکرپٹڈ بھی)کرپشن کے ردِّعمل کے طورپر واضح اکثریت سے منتخب کیاتھا مگر اس کے تو اردے ہی کچھ اورنکلے۔ترقی (وکاس)اور کرپشن کاخاتمہ تو کجا ؛اس نے متعدد غلط اور تغلقی فیصلے لے کر ہندستان میں انارکی اور ہیزیٹیشن کا لامتناہی اورتباہ کن ماحول برپا کردیا۔اس پر مستزاد یہ کہ اپنے ہم خیال میڈیا ہاوسز کو مستقل ٹاسک دے دیا کہ وہ جس قدر اور جس انداز سے بھی چاہے؛ہر ممکن و ناممکن طریقے سے ہمارے مخالفین اور ہماری کرتوتوں پر آواز اٹھانے والوں کے خلائف ٹرائل کریں اور انھیں سخت سے سخت ڈگریوں سے گزاریں۔اس کی خاطر اگر زبان و بیان اوردہن بگڑیں تو بگڑیں۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی اس کی پروا ہے۔
دوسرے لفظوں میں کہاجائے تو سنگھ پریوار کی سازشاً اور مفسدانہ حکمت عملی کے سبب اس سلسلے کو روک دیا گیا۔عظیم تر ہندستان کی ریاستوں پرناجائز قبضے اور شب خون مارنے کے سبب تو اس کے جمہوری اور عوامی رائے سے تعمیر شدہ ڈھانچے کو بھی متزلزل کردیاگیا۔جس کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے ایام میں دیکھے والے اس صورت حال کو مزید سنگین ہوتے دیکھیں گے۔
یوںتو حکومت اور اپوزیشن کی حقیقی ٹکراؤ کا سلسلہ روزِاول(2014)سے ہی جاری ہے جس میں ہر سیشن میں کچھ نرم و قدرے گرم بحث و مباحثے ہوتے رہے ہیں لیکن پارلیمنٹ کے جاری سیشن(سرمائی سیشن04تا22دسمبر )کے دوران 16دسمبر کوپارلیمنٹ کے حفاظتی حصار کو توڑتے ہوئے چند نوجوانوں کے پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ میں گرین بموں سے حملے اور دیگر حکومتی غلط بلوں کے پاس ہونے جیسے معاملات نے پارلیمان کا تناؤ ہائی ٹینشن بنادیا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہرشخص یہی سوال کررہاہے کہ جب حملہ آوروں سے ’پارلیمنٹ ہاؤس‘جیسا پاش ایریابھی محفوظ نہیں ہے تو اُن کاتحفظ کیسے ممکن ہے۔یہ واقعہ حالاں کہ بذاتِ خود نہایت سنگین ہے؛مگر اس کو محض اس لیے دبادیاگیاکہ اسے انجام دینے والے ’ہندو‘تھے اور انھیںانٹری پاس دینے والے رکن پارلیمنٹ کا تعلق صاحب اقتدار جماعت سے ہے؛ اسی جگہ اگر غلطی سے بھی حملہ آوروں میں سے کسی کا نام مسلمانوں جیسا ہوتا،یا وہ مسلمان ہوتے،اسی طرح انھیں پاس دلوانے والے رکن پارلیمان کا تعلق اپوزیشن سے ہوتا تو اللہ کی پناہ!اب تک آدھے سے زیادہ مسلمان جیلوں میں ہوتے اور ان کے مکان بلڈوزرگردی سے زمیں بوس کردیے گئے ہوتے؛بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے جو اُن کے تار جڑتے اور انھیں بدنامِ زمانہ گروپس سے جوڑاجاتا،وہ جدا۔ان پرسماجی طورپر عرصۂ حیات تنگ کیا جاتا؛اسے سوچتے ہی کلیجوں میں ہول اٹھنے لگتے ہیںاور ذہن و دماغ میں مہیب و خوں آشام تصورات طوفانوں کی صورت میں ابھرنے لگتے ہیں۔
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس(INC) نے سیکورٹی کے معاملے پر ہنگامہ کرنے اور پارلیمنٹ میں حملہ کرنے والوں کی بابت سوال کرنے کے معاملے میں دونوں ایوانوں سے اپوزیشن اتحاد کے ارکان پارلیمان کوبڑی تعداد میں معطل کیے جانے کو من مانی اور آمریت سے تعبیر کیا ہے۔کانگریس اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں نے میڈیا ٹاکس اور اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے آفیشل(نیز پیروڈی) پیجز پر اپنے اپنے طور پر اس صورتِ حال کی مذمت کی ہے اور اپنے پارلیمانی حقوق کی بحالی کی گہار لگائی ہے۔
مودی اور شاہ کی پالیمنٹ میں حاضری کے مطالبے کو لوک سبھا و راجیہ سبھا اسپیکرس نے آمریت اور ظلم کی انتہاکرتے ہوئے نہ صرف رد کیا بلکہ معزز ممبران پارلیمان کو پورے سیشن (22دسمبر تک)کے لیے معطل کردیا۔اس طرح ایوان میں پہلی مرتبہ اس کے وقار کو مجروح کیا بلکہ ایک قسم کا ’خون خرابہ ‘ بھی برپاکردیا گیا۔اس طرح یہ تاثر اب سیاسی حلقوں کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی عام ہوگیاکہ آمریت کا دوسرا نام ’مودی۔ شاہ ‘ہے جسے جمہوریت جیسے پاکیزہ وجود میں خونِ فاسد کی مانند انجیکٹ کردیاگیا ۔اعداد و شمار کے مطابق متعددسیشنز میں مودی حکومت کے دوران اب تک 255 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف معطلی کی کارروائی کی جا چکی ہے۔ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے؛بعض دوراندیش تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ایک دن وہ آئے گا جب پارلیمنٹ میں صرف مودی اور امت شاہ ہی باقی رہیں گے۔ممکن ہے یہ لطیفہ ہو مگر موجود ہ صورت ِحال اسے سچ ہی کیے دے رہی ہے۔
لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ ہندستان کی سب سے بڑی پنچایت میں زباں کا بندی کا دستور کس قدر خوف ناک اور انسانیت کش ہے۔یہ کیسی رسم چلادی گئی کہ اب یہاں کوئی سراٹھاکر نہیں چل سکتا،یہ کیسی گلیاں ہیں جہاں نہ مدعا کہنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اپنے حقوق و اختیارات کے اظہار کاحق حاصل ہے۔یہ کیسی جنت ہے جس پر شیطانوں اور عفریتوں کا مہیب سایہ ہے۔اب کون اور کیسے عوام، گونگے بہرے اور بے بس شہریوں کی آواز اٹھائے گا؟ اب کون اور کیوں کر سرکاری مشینری کی زد میں آئے نوجوانوں بالخصوص اقلیتوں کے حق میں بات کرے گا؟واقعہ تو یہ ہے کہ عظمت ہندستان کی کسی کو فکر نہیں؛کسی کو خیال نہیں کہ بھارت کا وقار کس عمل میں مضمر میں ہے اور اس فکرسے بھی بالخصوص برسراقتدار جماعت یکسر غافل ہے کہ ہم نوجوان نسلوں کو یہ کیسا ہندستان پروس رہے ہیں جس کی عظیم الشان عمارت مسلسل متزلزل ہے اور اس کی عظمتوں کے مینار گرتے ہی جارہے ہیں۔
حسین اختر












