غزہ:اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات کی خلیج پاٹنے کی غرض سے خیر خواہ ثالث ملکوں کی طرف سے غزہ میں نو ماہ سے جاری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لئے کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب شدید لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
گذشتہ چند گھنٹوں سے مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کے ایک دوسرے پر پرتشدد حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے ’انروا‘کی عہدے دار لوئیس واٹریج نے بتایا کہ وسطی غزہ حالات ناقابلِ برداشت ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اپنے اعلان میں دعوی کیا ہے کہ مشرقی غزہ کے الشجاعیہ کالونی میں اس کی زیر زمین اور سطح زمین پر گذشتہ 48 گھنٹوں سے کارروائیاں جاری ہیں
اسرائیلی فوجی دعووں کے مطابق مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان انتہائی قریب سے لڑائی ہو رہی ہے۔ اس لڑائی میں اسرائیلی فوج کو الشجاعیہ کے سکولوں، زیر زمین سرنگوں کے قریب مزاحمت کاروں کے زیر استعمال او پی پوسٹس، اسلحہ، ڈرونز اور راکٹ لانچنگ پیڈز ملے ہیں۔
فوجی اعلامئے کے مطابق شمالی غزہ میں ہونے والی لڑائی میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو مزید فوجی شدید زخمی حالت میں بتائے جاتے ہیں۔
ادھر فلسطین کے علاقے غزہ میں برسر پیکار دو مسلح مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے اپنے بیانات میں اس امر کا اشارہ کیا ہے کہ ان کے جنگجو الشجاعیہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج پر کاری ضرب لگا رہے ہیں۔
طبی عملے کے کارکنوں نے جنوبی غزہ کی پٹی کے انتہائی سرحدی علاقے سے اسرائیل کے شمال المواصی کے الشاکوش ریجن پر اسرائیلی کارروائی کا نشانہ بننے والوں کے جسد خاکی ملبے سے نکالنے کی تصدیق کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے انہی میڈیکل ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ اسی علاقے مسلسل دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں جس کے بعد سڑکوں پر انسانی لاشے بکھرے دکھائی دے رہے ہیں۔












