علی گڑھ، ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سنٹر فار پروموشن آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل ایڈوانسمنٹ آف مسلمس آف انڈیا (سیپی کیمی) کے زیرِ اہتمام ایک شاندار ادبی نشست منعقد کی گئی، جس میں شہر و بیرونِ شہر سے تشریف لائے معزز مہمانوں، یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر معید رشیدی کے شعری مجموعہ ”خواب مت پڑھا کرو“ کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ سیپی کیمی یونیورسٹی کا ایک اہم ادارہ ہے، جو طلبہ کی ادبی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام طلبہ کی رہنمائی اور کردار سازی میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ادبی و ثقافتی میدان میں قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک ممتاز شناخت رکھتی ہے، لہٰذا طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے یونیورسٹی کا نام روشن کریں۔ مہمانِ خصوصی، معروف افسانہ نگار و ادیب جناب سید محمد اشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیپی کیمی کی سرگرمیوں اور یونیورسٹی کے علمی ماحول کو دیکھتے ہوئے یہ یقین ہوتا ہے کہ ادارے کا درخشاں ماضی تابندہ حال کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ انہوں نے طلبہ کی شعری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمیشہ سے علم و فن اور فکری بیداری کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر معید رشیدی کی شاعری کو دورِ حاضر کی سادہ، رواں اور بامعنی شاعری قرار دیا، جو نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس موقع پر سیپی کیمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محب الحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس طرح کے بامقصد پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پُرعزم ہے اور مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ ایسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیپی کیمی یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی عکاسی بھی کرتا رہا ہے۔ پروگرام کی نظامت اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد مجتبیٰ نے کی۔ انہوں نے اپنے کلمات میں کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اساتذہ کی رہنمائی ناگزیر ہے اور اس قسم کی ادبی نشستیں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پٹنہ سے تشریف لائے معروف مرثیہ نگار، فلم ساز اور اسکرپٹ رائٹر جناب سراج عفیف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ سے ادبی جواہر اور تخلیقی شاہکاروں کی آماجگاہ رہی ہے اور آج بھی اپنی روشن روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ نشست میں شعراء نے اپنے کلام سے نوازا۔ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
یوں گیا سینے سے دل خنجرِ سفاک کے ساتھ
دشت سے جیسے کہ جاتی ہے ہوا خاک کے ساتھ
سراج عفیف
صورت حال تو نہیں بدلی، حال بدلا، بدل گئی صورت
جب سے آنکھوں میں تو سمایا ہے، تجھ سے ملنے لگی میری صورت
حنا صاحبہ، دبئی
راستہ بھی ہم ہی لوگ تھے، راہی بھی ہم ہی تھے
اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہم ہی تھے
پروفیسر نسیم عالم
ڈاکٹر مشتاق صدف، ڈاکٹر معید رشیدی، نظام الدین نظامی، محمد کاظم اور ارمان خان ارمان نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔












