نئی دہلی ،30مئی : منی پور میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ رہ رہ کر تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ امن و امان بحال کرنے کی کوششیں لگاتار ہو رہی ہیں، لیکن کچھ مقامات سے تشدد کی خبریں لگاتار آرہی ہیں۔ تشدد میں درجنوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ کشیدہ حالات کے درمیان ا?ج مرکزی حکومت نے متاثرہ کنبوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن مرکز کے ذریعہ منی پور معاملے پر فوری سرگرمی نہ دکھائے جانے سے اپوزیشن پارٹی کانگریس سخت ناراض ہے۔ ا?ج اس سلسلے میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور ایک اعلیٰ سطح جانچ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ سامنے رکھا۔منگل کے روز بوقت دوپہر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پارٹی لیڈران کے ایک وفد کے ساتھ نئی دہلی واقع راشٹرپتی بھون پہنچے اور منی پور کے موجودہ حالات پر صدر جمہوریہ کے سامنے اپنی بات رکھی۔ کانگریس لیڈران نے بعد میں بتایا کہ منی پور کے بگڑتے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے انھوں نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور انھیں ایک عرضداشت سونپی۔ کانگریس نے عرضداشت میں سپریم کورٹ کے موجودہ جج یا سبکدوش کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی جانچ کمیشن کی تشکیل سمیت 12 مطالبات رکھے ہیں۔دوسری طرف مرکزی اور منی پور کی ریاستی حکومت نے ریاست میں نسلی تشدد کے دوران ہلاک ہونے والوں کے کنبوں کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی فساد میں مرنے والوں کے کنبوں کے ایک رکن کو ملازمت دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ معاوضہ کی رقم مرکزی اور ریاستی حکومت یکساں طور پر برداشت کرے گی۔اس درمیان افسران نے بتایا کہ افواہوں کی وجہ سے ریاست میں لگاتار تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ جب بھی امن و امان قائم ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی غلط جانکاری دے کر بدامنی پھیلا دیتا ہے۔ اس لیے اب افواہ پھیلانے والوں پر شکنجہ کسنے کے لیے ایک ٹیلی فون نمبر بھی جاری کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔












