نئی دہلی، خواتین ریسلرس کا جنتر منتر پر دھرنا جاری ہے اور جیسے جیسے وقت گذررتا جا رہا ہے ان پہلوانوں کے ہمدردوں کی بھی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔گذشتہ روز جنتر منتر پر کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت بھی پہنچے اور انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں ان مظاہرین کو میڈیا اور پولس انتظامیہ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ جسمانی طور پر بھلے ہی جنتر منتر پر میں نہ رہوں لیکن پورے ملک کے کسان ان مظاہرین کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر ریسلرس سے کہا کہ اس جگہ کو چھوڑنے کی غلطی مت کرنا اس وقت تک جب تک تمہارے مطالبات پر صد فیصد عمل نہ ہو جائے ۔کل ملا کر جنتر منتر پر مرکزی حکومت کے خلاف ایک اور بڑے مظاہرے کے خدو خال ابھرنے لگے ہیں ۔اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب سپریم کورٹ کے حکم پر کشتی فیڈریشن کے صدر اور بی جے پی کے ممبر پارلیامنٹ برج بھوشن سنگھ کے خلاف دہلی دہلی پولس نے ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے لیکن کسی کارروائی کی کوئی خبر نہیں ہے ۔جو ان پہلوان لڑکیوں کے غم و غصے کو مزید ہوا دے رہا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان لڑکیوں نے بی جے پی کے لیڈر پر جسمانی ہراسانی کا الزام لگا رکھا ہے اور سات لڑکیوں میں ایک لڑکی نابالغ بھی ہے جس سے پاکسو ایکٹ بھی شامل ہو جاتا ہے تو پھر اس لیڈر کی گرفتاری کیوں نہیں ہورہی ہے ۔حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کو بھی تیار نہیں ہے ۔اور پوری سرکار اس مسلے پر پوری طرح خاموش ہے جبکہ ملزم لیڈر مسلسل میڈیا پر بیانات دے رہا ہے ۔اور اب تو اس نے یہ دھمکی بھی دے دی ہے کہ میرے خلاف ایکشن ہوتے ہی میرے لوگ میدان میں اترجائیں گے۔یعنی وہ براہ راست سرکار اور انتظامیہ سمیت پورے نظام کو چیلنج کر رہا ہے ۔اس سے سب سے بڑا سوال یہ کھڑا ہو رہا ہے کہ کیا اس ملک میں قانون و انتظامیہ کی بالا دستی پوری طرح ختم ہو چکی ہے ؟ گذشتہ روز سپریم کورٹ سے بھی ایک ایسی ہی خبر آئی۔ دراصل سپریم کورٹ میں گجرات فساد کے دوران فسادیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونے والی بلقیس بانو نے اپنی درخواست گذاری ہے کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے اور اس کی دودھ پیتی بچی سمیت سات اہل خانہ کو جن لوگوں نے وحشیانہ انداز میں مار ڈالا تھا اور عدالت نے ان لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی چند ماہ پہلے گجرات حکومت نے انہیں اچھے چال چلن کی وجہ سے جیل سے باہر نکال لیا ۔بلقیس بانو کا کہنا ہے کہ میری پوری زندگی تباہ کرنے والوں کو اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ دینا میرے ساتھ نا انصافی ہے اور سپریم کورٹ اس سلسلے میں کیس کی شنوائی کر رہی ہے لیکن گجرات سرکار اور اس کی پولس اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا تعاون کرنے کی جگہ اسے گول گول گھما رہی ہے ۔جس سے پریشان ہوکر بلقیس بانو کے کیس کی شنوائی کرنے والے بنچ کے حوالے سے جو خبر آئی ہے وہ حیرت انگیز بھی ہے اور تشویشناک بھی ۔
خبر کے مطابق بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ نے منگل کو کہا – ظاہر ہے کہ وہ (یہاں وہ کا مطلب گجرات سرکار اور اس کی انتظامیہ بھی ہے اور مرکزی سرکار بھی )نہیں چاہتے کہ ہم اس معاملے کی سماعت کریں۔ منگل کو عدالت نے 2002 کے فسادات کی شکار بلقیس بانو کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔ درخواست گجرات حکومت کی جانب سے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے 11 افراد کی رہائی کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس کے. ایم جوزف اور بی۔ وی ناگرتنا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ درحقیقت، عدالت اس بات پر ناراض نظر آئی کہ مدعا علیہان اس معاملے میں تاخیر کے لیے طرح طرح کی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، جسٹس جوزف کے ریمارکس اس وقت آئے جب کچھ مجرموں کے وکلاء نے طریقہ کار سے متعلق مسائل اٹھائے۔ ان وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ابھی تک نوٹس نہیں دیا گیا۔ وکلاءبلقیس پر عدالت میں ’سنگین فراڈ‘ کا الزام بھی لگایا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق جسٹس کے. ایم جوزف نے کہا’’میرے خیال میں یہ آپ پر واضح ہونا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے… میرے لیے مسئلہ یہ ہے کہ میں 16 جون کو ریٹائر ہو رہا ہوں… یہ واضح ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم اس معاملے کو سنیں۔ یہ واضح سے زیادہ ہے‘‘۔سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواستوں کی اگلی سماعت 9 مئی کو کی جائے گی، لیکن صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ہاؤس کیپنگ کی رسمی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت چھٹی کے بعد ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی گرمیوں کی چھٹیاں 20 مئی سے شروع ہو رہی ہیں۔اس رپورٹ سے بھی عدالت عالیہ کی بے بسی صاف صاف جھلکتی ہے کہ کس طرح نوکر شاہی کو سرکار نے اپنی مدافعت کا ٹول بنا لیا ہے اور سارے نظام پر اس کی گرفت اتنی پختہ ہےکہ انصاف کا سب سے بڑا مندر بھی بے دست وپا ہوبکر رہ گیا ہے ۔












