محمداقبال
نئی دہلی، آج دہلی کے معروف علاقہ نبی کریم کے مدرسہ تعلیم القرآن میںدارالافتاءکے قیام عمل میں آنے کے بعدوہاں کے عوام کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی،ساتھ ہی جمعیتہ علماءاوپن اسکول کا افتتاح بھی عمل میں آیا ۔اس مبارک موقع پر علماء،ائمہ کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اس موقع پر مفتی عطاءالرحمن قاسمی نے کہا کہ اس کاقیام بہت ہی اچھا قدم ہے اوروقت کی ضرورت بھی۔ہم عدالتوں کا چکر لگاتے ہیں،پیسے خرچ کرتے ہیں مگرہمیں مکمل انصاف نہیں مل پاتامگر اس کے قیام عمل میں آنے کے بعد ہم اپنے تمام مسائل حل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کے سب سے پہلے مفتی حضرت ابوبکرصدیقؓ تھے لیکن وہ بھی کسی مسئلہ پر صحابۂ کرام سے رجوع کرتے تھے۔انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ جوبھی مفتیان اس کے لئے منتخب ہوںانہیں مسئلے پر عبور ہوتبھی فتویٰ صادر فرمائیں۔مفتی نادر احمدنے کہاکہ ایمان کے سترشعبے ہیں اورانہی میں سے دارالافتاءاور دارالقضاءبھی ہیں جو ہماری زندگی کےلئے ضروری ہیں اوریہی ہمارے چھوٹے بڑے بلکہ تمام مسائل کے حل پیش کرتے ہیں،انسان جس طرح خود پیدا ہونے کےلئے آزاد نہیں ہے یعنی اپنی خواہش کے مطابق خود پید انہیں ہوسکتا ،اسے خالق حقیقی کی ضرورت ہے اور اس کا ایک ضابطہ ہے اسی طرح مسائل کے حل کےلئے دارالقضاءاور دارالافتاءکی ضرورت ہے، جس کی تکمیل آج ہوئی ہے۔مولانا زبیراحمد نے کہاکہ فتویٰ نویسی کے وقت ہماری نیت درست ہونی چاہئے۔ مفتی ذکاوت حسین نے کہا کہ آپ جس سے مسئلہ دریافت کرتے ہیںپہلے اس کی استعداد کا پتہ لگائیں اور فتوی لینے میں محتاط رہیں، زیادہ سوالات سے پرہیز کریں،مفتی حضرات مختصر جواب کو ترجیح دیں،مفتی کفایت اللہؒ کے فتاوے کو مد نظررکھتے ہوئے فتاویٰ تحریر فرمائیں، جوابات کو طویل کرنے سے گریز کریں۔مفتی عمران اللہ صاحب دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ دہلی دارالافتاءاور دارالقضاءکےلئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں اس کا قیام خوش آئند قدم ہے۔مفتی عباداللہ عبید قاسمی نے اس موقع پرمفتیان کرام کو نصیحت کی کہ فتوی نویسی سے قبل بہت اچھی طرح مطالعہ کریں اور پوری طرح مطمئن ہوجائیں اس کے بعد ہی فتوی جاری کریں اور اس میں کسی قربت کی پرواہ کئے بغیر قرآن و حدیث کی روشنی میں فتوی صادر فرمائیں۔اس موقع پر بڑی تعداد میں علماءکرام نے اس کے اغراض ومقاصد پر شرح وبسط سے روشنی ڈالی اور عوام الناس کو اس کے فوائد سے روشنا کرایا۔دارالافتاءکے بانی و سرپرست مولانا عبدالسبحان قاسمی ناظم اعلیٰ مدرسہ تعلیم القرآن ورکن امارت شرعیہ پھلواری شریف، صدرجمعیتہ علماءچاندنی چوک و جنرل سکریٹری مدرسہ دینیہ رحمانیہ ضلع مدھے پورہ بہار نے اخیر میں اس کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آج میری دلی تمنا پوری ہوئی اورمیری دیرینہ خواہش کی تکمیل ہوئی ہے۔ مولانا نے جلسہ کی صدارت اورباکمال نظامت بھی کی۔ بروقت مفتی محمد علی صاحب کادارالافتاءکے انتظام وانصرام اورفتوی نویسی کےلئے انتخاب عمل میں آیا،مستقبل قریب میں مزید مفتیان عظام کا انتخاب عمل میں آئے گا،ان شاءاللہ۔ شرکاءمیں مفتی ارشدندوی، مفتی اشرف، مولانا ضیاءاللہ قاسمی، مولانا یاسین جہازی،مفتی و مفتی زبیراحمد حسین بخش،مفتی عبدالواحد، حاجی یوسف،حاجی یوسف سیٹھ، مولانا شمیم عادل، مولانا حسین احمد،مفتی عبدالرحمن،مولانا غلام رسول، مدرسہ تعلیم القرآن کے بانیان و جملہ اراکین و جملہ اساتذہ،محلہ کے معزز حضرات نے خصوصیت سے اپنی شرکت درج کی۔اس موقع پر علماءو مقررین کی دستاری بندی کی گئی،ایوارڈ کے ساتھ ہدیہ میں بیگ پیش کیاگیا اور ضیافت کے بعد مہمانوں کو رخصت کیا گیا۔مفتی محمدادریس کی دعاءپر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔












