نئی دہلی، (یو این آئی) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بہوجن تحریک کے سرکردہ رہنما کانشی رام کی جینتی کے موقع پر خط لکھ کر انہیں بعد از مرگ ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ سماجی انصاف کے عظیم مجاہد اور بہوجن بیداری کے رہنما کانشی رام جی نے ہندوستانی سیاست کی نوعیت بدلنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے دلتوں، محروم طبقات اور غریب عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ ان کا ووٹ، آواز اور نمائندگی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کانشی رام جی نے اپنی پوری زندگی آئین ہند میں وعدہ کیے گئے مساوات، وقار اور شراکت کے اصولوں کو سماج کے نچلے ترین طبقات تک پہنچانے کے لیے وقف کر دی۔ ان کی کوششوں سے ہندوستانی جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور سیاست زیادہ نمائندہ اور منصفانہ بنی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنے خط میں یہ بھی ذکر کیا کہ کئی برسوں سے دلت دانشور، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنما کانشی رام جی کو بھارت رتن دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ میں منعقدہ ایک پروگرام میں بھی اس مطالبے کو زور و شور سے دہرایا گیا جو وسیع عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانشی رام جی کو بعد از مرگ بھارت رتن دینا نہ صرف ان کی عظیم خدمات کو قومی سطح پر خراجِ تحسین پیش کرنا ہوگا بلکہ ان کروڑوں لوگوں کی امیدوں اور امنگوں کا بھی احترام ہوگا جو انہیں بااختیاری اور امید کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتوار کو سماجی مساوات کی تحریک کے رہنما کانشی رام کی پیدائش پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مسٹر کھڑگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ "عظیم سماجی مصلح کانشی رام جی نے دلتوں، محروموں، مظلوموں اور پسماندہ طبقات کو منظم کر کے انہیں ہندستانی سیاست کی مرکزی دھارا میں باعزت مقام دلانے کا تاریخی فریضہ انجام دیا۔ سماجی انصاف اور برابری کی جدوجہد میں ان کی خدمات ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔ ان کی پیدائش پر ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔” اسی طرح پرینکا گاندھی واڈرا نے اپنے پیغام میں کہا کہ "سماجی انصاف کے نظریے کے علمبردار اور دلت، محروم اور مظلوم طبقات کی مضبوط آواز مسٹر کانشی رام جی کی جینتی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں۔ کانشی رام جی نے اپنے نظریات اور تحریکوں کے ذریعے مساوات اور انصاف کے آئینی اصولوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی سوچ ہم سب کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔” کانشی رام کو دلت اور بہوجن تحریک کے اہم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ بہوجن سماج پارٹی کے بانی تھے، جنہوں نے دلتوں اور دیگر محروم طبقات کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے بہوجن تحریک کے لیڈر کانشی رام کو ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں سماجی انصاف کے چیمپئن اور دلتوں اور دیگر پسماندہ برادریوں کے لیے ایک مضبوط آواز کے طور پر یاد کیا ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانشی رام کی زندگی اور نظریات نے مساوات اور انصاف کے آئینی اصولوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے لکھا ، "سماجی انصاف کے نظریے کے علمبردار اور دلتوں ، پسماندہ اور مظلوموں کے لیے ایک طاقتور آواز ، مسٹر کانشی رام جی کے یوم پیدائش پر سلام اور قابل احترام خراج تحسین ۔” اپنے خیالات اور تحریکوں کے ذریعے کانشی رام جی نے مساوات اور انصاف کے آئینی اصولوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ۔ ان کے خیالات ہم سب کو ہمیشہ تحریک دیتے رہیں گے "۔ کانشی رام ، جو 1934 میں پنجاب میں پیدا ہوئے ، آزادی کے بعد ہندوستان میں دلت تحریک کے سب سے بااثر رہنماؤں میں سے ایک تھے ۔ انہوں نے بہوجن سماج پارٹی کی بنیاد رکھی اور پسماندہ برادریوں کو وسیع تر "بہوجن” شناخت کے تحت متحرک کرنے کے لیے کام کیا ، اور تاریخی طور پر پسماندہ گروہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی نمائندگی اور سماجی اختیار کاری کی وکالت کی ۔انہوں نے بیک ورڈ اینڈ مائنوریٹی کمیونٹیز ایمپلائز فیڈریشن (بی اے ایم سی ای ایف) اور بعد میں دلت شوشت سماج سنگھرش سمیتی (ڈی ایس-4) جیسی تنظیمیں بھی قائم کیں جنہوں نے دلتوں ، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے درمیان ایک وسیع تر سماجی و سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی ۔کانشی رام کی کوششوں نے شمالی ہندوستان میں دلت سیاست کی راہ کو نمایاں شکل دی۔












