دیوبند ،سماج نیوز سروس: نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جیور) کے افتتاح کے بعد ریاست میں فضائی خدمات کے تعلق سے سیاست گرم ہو گئی ہے اور خاص طور پر سرساوہ ایئرپورٹ کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل افتتاح کے باوجود اب تک یہاں سے ایک بھی پرواز شروع نہیں ہو سکی، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی پالیسیوں پر سوال کھڑے کیے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ سات نئے ایئرپورٹس میں سے چھ بند پڑے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ دیگر ایئرپورٹس کی حالت بھی عوام کے سامنے لائے۔ اب اس معاملے میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے بھی بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرساوہ ایئرپورٹ کا افتتاح ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے، مگر اب تک یہاں کوئی فلائٹ شروع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ محض افتتاح کر دینا ترقی نہیں کہلاتا، جب تک عوام کو اس کا عملی فائدہ نہ پہنچے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی اہم اسکیم ‘اْڑے دیش کا عام ناگرک’ کے تحت20 اکتوبر 2024 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی سے سرساوہ ایئرپورٹ کا ورچوئل افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر وارانسی، کشی نگر، ہنڈن، مرادآباد اور گورکھپور کے لیے فضائی خدمات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم یہ تمام منصوبے اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے ہیں۔ ادھر اپوزیشن کے بیانات کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ ضلع میں بی جے پی کے وزرائاور عوامی نمائندوں کی خاموشی بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔












