سید پرویز قیصر
ہندوستان کے خلاف کھیلی گئی تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز میں ڈاریل مچل نے تین اننگیں کھیلی اور176.00 کی اوسط اور110.34 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے352 رن بنائے۔ وہ ایک مرتبہ بھی صفر کا شکا ر نہیں ہوئے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور137 رن رہا جو انہوں نے اندور میںکھیلے گئے تیسرے اور آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ میںبنایا تھا۔اس سریز میںنیوزی لینڈنے ایک کے مقابلے دو میچوں میں جیت اپنے نام کی تھیْ
دائیںہاتھ کے اس بلے باز کے352 رن نیوزی لینٖڈکی جانب سے تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز میں سب سے زیادہ رن ہیں۔ ان سے پہلے نیوزی لینڈ کی جانب سے تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز میں سب سے زیادہ رن بنانے کا اعزاز مارٹین گپٹل کے پاس تھا جنہوں نے انگلینڈکے خلاف اسکے گھر پر2013 میں کھیلی گئی سریز میں تین میچوں کی تین اننگوں میں330.00 کی اوسط اور105.09 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو سنچریوں کی مدد سے330 رن بنائے تھے۔ اس سریز میں وہ ایک مرتبہ بھی اس سریزمیں صفرکا شکار نہیں ہوئے تھے اور اس سریز میںان کا سب سے زیادہ اسکورآوٹ ہوئے بغیر189 رن رہا تھا جو انہوں نے ساوتھمپٹن میں2 جون2013 کو216 منٹ میں155 بالوں پر19 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بنا یا تھا۔اس سریز میں نیوزی لینڈ نے 2-1 سے جیت درج کی تھی۔
تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز میں نیوزی لینڈکی جانب سے تین کھلاڑیوں میں تین سو سے زیادہ رن بنائے ہیں۔ایسا کرنے والے تیسرے بلے باز راس ٹیلر ہیں جنہوںنے انگلینڈکے خلاف اپنے گھر پرہوئی تین میچوں کی سریز میں تین اننگوں میں دو سنچریوں کی مدد سے152.00 کی اوسط اور105.19 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ304 رن بنائے تھے۔ وہ اس سریز میں صفرکا شکار نہیں ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر181 رن رہا تھاجوانہوں نے ڈونیڈن میں7 مارچ2018 کو213 منٹ میں 147 بالوں پر17 چوکو ں اور چھ چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پانچ وکٹ سے کامیابی اپنے نام کی تھی۔ یہ سریز پانچ میچوس کی تھی مگر راس ٹیلر نے اس سریز کے تین میچوں میں حصہ لیا تھا۔ نیوزی لینڈنے اس سریزمیں 4-1 سے کامیابی حاصل کی تھی۔
ڈاریل مچل کی کارکردگی ایک سریز میں اب تک کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ اس سے پہلے ایک سریز میں انہوں نے سب سے زیادہ رن پاکستان میں2023 میں کھیلی گئی سریز میں بنائے تھے۔ پانچ میچوں کی اس سریز میں انہیں چار میچوں میں کھیلنے کاموقع ملا تھا جس کی چار اننگوں میں انہوں نے74.25 کی اوسط اور97.05 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو سبچریوں کی مدد سے297 رن بنائے تھے۔ اس سریز میں وہ صفرکا شکار نہیں ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور129 رن رہا تھا جو انہوںنے29 اپریل2023 کو راولپنڈی میں178 منٹ میں119 بالوں پرآٹھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں پاکستان نے سات وکٹ سے کامیابی اپنے نام کی تھی۔ پاکستان نے پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز4-1 سے جیتی تھی۔
تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سریز میں اس سے پہلے انکی سب سے اچھی کارکردگی انگلینڈکے خلاف اپنے گھر پراکتوبر۔نومبر 2025 میں ہوئے سریز میں رہی تھی۔ اس سریز میں انہوں نے178 رن بنائے تھے اور نیوزی لینڈنے اس سریز میں3-0 سے جیت اپنے نا مکی تھی۔ ڈیلی الیوم












