بھوپال، (یواین آئی) مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماری کا بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس بیماری کے باعث اب تک مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 19 تک پہنچ گئی ہے، لیکن سرکاری طور پر اب تک ان سب کی تصدیق نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اندور کے میئر پشیامترا بھارگو نے ایک نیوز ایجنسی کو دیے گئے اپنے سرکاری بیان میں 10 اموات کی تصدیق کی ہے، تاہم ان اموات کی اصل وجوہات کے حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال نے انتظامیہ کی کارکردگی اور شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسی دوران جمعہ کے روز ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ نجی اسپتال اربنود میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ میں زیر علاج 68 سالہ گیتا بائی انتقال کر گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ گیتا بائی الٹی، دست اور ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کی شدید علامات میں مبتلا تھیں۔ اہل خانہ اور مقامی لوگ ان علامات کو بھاگیرتھ پورہ میں پھیلنے والی پانی سے پیدا ہونے والی بیماری سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔علاقے میں بیمار افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا الزام ہے کہ انہوں نے پانی کے معیار کے حوالے سے کئی بار شکایات کیں، لیکن بروقت قدم نہیں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں حالات بگڑتے چلے گئے۔واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اب انتظامیہ اور محکمہ صحت چوکس ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقے سے پانی کے نمونے لیے جا رہے ہیں اور بیماری کی اصل وجوہات کا پتہ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، جب تک اموات کی وجوہات کے بارے میں باقاعدہ طور پر صورتحال واضح نہیں ہوتی، تب تک علاقے میں خوف اور غم و غصہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایات کے بعد ریاستی حکومت نے اندور میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر روہت سیسونیا کا تبادلہ کر دیا ہے۔ انہیں کسانوں کی بہبود اور زرعی ترقی کے محکمے میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں پانی کی فراہمی کے نظام میں ہونے والی سنگین غفلت کے بعد کی گئی ہے، جہاں آلودہ پانی کی فراہمی سے صحت کا بڑا بحران پیدا ہوا ہے اور آلودہ پانی کی وجہ سے کئی اموات ہوئی ہیں۔ اس دوران اندور میونسپل کارپوریشن میں تین نئے ایڈیشنل کمشنر بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں آکاش سنگھ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ضلع پنچایت کھرگون؛ پرکھر سنگھ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ضلع پنچایت علی راج پور؛ اور آشیش کمار پاٹھک، ایڈیشنل ٹرانسپورٹ کمشنر شامل ہیں۔ ان تینوں افسران کو اندور میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنرکے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو میونسپل کارپوریشن کے طریقہ کار میں بہتری اور ذمہ داری طے کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری اور ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر اندور میں آلودہ پینے کے پانی سے ہونے والی اموات پر مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے حکومت اور نظام پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سلسلہ وار ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کو ریاست، حکومت اور پوری انتظامی مشینری کے لیے شرمناک اور داغ دار قرار دیا ہے۔اوما بھارتی نے سوال کیا کہ آلودہ پانی کے اس سنگین معاملے میں آخر کون یہ کہہ رہا ہے کہ حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی یا "ہم سے ہو نہ سکا”۔ طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داری نبھانے میں ناکام تھے تو عہدے پر بیٹھ کر بسلیری کا پانی کیوں پیتے رہے اور عوام کے درمیان جا کر ان کا درد کیوں نہیں سمجھا۔سابق وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ سال 2025 کے اختتام پر اندور میں گندا پانی پینے سے ہونے والی اموات نے پوری ریاست اور حکومت کو شرمندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شہر کو ریاست کا سب سے صاف ستھرا شہر ہونے کا اعزاز ملا، وہاں اتنا گندا اور زہریلا پانی لوگوں کی جان لے رہا ہے اور مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوما بھارتی نے معاوضے کی رقم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کی قیمت دو لاکھ روپے نہیں ہوتی، کیونکہ مرنے والوں کے اہلِ خانہ پوری زندگی اس دکھ کے ساتھ جیتے ہیں۔ انہوں نے اسے سنگین گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کا کوئی جواز نہیں ہوتا، صرف توبہ، متاثرین سے معافی اور قصورواروں کو زیادہ سے زیادہ سزا ہی اس کا حل ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک جو بھی اس جرم کے ذمہ دار ہیں، ان سب کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اسے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے لیے ایک بڑی آزمائش قرار دیتے ہوئے حکومت سے فیصلہ کن کارروائی کی توقع ظاہر کی۔












