سید پرویز قیصر
راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹسٹ میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگ113 اوورمیں چھ وکٹ پر ڈکلیر کردی تھی۔ اتنے بڑے اسکور کے باوجود پاکستان کو اس ٹسٹ میں بنگلہ دیش نے دس وکٹ شکست دی۔ بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگ میں 167.3اوور میں565 رن بناکر 117 رن کی سبقت حاصل کرلی تھی۔ بنگلہ دیش کا یہ اسکور اسکا پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ اسکور تھا۔ دوسری اننگ میں پاکستان کے سبھی کھلاڑی55.5 اوور میں146 رن بناکر آوٹ ہوئے تھے اور بنگلہ دیش کا جیت کیلئے30 رن کا ہدف ملا تھا۔ اس نے6.3 اوور میں کسی نقصان کے بغیر یہ رن بناکر میچ دس وکٹ سے جیتا تھا جو اسکی وکٹوں کے اعتبار سے ٹسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی جیت ہے۔
پاکستان کا یہ اسکور پہلی اننگ میں ہار کیلئے بنایا گیا چھٹا سب سے بڑا اسکور تھا۔ اسی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف دسمبر2022 میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگ میں155.3 اوور میں579 رن بنانے کے باوجود شکست ہوئی تھی۔ اس ٹسٹ میں انگلینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 101 اوور میں657 رن بنائے تھے۔ دوسری اننگ اس نے35.5 اوور میں سات وکٹ پر264 رن بناکر ڈکلیر کردی تھی اور پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے343 رن کا ہدف دیا تھا۔ دوسری اننگ میں پاکستان کے سبھی کھلاڑی 96.3 اوور میں268 رن بناکر آوٹ ہوگئے تھے اور وہ یہ ٹسٹ74 رن سے ہارگئی تھی۔
آسڑیلیا کے خلاف ملبورن میں دسمبر 1972 میں کھیلے گئے ٹسٹ میچ میں آسڑیلیا کے پہلی اننگ کے اسکور 85.5 اوور میں پانچ وکٹ پر 441 رن کے جواب میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگ آٹھ بال والے 124.6 اوور میں آٹھ وکٹ پر 574 رن بناکر ڈکلیر کردی تھی۔ آسڑیلیا نے اپنی دوسری اننگ میں87.6 اوور میں425 رن بنانے کے بعد، پاکستان کو جیت کیلئے293 رن کا ہدف دیا تھا ۔پاکستان کے سبھی کھلاڑی دوسری اننگ میں57.5 اوور میں پورے دو سو رن بناکر آوٹ ہوئے جسکی وجہ سے آسڑیلیانے اس ٹسٹ میں92 رن سے جیت حاصل کرلی۔
لیڈز میں اگست 2006 میں ہوئے ٹسٹ میچ میںپاکستان کو پہلی اننگ میں بڑے اسکور کے باوجود شکست ہوئی تھی۔ انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگ میں 123 اوورمیں 515 رن بنائے تھے۔ پاکستان نے اپنی پہلی اننگ میں 141.4 اوور میں538 رن بنائے تھے اور پہلی اننگ کی بنیاد پر23 رن کی سبقت حاصل کرلی تھی۔ انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگ میں 88.3 اوور میں345 رن بنانے کے بعد پاکستان کو جیت کیلئے323 ر ن کا ہدف دیا تھا۔ دوسری اننگ میں پاکستان کے سبھی کھلاڑی47.5 اوور میں155 رن بناکر آوٹ ہوئے تھے جسکی وجہ سے وہ 167 رن سے ٹسٹ ہارگئی تھی۔
اسی سریز کے چوتھے ٹسٹ میچ میں جو اوول میں کھیلا گیا تھا، پاکستان نے پہلی اننگ میں پانچ سو سے زیادہ رن بنائے مگر پھر بھی اسے شکست ہوئی ۔ اس کو یہ شکست دوسری اننگ میں کھیلنے کے انکار کے بعد ملی تھی۔ انگلینڈ کو پہلی اننگ میں53.2 اوورمیں173 رنپر آوٹ کرنے کے بعد پاکستان نے اپنی پہلی اننگ میں129.5 اوور میں504 رن بنائے تھے۔ انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگ میں 72 اوور میں چار وکٹ پر 298 رن بنائے تھے۔چوتھے دن چائے کے وقفہ کے بعد امپائر ڈاریل ہیر نے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگاتے ہوئے انگلینڈ کو پنالٹی کے پانچ رن دیئے۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے میچ میں اگے کھیلنے سے انکار کردیا۔اس میچ میں ٹیکنکلی طور پر انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا گیا۔
سری لنکا کے خلاف گول میں اگست 2014 میں ہوئے ٹسٹ میچ میں پاکستان کو سات وکٹ سے شکست ہوئی تھی باوجود اسکے کہ اس نے پہلی اننگ میں140.5 اوور میں451 رن بنائے تھے۔ اس ٹسٹ میں سری لنکا نے اپنی پہلی اننگ 163.1 اوور میں نو وکٹ پر533 رن بناکر ڈکلیر کردی تھی۔ پاکستان کے سبھی کھلاڑی دوسری اننگ میں80.2 اوور میں180 رن بناکر آوٹ ہوگئے تھے۔ سری لنکا کو میچ جیتنے کیلئے99 رن بنانے تھے۔ اس نے16.2 اوور میں تین وکٹ پریہ رن بناکر کامیابی اپنے نام کی تھی۔












