دہلی کے جنوبی علاقہ مہرولی میں پچھلے ایک ہفتہ سے ’ناجائز تجاوزات ‘کے خلاف بلڈوزر کارروائی گر چہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد آج پانچ دن بعدتھم گئی ہے ،لیکن جن لوگوں کے گھر اور دکانیںڈھا دی گئی ہیں ان کے گھراور آشیانے اجاڑ دئے گئے کہ وہ سڑکوں پر آگئے ،اب ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے ۔دہلی حکومت اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان لوگوںان سے سوال کررہے ہیں کہ بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جائے ،وہ بتائیں کہ ایسا کیوں کیاگیا، ہم اب کہاں جائیں گے اور ہمارا قصور کیا تھا !۔ ان کا سیدھا سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس سرکاری تمام دستاوویزا ور رجسٹری کے پیپرس موجود ہیں اورجن کا پیسہ حکومت کو ادا کیا جا چکا ہے ،وہ بجلی او ر پانی کے بلوں کی ادائیگی کی رسیدیں بھی موجود ہیں جن کے ادا نا کرنے پر حکومت بجلی کاٹ دینے کے نوٹس تھما دیا کرتی تھی !۔ اس کے باوجود ہمارے دکانوں اور گھروں کو غیر قانونی کیوں بتا دیا گیا؟۔غور طلب ہے کہ آج یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے تحت کی جارہی ہے جس کی تعمیل میں ڈی ڈی اے کو ئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا ۔متاثرہ لوگوںکا کہناہے کہ ان کے پاس ان گھروں کی تصدیق شدہ رجسٹری موجود ہے جسے ڈی ڈی اے نے پاس کیا تھا۔ متاثرین کا روتے ہوئے کہنا ہے کہ ہم اور ہاؤس ٹیکس ،پانی کا بل، ٹیکس ادا کرتے ہیں۔تو ڈی ڈی اے ہمارے گھر کیوں توڑ رہے ہیں۔غلط نہیں کہ مہرولی کے اس علاقہ کو جہاں یہ کارروائی جاری ہے ایک الگ منظر نامہ پیش کررہی ہے ۔ایک جانب افسران کان میں روئی ٹھونس کرانہدامی کارروائی میں لگے ہوئے ہیںتو وہیں متاثرین کی بھیڑ اور وہ لوگ جو اس کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں، بلدوزر کے پیچھے بھاگتے اور اس کو روکنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔کارروائی کے دوران کچھ لوگوں نے خو دکو گھروں میں بند کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ’’ بلڈوزر ہماری لاشوں کے اوپر سے گزرے گا‘‘۔جب خواتین نے عملہ کو روکنے کیلئے مبینہ طور سے مرچ پائوڈر پھینکنے کی کوشش کی تو اس کی پاداش میں 19کنبوں کو حراست میں لے لیا گیا۔اس دوران کئی لوگوں کے ہاتھوں میں مزاحمت کیلئے پتھردکھے تو کہیںآنکھوں میں چھلکتے آنسو !۔ لوگ سخت مشتعل اور ناراض تھے ۔ یہ لوگ محکمہ کے خلاف نعرے بازی ہی نہیں کررہے بلکہ کارروائی کو غلط اور ناجائز ٹھہرا رہے ہیںاور افسران و میڈیا کے اہلکاروں کو اپنی دلیل میں ریوینیو کے سرکاری مہر کے ساتھ وہ کاغذات بھی دکھا رہے ہیں جو ریوینیو کی جانب سے جاری کئے گئے تھے اور پوچھ رہے ہیں کہ اس وقت کوئی اعتراض کیوں نہیں کیا گیا ؟۔لوگوں کی شکایت ہے کہ انہیں بغیر کسی نوٹس اورانتباہ کے گھر سے باہر نکلا دیاگیا اور افسران پولس کی نفری کے ساتھ ان کے گھروں پربھوکے گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے اور انہیں منہدم کرنا شروع کردیا ۔ادھر انتظامیہ کا اس کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ لوگوں کو پہلے ہی نوٹس ریسیو کرایا جاچکا ہے اس کے بعد ہی کارروائی شروع کی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب کون صحیح ہے اور کون غلط۔ ا سکا فیصلہ عدالت کرسے گی ،لہذا16فروری تک عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے ۔قابل ذکر ہے کہ ابتک اس کارروائی میں کئی گھر اور کئی منزلہ عمارتیں و دکانیں گرائی جا چکی ہیں جبکہ جھونپڑ پٹی میں رہنے والوں کی کوئی گنتی نہیں ہے ۔مہرولی کے اس قضیہ کے بعد اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جس جگہ کو حکومت غیر قانونی طور سے قبضہ کی ہوئی زمین بتارہی ہے اس کا خیال اب کیسے آیا ۔ اس وقت محکمہ کہا ں سویا ہو اتھا جب لوگ جھولہ بھر بھر کر پیسہ ریوینیو کے دفتر میں ادا کر نے جایا کرتے تھے؟۔مہرولی میں انہدامی کارروائی کے تناظر میں یہ سوال کافی اہم ہوگیا ہے کہ جب غیر قانونی املاک کی رجسٹری کیوں اور کیسے کر دی گئی اور ایسا کس قانون کے تحت ہوا ہے ؟کیا کسی کو اس میںبد عوانی کی بو نہیں آتی ہے،کیا یہ رہائشی منصوبہ کا پورا معاملہ رشوت خورافسران کی طرف انگشت نمائی نہیں کرتا؟۔لوگوں کی شکایت بجا ہے کہ وہ شکایت کریں تو کس سے کریں اور فریاد لے کر کس کی عدالت میں جائیں؟در اصل سے سسٹم کی خرابی کہئے یا کام کا کوئی انوکھا طریقہ ،کہ جس املاک کو پہلے جائز ٹھہرا کر ریوینیو وصولا گیا ۔اب اسے غیر قانونی بتایا جارہا ہے ۔اور اس کا ٹھیکرا بی جے پی دہلی حکومت پر پھوڑدینا چاہتی ہے کود کو بچانا چاہتی ہے ۔بی جے پی کے الزامات بڑے بھونڈے لگتے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ دہلی کی جمہوری طور سے منتخب حکومت کے کام میں روز اول سے روڑے اٹکا کر عوام کو اس سے بدظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مہرولی میں تازہ کارروائی ایم سی ڈی میں اس کی شکست کے بعد کی بوکھلاہٹ کو اجاگر کرتی ہے ۔ حکومت کو اس مسماری کی جانب توجہ دینی چاہئے اور بدعنوانی کی گٹھری کو کھولنا چاہئے۔












