نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے آرڈیننس پر فی الحال روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ 17 جولائی کو عبوری اسٹے پر سماعت کرے گا۔ دہلی حکومت میں مقرر کئے گئے 450 سے زیادہ لوگوں کی تقرری لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ رد کئے جانے کی دلیل پر سپریم کورٹ اگلے پیر کو سماعت کرے گا۔ دہلی حکومت نے قومی دارالحکومت میں سروسز کو ریگولیٹ کرنے والے مرکز کے آرڈیننس کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکز کو نوٹس جاری کیا ہے۔
دراصل دہلی حکومت کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے آرڈیننس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہم نے مرکز کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دہلی حکومت کے وکیل نے کہا کہ نئے نظام میں دو افسران مل کر وزیر اعلیٰ کی بات کاٹ سکتے ہیں۔ اس انتظام سے معاملات لیفٹیننٹ گورنر تک پہنچیں گے اور وہ ایک سپر سی ایم جیسے ہو جائیں گے۔ اس پر روک لگانی چاہئے۔ اس آرڈیننس کی بنیاد پر 471 افراد کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس پر بھی سماعت ہونی چاہئے۔
اس پر سالیسٹر جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہاں نئی بات کہی جارہی ہے۔ جن لوگوں کو ہٹا دیا گیا ہے، وہ پارٹی کے کارکن تھے جنہیں نوکری پر رکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ سبھی مطالبات عرضی میں بھی نہیں ہیں۔ اگر کوئی متاثر ہے تو وہ ہائی کورٹ جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے 19 مئی کو نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی (ترمیمی) آرڈیننس 2023 جاری کیا تھا۔ اس کے ذریعے دہلی میں گروپ اے افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے لئے ایک اتھاریٹی کو قائم کرنا تھا۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے سپریم کورٹ نے پولیس، لاء اینڈ آرڈر اور زمین کے علاوہ دیگر سبھی سروسز کا کنٹرول دہلی حکومت کو سونپ دیا تھا۔












