گزشتہ سال فروری میں جب سے روس یوکرین کے بیچ جنگ کا آغاز ہوا ہے تبھی سے یورپی ممالک لگاتار ایک دباؤ کے اور تذبذب کے حالات سے گزر رہے ہیں۔
دراصل اس جنگ کے چلتے جہاں امریکہ یورپی ممالک کو اپنے مطابق چلانے کا خواہاں ہے اور ان ممالک کو روس کے خلاف کھڑا کر اپنے مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو وہیں دوسری طرف روس بھی یورپی ممالک کی حرکات و سکنات پہ پینی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ یورپین ممالک کی امریکہ کے پیچھے لگ کر اپنے خلاف ہونے والی ہر مورچہ بندی کا واجب جواب دینے کا گویا پختہ عزم کیے ہوئے ہے۔اسی بیچ اب اس میں دنیا میں تیزی سے ابھر رہی قوت یعنی چین بھی کی بھی پیش قدمی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
گزشتہ دنوں اس حوالے سے ایک رپورٹ نے ہمارا اس طرف مبذول کروایا جس کا عنوان تھا کہ کیا یورپی یونین چین سے’رشتے بدلنے‘پر غور کر رہی ہے؟
اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے حکام روس کے ساتھ چین کی اظہار یکجہتی سے ناراض ہیں، لیکن فی الحال بیجنگ سے الگ ہونے کا کوئی جوکھم نہیں اٹھانا چاہتی۔ تاہم ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی فوری ضرورت ہے۔
چنانچہ اس ضمن میں لیتھوانیا کے وزیر خارجہ گیبریلیئس لینڈسبرگس سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ چینی صدر کے دورہ ماسکو اور پوتن سے ان کی ملاقات کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے، تو انہوں نے کہا: اگر شی جن پنگ کسی جنگی مجرم سے دوستی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم چین کے بارے میں بھی بہت سنجیدہ ہو جائیں۔لینڈسبرگس نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے اب آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ چین سے خطرے کو ختم کرنے کے لیے کوئی پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے پھر بالآخر تعلقات توڑنے کے لیے اقدام ہونے چاہیں۔ ہم جتنی جلدی یہ شروع کریں گے، یونین کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔“لیکن ادھر دوسری جانب برسلز میں ہر کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ ایسی کسی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے حکام کے حوالے سے ایک نیوز رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا کہ حالیہ برسوں میں شی جن پنگ اور پوتن کے درمیان میں 40 سے زائد مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ دونوں رہنماؤ ں کے درمیان اتحاد کا اس طرح کا مظاہرہ ”توقع“ کے مطابق ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ چین روس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چین سمیت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے، جس نے یوکرین میں روسی حملے کی ابھی تک مذمت نہیں کی ہے۔ اس ساتھ ہی چین روسی تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور مغربی ممالک میں اس کے اس رویے پر کافی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ اگر تیل کی بات کریں تو ہندوستان بھی مسلسل روس تیل کی خریداری کر رہا ہے۔ماہرین کی مانیں تو یورپی یونین اور چین کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ کے اس بیان نے کہ، روس اور چین کے تعلقات لا محدود ہیں، اس کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے علاوہ بعض مغربی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ چین روس کو ہتھیار فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اسی ہفتے برسلز میں کہا تھا کہ انھوں نے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا ہے کہ چین روس کو مہلک امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم چونکہ چین اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون اپنے عروج پر ہے، بیجنگ بالواسطہ طریقوں سے روس کی جنگی کوششوں کی حمایت بھی کرتا ہے۔ اس کے باوجود یورپی یونین کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
چین نے کووڈ- 19 سے متعلق برداشت کی اپنی صفر پالیسی ختم کر دی ہے اور اپنی معیشت کو دوبارہ کھول رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کو بہت غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ”البتہ یہ معاشی استحکام نازک ہے اور تناؤ سے بھی پر ہے۔“
ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت سپلائی چین اور افراتفری کی شکار ہے اور یورپی یونین بھی مزید معاشی عدم استحکام کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ یہ ایک طرح سے ”مزید پریشانیوں کے ذرائع کو کھولنے کے مترادف ہو گا۔“
اس حوالے سے فرانس کی کریں تو فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کا بیان بھی خاص اہمیت کا حامل ہے انھوں نے یورپی یونین سے ’اسٹریٹیجک خود مختاری‘ کی اپنی بیان کردہ پالیسیوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا اور دلیل پیش کی اس طرح یہ بلاک چین اور امریکہ کے ساتھ ہی ایک’تیسرا ستون‘ بھی بن سکتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے گزشتہ دنوں فرانس کے ایک اخبار لیس ایکو کو دیے گئے انٹرویو میں یورپی یونین سے ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنے کے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسے امریکہ کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا،”ہم ایک بلاک کے مقابلے میں دوسرا بلاک کھڑا کرنے کی منطق میں نہیں پڑنا چاہتے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ یورپ کو ”دنیا کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور ایسے بحرانوں میں نہیں پھنسنا چاہیے جو ہمارے نہیں ہیں۔“
ان کا یہ بیان یورپی یونین کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ان کے دورہ چین کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی تھی۔ دورہ بیجنگ کے دوران دیگر امور کے ساتھ ہی تائیوان کے ارد گرد کشیدگی اور یوکرین پر روسی حملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔
ماکروں نے اس بات پر زور دیا کہ تائیوان کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ یورپی یونین کے مفاد میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا، ”ہم یورپیوں سے جو سوال پوچھے جاتے ہیں وہ یہ ہیں: کیا تائیوان کے موضوع پر اس قدر تیزی ہمارے مفاد میں ہے؟ نہیں، اس موضوع پر ہم یورپیوں کے لیے سب سے برا کام پیروکار بننا ہے نیز امریکیوں اور حد سے زیادہ چینی رد عمل کے مطابق چلنا ہے۔ آخر ہم کسی اور کی منتخب کردہ سر تال کے تابعدار کیوں بنیں؟“
اگر بات امریکی انتظامیہ کی کریں تو وہ یورپی یونین اور اس کے ارکان کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تاہم یہ کوششیں صرف جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہیں۔
مارچ میں صرف نیدرلینڈز نے چین کو جدید مائیکرو چِپ ٹیکنالوجی کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور پھر بعد میں جرمنی نے بھی چینی کمپنی ہواوے کے موبائل فون نیٹ ورکس کے اہم اجزاءپر حفاظتی جائزے کا اعلان کیا۔
جبکہ اس کے بر عکس یورپی یونین کے بیشتر ممالک منافع بخش چینی مارکیٹ سے الگ ہونے میں ہچکچاتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے اور سب سے اہم جرمنی ہے، جو چین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔
اس حوالے سے یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن جنوری میں داؤ س کے ورلڈ اکنامک فورم میں دیا گیا بیان بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ یورپی یونین چین سے”تعلقات توڑنا“ نہیں بلکہ ”ڈی رسک“ یعنی خطرات سے پاک کرنا چاہتی ہے۔ یہ بیان چین سے یورپی یونین کا منہ موڑنے میں ہچکچاہٹ کو اجاگر کرتا ہے۔
کل ملا کر اگر مذکورہ مباحثہ کا لب لباب اگر ہم نکالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بے شک یورپی یونین چین کے ساتھ تعلقات پر از سر نو غور و فکر کرنے کے حق میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے رکن ممالک جب تک مختلف عہدوں پر فائز ہیں تب تک ان میں سے کچھ تجارتی تعلقات کو جاری رکھنے پر توجہ دینے کے حق میں ہیں، جب کہ کچھ چین کے بارے میں امریکی پالیسی کے ساتھ مزید ہم آہنگ ہونے کو بھی تیار ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین 23-24 مارچ کو ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں بھی نہیں ہے، کم از کم سرکاری طور پر نہیں۔
وہیں اگر چین کے ضمن میں مبصرین کی مانیں تو ”چینی دو متضاد اہداف کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پوتن کے ساتھ بہترین دوست ہونے اور ساتھ ہی یورپیئن کے ساتھ اچھی دوستی کی کوشش۔“












