کشتی فیڈریشن کے سابق چئیر مین اور بی جے پی ایم پی برج بھوشن سنگھ بنام خواتین پہلوانوں کا معاملہ آگ کی طرف پھیلتا جا رہا ہے ۔آج پورا ملک حیرت زدہ ہے کہ آخر اتنے سنگین الصامات کے باوجود بی جے پی اپنے اس ایم پی کو بچانے کی جدو جہد کیوں کر رہی ہے ؟عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ برج بھوشن سنگھ کو پارٹی سے نکال کر پولیس کے حوالے کرنے سے ایک خاص کمیونیٹی بی جے پی مخالف ہو جائیگی اس لئے بی جے پی اسے بچا رہی ہے ۔کچھ لوگ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد بھی قرار دے رہے ہیں ۔لیکن ان سب سے الگ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی جس تنظیم سے گائیڈ ہوتی ہے وہ ملک کو ہمدو راشٹرا بنانے کی راہ پر آگے بڑھ رہی ہے ،اور ہندو راشٹرا کے نقشہ میں خواتین کی حیثیت کسی جانور سے زیادہ نہیں ہے جس سے جنسی خواہشات کی تکمیل کی جائے اور اس کے بطن سے اولاد حاصل کیا جائے تاکہ مرد کی نسل آگے بڑھ سکے ۔ایسے میں ہر ایک شعبہ میں مردوں سے زیادہ خواتین کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ گروہ خوف زدہ ہے اور وہ انہیں ایک بار پھر گھروں کی چہار دیواری کے پیچھے دھکیلنے کی اپنی سی کوشش میں مصروف ہے ۔ایسے میں برج بھوشن سنگھ کی حرکت کو وہ اپنے مشن کے ایجنڈے کے طور پر فطری حرکت سمجھ رہے ہیں ۔معاملہ پہلوانوں کا نہیں بلکہ خواتین پہلوانوں کا ہے ،جو بڑی مشکل حالات میں دیہی معاشرے سے نکل کر ضلعی سطح سے لے کر قومی سطح تک خود کو تسلیم کروانے کے بعد بین الاقوامی میڈل حاصل کرتی ہیں ۔اور اپنے آپ کو ایک رول میڈل کے طور پر پیش کر کے اپنے بعد کی نسل کو یہ ترغیب دیتی ہیں کہ اب دنیا بدل چکی ہے اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنی صنفی نزاکت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی ہوا نکال سکتی ہیں ۔لیکن اسی جگہ آ کر وہ مرد اساس سماج کی آنکھوں میں کھٹک جاتی ہیں اور وہ انہیں زک پہنچانے کی تاک میں لگ جاتے ہیں ۔ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی تفصیل جس طرح سامنے آئی ہے ،اس کو دیکھ کر کون سا باپ یا بھائی ،ماں یا بہن ہوگی جو اپنی پھول سی بچیوں کو ان درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ؟ برج بھوشن سنگھ کی جو حرکتیں آج کے انڈین ایکسپریس نے ان لڑکیوں اور ایک نابالغ لڑکی کے والد کی جانب سے دائر دو ایف آئی آر کے حوالے سے شائع کی ہے ،اسے پڑھنے کے بعد صاف ہو جاتا ہے کہ برج بھوشن سنگھ کو بچانے کی سرکاری کوشش کے پیچھے کسی بڑی قوت کا ہاتھ ضرور ہے جس کی بنیاد میں مرد اساس سماج کی شیطانی ذہنیت بھی ہے ۔برج بھوشن سنگھ کی اس کارستانی کو اس کی ذاتی حرکت پر بھی محمول کیا جا سکتا تھا اگر سرکار فورا اس معاملے کی تحقیق کرتی اور اس ممبر آف پارلیامنٹ کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنی پارٹی سے نکال باہر کرتی۔اور پولیس کے حوالے کرتی ۔لیکن ہوا یہ کہ مہینوں کی جدوجہد کے بعد جب تک سپریم کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کے لئے دہلی پولیس سے نہیں کہا دہلی پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے بھی گریز کرتی رہی ۔اور جب ایف آئی درج بھی کیا تو ایسے کہ برج بھوشن تو آزاد گھومتا رہا اور پولیس نے اس سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جبکہ ان خواتین پہلوانوں کو ہراساں کرتی رہی اور بالاخر انہیں جنتر منتر سے اٹھا کر کچرے کی طرح باہر پھینک دیا ۔اور یہ ساری کارروائی اس دن ہوئی جب جنتر منتر سے محض ایک کیلو میٹر دور نئے پارلیامنٹ کی عمارت کا افتتاح ہو رہا تھا اور اس تقریب میں برج بھوشن سنگھ خود بھی موجود تھا ۔
بھارت کی سیاسی تاریخ میں ایسا دیدہ دلیر اور بے شرم ملزم کبھی نہیں دیکھا گیا جو اتنے سنگین الزامات کے باوجود ہر روز ان لڑکیوں کو چیلنج کر رہا ہو ۔رام کی نگری مانے جانے والے اجودھیا نگری سے مارچ نکالنے کی تیاری کر رہا ہو اور یہ دعوی کر رہا ہو کہ ملک کا پورا سادھو سماج ہمارے ساتھ ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں عورتوں کو دیوی مان کر پوجا جاتا ہو اور کہا جاتا ہو کہ رام کے ساتھ سیتا ،کرشن کے ساتھ رادھا ،شنکر کے ساتھ پاروتی کا نام لئے بغیر کلیان نہیں ہو سکتا ۔اسی دیش میں خواتین کی ایسی تذلیل ہو رہی ہے لیکن بھارتیہ سنسکرتی اور سبھیتا کی دہائی دینے والی سرکار کو شرم نہیں آ رہی ہے ۔
آج ملک میں رہنے والا ہر شہری کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ ان مظلوم لڑکیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس پر ظلم ڈھانے والے کو بچانے والی سرکار کے ساتھ ۔ان پہلوان خواتین کو انصاف نہ ملنے کا مطلب ہے کہ مستقبل میں اسپورٹس کے جملہ شعبوں سمیت کسی بھی میدان میں لڑکیوں کو آگے بڑھنے کے پہلے اپنی عفت و عصمت کے خوف سے آزاد ہونا ہوگا ۔کیونکہ اس سرکار نے ہر شعبہ میں نہ جانے کتنے برج بھوشنوں کو لا کر بٹھا دیا ہے جو عورتوں کو بھوگ ولاس کی سامگری کے سوا کچھ اور سمجھنے کو تیار نہیں ۔
ڈھول ،گنوار ،شدر ،پشو ناری
یہ سب تارن کے ادھیکاری












