آج میں نے عہد کیا ہے کہ سیاست پر گفتگو بالکل نہیں کروںگا۔یہ بھی سوچ لیا ہے کہ حکومت وقت کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کروںگا۔راشٹر بھکتی کی باتیں کروںگا ،کیونکہ اب ہمارے سامنے راشٹر کی صورت میں مودی جی موجود ہیں ، چاہے بھکت منڈلی مجھے اپنے گروہ میں شامل کریں یا نہ کریں۔آپ سوچ رہے ہوںگے کہ آخر یکایک مجھے یہ کیا ہوگیا ہے،تو سن لیجئے کہ میں خوفزدہ ہوں ،اور اس محاورے کے مصداق کہ ڈر سے بھوت بھی بھاگتا ہے میں نے حق گوئی کی راہ سے فرار اختیار کر لی ہے۔مجھے ملک کے ماحول نے اس پر مجبور کر دیا ہے کہ یا تو قلم سے رشتہ توڑ لوں ،لکھنا بند کر دوں یا وہی لکھوں جسے حکومت وقت نوٹس لینے کے لائق ہی نہ سمجھے۔میں پورے ملک میں حکومت وقت کی مخالفت کرنے والوں کی حالت دیکھ رہا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ مہاراشٹر میں اودھو ٹھاکرے اور کانگریس کو ملا کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانے والا سیاسی چانکیہ بھی ناگالینڈ میں بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنا چکا ہے۔یوں تو وہ اپنی عمر کے اس پڑاؤ پر ہے کہ اب اسے جو بھی مل گیا اس پر صبر کرنا چاہئے۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ مرکزی حکومت سے خائف ہو کر وہ جئے پرکاش نارائن کی طرح حکومت وقت کے خلاف حزب اختلاف کا اتحاد بنانے کو راضی نہیں ہوا بلکہ کمال احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے پاس آنے والے حزب اختلاف کے لیڈروں کو یہ کہہ کر چلتا کر دیا کہ محاذ بنانے کی جگہ اپنی اپنی ریاستوں میں بی جے پی کو شکست دینے کی فکر کرو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔اور اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہو بھی گئی تب تو پانچوں انگلی گھی میں، اورپھر دوسرا ہر کشن سنگھ سرجیت بننے سے اسے کون روک سکتا ہے۔
میں نے بہت غور کرنے کے بعد سوچا کہ جب شرد پوار جیسا جہاندیدہ لیڈر بھی بی جے پی سے مرعوب ہو سکتا ہے تو میری کیا بساط جو حکومت وقت کے خلاف لکھ لکھ کر خود کو ہلکان کروں۔مجھے ڈر اس لئے بھی لگا کہ جب ایک عرصہ سے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا اچھوتا بالر محمد شامی بھکتوں کے نعرہ مستانہ کا شکار ہو سکتا ہے وہ بھی مودی اسٹیڈیم میں تو میری کیا بساط۔میں سہم گیا جب میں نے ستیندر جین اور منیش سسودیا کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھا۔اور استہزائیہ انداز میں بی جے پی کے لیڈران کو یہ کہتے بھی سنا کہ اگلانمبر کجریوال کا ہے۔مجھے عبرت حاصل ہوئی جب میں نے لالو یادو کے کیس کو پانچ سال بعد پھر کھلتے دیکھا اور ای ڈی کی چابک دستی بھی دیکھی۔میں کانپ گیا جب راہل گاندھی کو ممبر آف پارلیمنٹ کے حق سے دستبردار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈران کو سنا۔میری نیند اڑ گئی جب میں نے کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ کی ایم ایل سی بیٹی کویتا سے ای ڈی کی پوچھ تاچھ دیکھی اور مجھے فوراً خیال آ گیا کہ محترم کے سی آر صاحب ہی تو ہیں جنہوں نے ابھی کچھ مہینے پہلے ہی حزب اختلاف کے کئی لیڈروں کو کرناٹک بلا کر غیر کانگریسی محاذ بنانے کی بات شروع کی تھی اور پھر خود بھی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملنے بھی گئے تھے۔
مجھے اس وقت بھی عقل نہیں آئی تھی جب اعظم خاں کا سیاسی قتل ہوتے ہوئے اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھا تھا۔لیکن اب میں نے عقل کے ناخن لے لئے ہیں اور میں نے عہد کر لیا ہے کہ میں اب اگر کچھ لکھوںگا بھی تو یہ کہوںگا کہ ہمارے بھارت میں ہر چہار سمت امن و امان ہے۔کہیں بے روزگاری کا نام ونشان نہیں۔کسان بھی خوشحالی کے ترانے گا رہے ہیں اور مزدور بھی پانچ کلو اناج پا کر بلیوں اچھل رہے ہیں۔کسی ناصر اور جنید کی لنچنگ نہیں ہوئی ہے ،ہمارے وزیر اعظم کے رعب سے ساری دنیا تھرا رہی ہے اور منتظر ہے کہ کب مودی جی انتخابی تیاریوں سے وقت نکالیں اور کب انہیں وشو گرو کے خطاب سے نوازا جائے۔میں بہت جلد زندگی کا پہلا قصیدہ بھی لکھنے والا ہوں جو ہمارے جوان العمر وزیر اعظم کی شان میں ہوگا۔میں محسوس کر رہا ہوں کہ اب جاکر میری عقل داڑھ نکل رہی ہے۔اور میں اسی عقل کی آنکھ سے دیکھنے لگا ہوں کہ ملک میں جیسی خوشحالی اب ہے کبھی تھی ہی نہیں۔ٹی وی اور اخبارات بالکل آزاد ہیں اور جم کر حکومت وقت کی تنقید کر رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ مودی جی کے ماتھے پر شکن بھی آئے۔کیونکہ وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور میڈیا اس جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے پارلیمنٹ میں صحافیوں کا آنا جانا عام ہوگیا ہے۔راجیہ سبھا سے لوک سبھا کے سنٹرل ہال تک عام صحافیوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔کسی پر کوئی پابندی نہیں،اور یہ سب ان نو برسوں میں ہی دیکھنے کو ملا ہے۔میں سمجھنے لگا ہوں کہ اڈانی کے خلاف ہنڈن برگ کی رپورٹ جعلی ہے اور یہ سب مودی جی کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔جسے غیر ملک سے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ مجھے اب احساس ہو رہا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کے بغیر ملک میں خوشحالی لانا ناممکن ہے۔آخر کروڑوں لوگوں کو پانچ کیلو اناج دینے کے لئے سرمایہ کی ضرورت تو ہے۔مجھے الکٹورل بانڈ کے ذریعہ سرمایہ جمع کر کے ایم پی اور ایم ایل اے خریدے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ آخر وہ پیسے مودی جی کسی ہندوستانی کو ہی تو دے رہے ہیں،اور ایک کروڑ پتی کو ارب پتی بنانا راشٹر کی سیوا ہی تو ہے۔میں خوب اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ جی ڈی پی کے اوپر نیچے ہونے سے مودی جی کی مقبولیت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔
لہٰذا میں اب اپنے ملک میں اصلی رام راجیہ آتے ہوئے دیکھ رہا ہوں تو پھر میں مودی جی کی تعریف کیوں نہ کروں۔بھلے ہی میں یہ سارے کام ڈر کر کر رہا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے،اور اسی لئے میں خوش بھی ہوں۔












