دیوبند (سماج نیوز سروس) دارالعلوم کی مسجد رشید میں کل صدر مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے تحت ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس اجلاس میں رد شکیلیت ودیگر فتنوں کا تعاقب اور مدارس اسلامیہ سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں ۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس مولانا سید ارشد مدنی اور ادارہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دینی مدارس مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ اور ان کی نسل نو کی تعلیم و تربیت کا سب سے اہم ذریعہ ہیں ۔ یہ ادارے ملت اسلامیہ ہند کی تعلیمی واخلاقی نشو ونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ملک کی سالمیت ، تحفظ اور نئی نسل میں ملک کے دفاع اور حب وطن کا جذبہ پیدا کرنے میں بھی ان کی خدمات کسی سے مخفی نہیں ہیں، لیکن ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ان مدارس کو بے جا طعن و تشنیع کا نشانہ بناکر ان کے کردار کو مسخ کرنے میںمصروف ہے اور افسوس ہے کہ اس نفرت پسند طبقہ کو حکومت میں بعض ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس لئے یہ مشاورتی اجلاس مدارس کے خلاف متعصبانہ شر انگیز کوششوں کی سخت مذمت کرتاہے اور ارباب اقتدار سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مدارس کی اہمیت کو پہچانیں اور ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسی کے ساتھ یہ اجلاس سبھی مدارس سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ اور اپنے دائرہ کار کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے کی بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے رجسٹرڈ سوسائٹی یاٹرسٹ کے تحت ادارہ کے نظام کو چلائیں۔ حساب میں شفافیت کے لئے بینک اکائونٹ کھولے جائیں اور بیلنس شیٹ بناکر اسے کسی اچھے سی اے سے ضرور آڈٹ کرایا جائے اور طلبہ کی رہائش کے لئے صاف پانی، صاف شفاف کمروں اور باتھ روم وغیرہ کا معقول انتظام کریں۔ مدرسہ میں گنجائش کے اعتبار سے ہی طلبہ رکھے جائیں نیز ملکیت کے کاغذات اور تعمیری نقشے کی منظوری بالخصوص ملکیت کا مکمل ثبوت ، رجسٹری، نوٹری ، وقف نامہ ، ذاتی ملکیت یا ادارہ کی ملکیت، رجسٹری مع داخل خارج ، بلڈنگ کا منظور شدہ نقشہ، پینے کا پانی، بجلی کی سپلائی، فائر فائٹنگ کے لئے محکمہ فائر برگیڈ سے اجازت وغیرہ کی اپڈیٹ کاپیاں تیار رکھی جائیں۔ اس کے علاوہ مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ جو مختلف علاقوں میں سفر کرتے ہیں ان کے پا س ان کے اور ان کے والدین کے آدھار کارڈ وغیرہ موجود ہوں نیز ان کے پاس مقامی پردھان ، مکھیا کی ایک تحریر ہو اور والدین کی طرف سے حلف نامہ ہو ۔ وہ جس مدرسہ میں جارہے ہوں ا س کے لیٹر پیڈ کی کاپی ساتھ ہو، جہاں ان کے ناموں کا اندراج ہو تاکہ بوقت ضرورت ان کو پیش کیا جاسکے۔ تحفظ ختم نبوت کی نسبت سے مقررین نے کہا کہ اسلام کی نظر میں عقائد کی درستگی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ اگر کسی شخص کا عقیدہ حضرات صحابہ کرام اور سلف صالحین کے نظریہ کے خلاف ہو تو ایسے شخص کو مسلمان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیوں کہ تمام اہل ایمان اس بات پر متفق ہیں کہ خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم اور مکمل ہوچکا ہے اس لئے اس عقیدہ کا انکار بھی موجب کفر ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح قیامت کے قریب حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی امت مسلمہ کے متفقہ عقائد میں سے ہے۔ اس لئے ان کی علامات اور تصریحات کو عوام کے سامنے بیان کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح جن علاقوں میں ایسے فتنے سر اٹھا رہے ہیں جو لوگوں کو ملحد اور مرتد بنارہے ہیں وہاں ائمہ مساجد اور علماء کی جانب سے پروگراموں کا اہتمام کیا جائے اور بنیادی طو رپر ایسے لوگوں کے عقائد کی درستگی کی جائے۔ مدارس عربیہ میں فرقہ باطلہ کی تردید میں محاضرات کا اہتمام کیا جائے تاکہ طلبہ اس کے لئے پہلے سے تیار رہیں۔ مقررین نے کہا کہ علاقائی زبانوں میں فتنہ شکیلیت اور فتنہ گوہر شاہی سے متعلق مواد تیار کرکے گھر گھر پہنچایا جائے اور ان فتنوں کی سنگینی پر آگاہ کیا جائے، لہٰذا ان تمام تجاویز کو عملی طو رپر نافذ کرنے کے لئے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں علاقائی مجالس قائم کی جائیں اور ان کو مسلسل فعال ومتحرک رکھا جائے۔












