
ذیابیطس غیر مواصلاتی یعنی پھیلنے والی بیماری نہیں ہے ۔ مگر پھر بھی بھارت میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ مشہور عالمی ہیلتھ جنرل لین سیٹ میں شائع حالیہ تحقیق کے مطابق بھارت میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں ہی شوگر کے 44 فیصد معاملوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ مدراس ڈیابیٹیز ریسرچ فاونڈیشن کی صدر ڈاکٹر موہن انجنا کہتی ہیں کہ یہ صورتحال کسی ٹائم بم جیسی ہے ۔ مرکزی وزارت صحت کے اعداد اور زیادہ فکرمند کرنے والے ہیں ۔ یہ بتاتے ہیں کہ 13.6 کروڑ لوگ پری ذیابیطس کے مرحلہ میں ہیں ۔ ان میں سے 60 فیصد کے اگلے پانچ سال میں شوگر کی زد میں آنے کا امکان ہے ۔ آئی سی ایم آر – آئی این ڈی آئی اے بی کے سروے میں 11.4 فیصد آبادی ذیابیطس سے متاثر پائی گئی ۔ بیس سال سے زیادہ عمر کے 15.3 فیصد لوگوں میں ڈیابیٹیز کی ابتدائی علامات دکھائی دیں ۔ قریب ایک دہائی تک چلے اس سروے میں ہر ریاست کے 20 سال سے اوپر والے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا گیا تھا ۔ یہ اعداد عالمی ادارہ صحت کے تخمینہ سے کہیں زیادہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے لوگوں کی معمول زندگی اور کھانا پینا اتنا خراب ہو چکا ہے کہ ملک ذیابیطس کی راجدھانی بننے کی حالت میں پہنچ چکا ہے ۔ حالانکہ عالمی سطح پر ہر گیاہواں شخص شوگر کی بیماری سے متاثر ہے، لیکن بھارت میں اس کی رفتار زیادہ ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ مرض وباء کی شکل اختیار کر رہا ہے ۔
عام بول چال میں شوگر کی بیماری کہا جانے والا یہ مرض اب مالدار و شہری لوگوں کا مرض نہیں رہا بلکہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں تیزی سے پاؤں پھیلا رہا ہے ۔ جو بتاتا ہے کہ ہماری زندگی میں مشقت کی اہمیت لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے ۔ جسم میں گلوکوز کی مقدار بڑھنے سے شوگر کا مرض ہوتا ہے ۔ شروع میں اس کی پہچان کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ 70 فیصد معاملوں میں ذیابیطس کی علامات نا کے برابر دکھائی دیتی ہیں ۔ صرف تیس فیصد معاملوں میں اشاروں سے پتا لگایا جا سکتا ہے کہ شوگر ہونے والی ہے یا پری ڈیابیٹیز کنڈیشن ہے ۔ پری ذیابیطس میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کا بلڈ شوگر لیول معمول سے زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے زمرے میں شامل کیا جا سکے ۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے ڈیابیٹک ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ پری ذیابیطس کا کوئی معاملہ ڈیابیٹیز میں شامل ہوگا یا نہیں اور ہوگا تو کتنے وقت میں، اسے لے کر یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ماہرین عام طور پر مانتے ہیں کہ ایسے ایک تہائی معاملے ڈیابیٹیز میں شامل ہو جاتے ہیں ۔
مزید ایک تہائی معاملے پری ذیابیطس کے زمرے میں رہتے ہیں، جبکہ آخری ایک تہائی معاملوں میں طرز زندگی میں تبدیلی اور اس طرح کے دیگر اقدامات سے بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ اگر پری ذیابیطس کے ایک تہائی معاملے بھی ذیابیطس میں بدل گئے تو اگلے چند سالوں میں صحت کے محاذ پر ایک سنگین چیلنج پیدا ہو سکتا ہے ۔ ملک میں ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریض گوا 26.4 فیصد، پڈوچیری 26.3 اور کیرالہ میں 25.5 فیصد ہیں ۔ سب سے کم معاملے اترپردیش میں 4.8 فیصد پائے گئے ۔ لیکن یہاں 18 فیصد آبادی پری ذیابیطس کی کیٹگری میں ہے ۔ مدھیہ پردیش، بہار اور اروناچل پردیش جیسی ریاستوں میں بالترتیب پری ڈیابیٹک (ٹائپ 1) مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جسے بڑی عمر کا مرض کہا جاتا تھا اب وہ نوجونوں کو بھی اپنی گرفت میں لے رہا ہے ۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ذیابیطس ایک سائلینٹ کلر کی طرح ہے ۔ اس کے مریضوں کو گردے کی بیماری ہونے سمیت ہارٹ اٹیک، ہارٹ اسٹروک و آنکھوں کی بیماری ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔
ذیابیطس کے پھیلاؤ سے گردے کے مریضوں کی تعداد میں اضافے جیسے حالات کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔ ایسے مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے ملک میں ڈائیلاسز مشینوں کی نہ صرف کمی ہے بلکہ یہ زیادہ تر شہری مراکز تک ہی محدود ہیں ۔ پھر ڈائیلاسز کی سہولت زیادہ خرچیلی ہونے کی وجہ سے گردے کے زیادہ تر مریضوں کو میسر نہیں ہو پاتی ۔ جہاں کہیں ایسی خدمات این جی اوز یا دیگر فلاحی تنظیمیں مفت یا کم قیمت پر فراہم کر رہی ہیں وہ غیر معیاری، بے قاعدہ اور ناکافی ہیں ۔ حال ہی میں، حکومت کیرالہ کی طرف سے ریاست میں گردے کے مریضوں کو مفت ڈائیلاسز سروس فراہم کرنے کے لئے ایک اسکیم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت اسے ہر ضلع میں کم از کم ایک بڑے صحت مرکز میں شروع کیا جانا ہے ۔ یہ قدم نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ دیگر ریاستوں کے لئے بھی مثالی ہے ۔ مرکزی وزارت صحت کو ریاستوں کے ساتھ مل کر شوگر کو کنٹرول کرنے کی پہل کرنی چاہئے ۔ ساتھ ہی ڈائیلاسز کی سہولیات چھوٹے قصبات میں مہیا کرانے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ غریب مریضوں کے لئے بھی آسانی ہو جائے ۔
سوال ہے کہ ذیابیطس کا مرض ہوتا کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ معمولات زندگی میں مصنوعیت، آرام طلبی کی عادت، سستی، ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی، تناؤ اور کھانے کی عادات کا بدلنا ہے ۔ جسمانی مشقت کی کمی نے اس بیماری کے پھیلنے میں مدد کی ہے ۔ جسمانی حرکیات شوگر کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتی ۔ ہمارا جسم خون میں موجود شوگر کو استعمال کرکے اسے توانائی میں بدل دیتا ہے ۔ لیکن اگر پینکریاز انسولن ہارمون کے ذریعہ گلوکوز کو جذب نہیں کرتا تو یہ مرض پیدا ہوتا ہے ۔ مگر زیادہ تر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ پری ذیابیطس (ٹائپ 1) کی حالت میں ہیں ۔ اگر یہ علامات دکھائی دیں تو شوگر کی جانچ کرانی چاہئے ۔ پسینا زیادہ آنا، جلدی جلدی پیشاب کرنا، زیادہ پیاس لگنا، بار بار بھوک لگنا، تھکان جلدی ہونا، وزن میں گراوٹ، ہاتھ پیروں میں جھن جھنی، چشمے کا نمبر جلدی بدلنا یا پھر زخم بھرنے میں وقت کا لگنا ۔ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ شوگر ہونے کے پیچھے یہ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ ان ہیلدی معمول زندگی، موٹاپا، تناؤ، ہائی بلڈ پریشر، انسولن کی کمی، ہائی کولسٹرول لیول، ورزش نہ کرنے کی عادت، ہارمون میں عدم توازن، کھانے پینے کی عادتیں اور خاندان میں کسی کا ڈیابیٹک ہونا ۔
ذیابیطس تین طرح کی ہوتی ہے ۔ ٹائپ – 2 اس میں مریض کا شوگر لیول خالی پیٹ 126 سے زیادہ اور کھانے کے دو گھنٹہ بعد 200 سے زیادہ ہوتا ہے ۔ اسے کنٹرول کرنے کے لئے دوائی یا انسولن کا انجکشن لینے کے ساتھ معمول زندگی اور ڈائٹ میں تبدیلی لانا ضروری ہے ۔ ٹائپ – 1 یعنی پری ذیابیطس میں شوگر لیول خالی پیٹ 110-126 کے بیچ اور کھانے کے دو گھنٹہ بعد 140-200 کے بیچ ہوتا ہے ۔ اسے ورزش، ڈائٹ اور روز مرہ کی زندگی کے معمول کو تبدیل کرکے کنٹرول کر سکتے ہیں ۔ تیسری قسم جیسٹیشنل (gestational) ذیابیطس ہے ۔ یہ حمل کے دوران ہونے والی ہائی بلڈ شوگر کا مسئلہ ہے ۔ تمام ہی صورتوں میں ڈاکٹر کی صلاح ضروری ہے ۔ لیکن اس وقت ملک کی جو صورتحال ہے اس میں ذیابیطس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر اب بھی نہیں سنبھلے تو یہ وباء ملک کی بڑی آبادی کو اپنے آغوش میں لے سکتی ہے ۔
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی