وطن عزیز میں ‘آئین بمقابلہ شریعت کوئی نئی بحث نہیں ہے۔ ملک کی آزادی سے بہت پہلے یہ بحث شروع ہوگئی تھی اور اس کا حل بھی 1920 کے عشرے میں ہی ڈھونڈ لیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے بعض سیاسی محرکات و عوامل رہ رہ کر اس بحث کو تازہ کرتے رہتے ہیں اور ایک طرف مسلمانوں کے دلوں میں اندیشے پیدا کیے جاتے ہیں، دوسری طرف غیرمسلموں کو ان کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ دعویٰ کہ "آئین ہند” سے شریعت کا کوئی مقابلہ ہے یا شریعت آئین کےمنافی ہے، نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اصولی طور پر ایک بالکل بے بنیاد ادعا ہے۔ یہ تصور اسلامی فقہ یا آئینی اقدار کی روشنی میں سنجیدہ غوروفکر کے بجائے آدھے ادھورے علم، خوف، سیاست اور ردعمل کی نفسیات کا نتیجہ ہے اور یہ ان ہی عوامل سے پروان چڑھتا ہے۔
اسلام قانون کے خلاف، ریاست کا مخالف، یا خلاف ’حکم‘ نہیں ہے۔ درحقیقت انصاف، امن اور حقوق کا تحفظ اس کی بنیادی ترجیح اور شریعت کا اہم حصہ ہے۔ ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو آئینی اصول و اقدار اسلام کے تصور عدل و مساوات اور اسلامی اخلاقیات پر مبنی ہیں۔ ملک کی آئین ساز اسمبلی میں وقت کے جید علمائے دین موجود تھے اور آئین ہند کی ایک ایک شق پر بحث و تمحیص کےبعد اس کے التزامات اپنائے گئے اور ان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، ان کی مذہبی آزادی، عقائد اورجذبات کا پورا لحاظ رکھا گیا۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہندوستان کا آئین ایک میثاق عدل و مساوات ہے جس میں ہر فرقہ کو اس کے دینی تشخص کی ضمانت دی گئی ہے اور ریاست کو کسی کے دینی وعائلی امور میں مداخلت کا حق نہیں دیا گیا۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا پیغمبراسلام ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مقامی آبادی سے معاہدہ کے ساتھ ریاست کی بنیاد رکھی جس کے فریقوں میں انصارمدینہ، یہودی قبائل، بت پرست عرب قبائل، مضافات یثرب میں بسنے والے ان کے حلیف قبائل اور مہاجرین مکہ شامل تھے اور ہرفریق کو اپنے دین اور اپنی شریعت کے مطابق جینے کا حق حاصل تھا، ریاست کا دفاع اور مشترکہ امور سب کی ذمہ داری تھی اور سربراہ مملکت کی حیثیت سے ان پر حاکم و قاضی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تھے،حتی کہ رسول کریم ﷺ نے اختلاف کی صورت میں اپنی پسند کا حکم یا ثالث چننے کا اختیار بھی لوگوں کو دیا۔ صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ اسلام کی تاریخ کے وہ تحریری دستاویزات ہیں جو رسول کریم ﷺ نے خود لکھوائے۔
شریعت یا اسلام کا قانونی فریم ورک ‘کے بنیادی مقاصد (مقاصد الشریعہ) ہیں:زندگی کی حفاظت، ایمان کی حفاظت،عقل کی حفاظت، جائیداد کا تحفظ اورانسانی وقار کا تحفظ۔ یہ مقاصد عدل، آزادی اور مساوات کے جدید آئینی اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔ قران پاک میں ہے:’’بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے‘‘(قرآن 16:90)۔یہ آیت اس افسانے کی نفی کرتی ہے کہ اسلام کسی ناانصافی یا انتشار کی اجازت ہے یا اس کا ایسے کسی میثاق، دستور، آئین یا معاہدے سے کو ئی ٹکراؤ ہے جس کی اساس عدل و انصاف، امن اورآزادی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد، سید سعداللہ ،مولانا حفظ الرحمٰن اور مولانا حسرت موہانی نے آئین ہند کو کبھی شریعت کے منافی نہیں سمجھا بلکہ وہ اسے میثاق مدینہ کی جدید تعبیر سمجھتے تھے اور متحدہ قومیت کے داعی و علمبردار شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کی رائے بھی یہی تھی۔ آئین ہند میں (1)سماجی، سیاسی اوراقتصادی عدل و انصاف، (2) انسانی وقار کا احترام اور مساوات ، (3) زندگی، عقل اور ایمان کا تحفظ ،(4) سیکولرازم یعنی مذہبی آزادی، (5) قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی، (6) فلاحی ریاست اور سماجی انصاف یعنی حکمرانی میں احسان اور (7) اقلیتوں اور کمزوروں کے حقوق کا تحفظ بنیادوں اصولوں کے طورپر رکھے گئے ہیں اور آئین میں بنیادی حقوق کی دفعات ان کی بہت واضح تشریح ہیں۔
قرآن نے فرد ، سماج اورریاست کے اسی کردار کو عدل و احسان کہا ہے۔عدل اسلام میں اختیاری نہیں ہے ۔ یہ ایک حکم خداوندی ہے۔ اسلام سب کے ساتھ انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔اس کے نزدیک قانون سب سے بالاتر ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آئین ہند ریاست کی پالیسی کے رہنما اصولوں میں غریبوں، کمزوروں اور پسماندہ لوگوں کےتحفظ، تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود کے اہداف متعین کرتا ہے۔عدل کا مطلب ہے کہ جو جس کا حق ہے وہ اسے مل جائے اور احسان یہ ہے کہ قانونی طور پر مطلوبہ کام کو اس سے زیادہ کیا جائے جیسے کمزوروں کا خیال رکھنا، محتاجوں کی مدد کرنا اور ہمدردی کے جذبے سےمعاشرے کی خدمت کرنا وغیرہ۔
فقہاء اسلام اس اصول پر متفق ہیں کہ: اگر کوئی نظام انصاف، تحفظ اور عقیدے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، تو مسلمان مذہبی طور پر اس کے قوانین کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔اور ہندوستان کے مسلمان ایک ایسے آئین کے تحت رہتے ہیں جو: "جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، مذہبی اعمال وعبادات کی آزادی دیتا ہے، انسانی وقار کا احترام، قانونی مساوات کے اصول اور قانون کی حکمرانی کے تصور پرمبنی ہے۔
اسلام معاشرتی استحکام پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:”اور اس فتنے سے ڈرو جو تم میں سے صرف ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا” (8:25) ۔ اسلام وہ مذہب ہے جس میں سرکشی، ظلم ، ہجومی انصاف اور انتشار کی واضح مذمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ اس کو نقصان پہنچائے گا(ترمذی)۔ اسلام قانون کی حکمرانی ہے — جس میں کوئی فرد، گروہ یا ہجوم قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
قرآن کا حکم ہے:”اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے صاحبان اختیار کی”(4:59)۔ جب تک قوانین کسی مسلمان کو کفر یا بدکاری پر مجبور نہیں کرتے، اطاعت واجب ہے۔ ٹریفک قوانین، عدالتیں، ٹیکسیشن، پبلک آرڈر- یہ سب اطاعت کے دائرے میں آتے ہیں۔ ملک کے آئین کا احترام کرنا عقیدے سے سمجھوتہ نہیں ہے – یہ اسلامی اخلاقیات کا حصہ ہے۔
اسلام نے اہل ایمان کو اقلیتوں کے تحفظ کا پابند کیا ہے۔ جدید جمہوریت اور جمہوری آئین کے تصورسے بہت پہلے اسلام نے اقلیتوں کے تحفظ کے اصول وضع کیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:”جو کسی غیر مسلم شہری کو نقصان پہنچاتا ہے، میں قیامت کے دن اس کا مخالف ہوں گا”(ابو داؤد)۔ یہ محض علامتی زبان نہیں ہے – یہ اعلیٰ ترین سطح کا احتساب ہے۔ میثاق مدینہ (تاریخ کی پہلی تحریری آئینی دستاویز) نے یہودیوں اور دوسرے قبائل کے لیے مذہبی آزادی، مساوی قانونی تحفظ اورسوشل سیکیورٹی کو یقینی بنایا۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم عدل کو صرف "اپنوں” تک محدود رکھیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں عدل یونیورسل ویلیو ہے۔ اسی لیے اگر دستورِ ہند کو میثاقِ عدل و مساوات کہا جائے تو یہ بات اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں بلکہ ان کے مزاج کے عین مطابق ہے۔












